| 87567 | وقف کے مسائل | مسجد کے احکام و مسائل |
سوال
ہماری مسجد میں پودینہ لگا ہوا ہے اور تمام مقتدی اسے توڑ کر لے جاتے ہیں۔ کیا اس کا استعمال کرنا جائز ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اگر پودینہ لگانے والے نے عام لوگوں کے استعمال کے لیے لگایا ہو، تو مقتدی اسے توڑ کر لے جا سکتے ہیں۔لیکن اگر یہ پودینہ مسجد کی آمدنی کے لیے لگایا گیا ہویا لگانے والے کی نیت معلوم نہ ہو، تو اسے فروخت کر کے اس کی قیمت مسجد کے مصارف میں صرف کرنا ضروری ہے۔ مسجد میں اس کی قیمت ادا کیے بغیر اس کا استعمال جائز نہیں ہوگا۔
حوالہ جات
حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي (4/ 432):
غرس في المسجد أشجارا تثمر إن غرس للسبيل فلكل مسلم الأكل وإلا فتباع لمصالح المسجد.
حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي(4/ 432):
قوله: إن غرس للسبيل) وهو الوقف على العامة بحر (قوله: وإلا) أي وإن لم يغرسها للسبيل بأن غرسها أو لم يعلم غرضه بحر عن الحاوي، وهذا محل الاستدلال على قوله الظاهر أنه إذا لم يعلم شرط الواقف لم يأكل.
حضرت خُبیب
دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی
21/ذی قعدہ 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | حضرت خبیب بن حضرت عیسیٰ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


