03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مختلف الفاظ سے طلاق کا حکم (جاؤکر لو شادی،تم آزادہو)
87566طلاق کے احکامالفاظ کنایہ سے طلاق کا بیان

سوال

ہم اپنی ازدواجی زندگی سے متعلق چند اہم گزارشات آپ کی خدمت میں پیش کر رہے ہیں، تاکہ ہماری ازدواجی زندگی شریعتِ مطہرہ کے مطابق قائم رہ سکے۔

 پہلا واقعہ (تقریباً چار سال قبل): تقریباً چار سال قبل ایک گھریلو تنازع کے دوران، بیوی کے بار بار کے اصرار، چیخ و پکار اور دباؤ کی کیفیت میں، شوہر نے شدید جذباتی ماحول میں کہا: ہاں، میں تمہیں طلاق دیتا ہوں ، اس وقت شوہر کی نیت طلاق دینے کی ہرگز نہ تھی، بلکہ محض بحث و جدال ختم کرنے کے لیے یہ الفاظ ادا کیے گئے۔

 اس کے بعد ہم نے باقاعدہ اور شرعی طریقے سے رجوع کر لیا، اور ازدواجی زندگی معمول کے مطابق جاری رہی۔

دوسرا واقعہ: ایک  اور جھگڑے کے دوران، بیوی کے بار بار اصرار اور سخت لہجے کے ردعمل میں شوہر نے کہا: ہاں، جاؤ کر لو شادی ، شوہر کو اس وقت معلوم نہ تھا کہ یہ جملہ بھی طلاق کے دائرے میں آ سکتا ہے، نیت طلاق کی ہرگز نہ تھی، بلکہ صرف جھگڑے کا اختتام مطلوب تھا، اس کے بعد ہم معمول کے مطابق ساتھ رہتے رہے۔

تیسرا واقعہ (حال ہی میں):  ایک حالیہ بحث میں، بیوی نے ناراضگی اور جذباتی کیفیت میں کہا: آپ مجھے آزاد کہہ دیں، تاکہ میں جاب کر سکوں یا باہر جا سکوں ، تو شوہر نے کہا: ٹھیک ہے، تم آزاد ہو ، یہ الفاظ بھی بیوی کے  سخت غصے اور بار اصرار  کی وجہ سے کہے گئے ۔ شوہر کی طلاق دینے کی ہرگز نیت نہ تھی، بلکہ صرف اس بحث کو ختم کرنا مقصود تھا۔ شوہر کو اس وقت معلوم نہیں تھا کہ یہ الفاظ بھی بعض اوقات طلاق کے الفاظ سمجھے جا سکتے ہیں۔

نیت کی وضاحت:ہر موقع پر شوہر کی نیت صرف وقتی جھگڑا ختم کرنا تھی، طلاق دینے کی نیت ہرگز نہیں تھی۔ہم دونوں نہ اُس وقت علیحدگی چاہتے تھے اور نہ اب چاہتے ہیں، بلکہ ہم شرعی رہنمائی کے ساتھ اپنی ازدواجی زندگی جاری رکھنا چاہتے ہیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

  پہلے واقعے میں جو طلاق واقع ہوئی تھی، اس کے بعد زوجین کا رجوع کرنا شرعاً درست تھا، اور اس رجوع کے بعد شوہر کے پاس دو طلاقوں کا اختیار باقی رہا۔

دوسرے واقعے میں   شوہر کے الفاظ"ہاں، جا ؤ ،کر لو شادی"سے اگر حقیقتاً شوہر کی نیت طلاق کی نہیں تھی ،تو اس سے طلاق واقع نہیں ہوئی۔

 البتہ  اگر یہ الفاظ بیوی کے طلاق کے مطالبے کے  جواب میں  بولے  گئے ہیں ، تو ان سے ایک طلاقِ بائن واقع ہو ئی ۔

طلاقِ بائن کے بعد رجوع کی صورت یہ ہے کہ شوہرگواہوں کی موجودگی میں نئے مہرکے ساتھ دوبارہ نکاح کرے ، اس صورت میں شوہر کے پاس صرف ایک طلاق کا اختیا ر باقی رہے گا۔

اسی طرح تیسرے واقعے میں شوہر نے جو الفاظ استعمال کیے "ٹھیک ہے، تم آزاد ہو"، ان کے بارے میں اصولی حکم یہ ہے کہ یہ الفاظ اگر حالت غضب میں بولے گئے ہوں ،  اور  کلام کے سیاق و سباق میں طلاق کی نیت کے برخلاف کوئی قرینہ موجود نہ ہو،  تو ایسے الفاظ سے، خواہ نیت نہ بھی ہو، طلاقِ بائن واقع ہو جاتی ہے۔

البتہ  سوال میں مذکورہ صورت میں بیوی کا یہ کہنا کہ "آپ مجھے آزاد کہہ دیں، تاکہ میں جاب کر سکوں یا باہر جا سکوں" یہ ایک واضح قرینہ ہے جو طلاق کے وقوع کے خلاف دلالت کرتا ہے، لہٰذا اس تیسرے واقعے میں طلاق واقع نہیں ہوئی۔

یاد رہے کہ  نکاح ایک مقدس   رشتہ ہے،زوجین کو چاہیے کہ ایک دوسرے کے حقوق کا  خیال  رکھیں اور اس طرح کے الفاظ کی ادائیگی سے مکمل اجتناب کریں۔

حوالہ جات

المبسوط للسرخسي (6/ 143):

(قال): ولو قال لامرأته: ‌اذهبي ‌فتزوجي، فإن كان نوى طلاقا فهو طلاق، وإن نوى ثلاثا فثلاث، وإن نوى واحدة فواحدة بائنة، وإن لم يكن له نية فليس بشيء؛ لأن كلامه محتمل فلا يتعين معنى الطلاق فيه إلا بالنية.

الدر المختار:

(كنايته) عند الفقهاء (ما لم يوضع له) ‌أي ‌الطلاق (‌واحتمله) ‌وغيره (ف) - الكنايات (لا تطلق بها)

قضاء (إلا بنية أو دلالة الحال) وهي حالة مذاكرة الطلاق أو الغضب، فالحالات ثلاث: رضا وغضب ومذاكرة، والكنايات ثلاث: ما يحتمل الرد، أو ما يصلح للسب، أو لا ولا۔

(فنحو اخرجي واذهبي وقومي) تقنعي تخمري استتري انتقلي انطلقي اغربي اعزبي من الغربة أو من العزوبة (يحتمل ردا، ونحو خلية برية حرام بائن) ومرادفها كبتة بتلة (يصلح سبا، ونحو اعتدي واستبرئي رحمك،

أنت واحدة، أنت حرة، اختاري، أمرك بيدك، سرحتك فارقتك، لا يحتمل السب والرد۔

ففي حالة الرضا) أي غير الغضب والمذاكرة (تتوقف الاقسام) الثلاثة تأثيرا (على نية) للاحتمال، والقول له بيمينه في عدم النية، ويكفي تحليفها له في منزله۔

(وفي الغضب) توقف (الاولان) إن نوى وقع وإلا لا (وفي مذاكرة الطلاق) يتوقف (الاول فقط) ويقع بالاخيرين وإن لم ينو.

حسن علی عباسی

دارالافتاء جامعۃ الرشید،کراچی

19/ذی قعدہ 1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

حسن علی عباسی ولد ذوالفقار علی عباسی

مفتیان

محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب