03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مدرسے کے طلبہ سے قربانی کے گوشت کی قیمت وصول کرنا
87573قربانی کا بیانقربانی کے متفرق مسائل

سوال

ہمارے معاشرے میں بہت سی قربانیاں ہوتی ہیں اور ان کا گوشت غریبوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ بعض لوگ قربانی کا گوشت دینی مدارس کو عطیہ کرتے ہیں۔ مدرسہ اس گوشت کو محفوظ رکھتا ہے اور سال بھر طلبہ کے لیے پکا کر کھلاتا ہے۔ واضح رہے کہ طلبہ کھانے کے لیے ماہانہ ایک مخصوص رقم ادا کرتے ہیں۔ اس صورتِ حال میں سوال یہ ہے کہ: شرعی نقطۂ نظر سے کیا مدرسہ کی  انتظامیہ کے لیے قربانی کا گوشت طلبہ کو کھلانا، اور مہینے کے آخر میں ان سے پوری رقم وصول کرنا جائز ہے یا نہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

چونکہ لوگ مدرسہ میں قربانی کا گوشت  طلبہ کے لیے بھیجتے ہیں ،اس لیے   طلبہ سےقربانی کے گوشت کی قیمت لیناجائز  نہیں ،لہذا جن دنوں میں مدرسہ میں قربانی کا گوشت بنتا ہے، اس دن  روٹی اور کھانے کے دوسرے اخراجات  مثلاً مصالحہ جات اور پکوائی وغیرہ کے بقدر خرچہ  وصول کیا جاسکتا ہے۔

حوالہ جات

النهاية في شرح الهداية - السغناقي (23/ 18 بترقيم الشاملة آليا):

وأما في لحم الأضحية: لو أراد أن ‌يبيع ‌لحم ‌الأضحية ليتصدق بثمنها ليس له ذلك، وليس في اللحم إلا أن يطعم [أو] يأكل، فصار حاصل الجواب في الجلد أنه {لو باعه بشيء ينتفع بعينه يجوز، و} لو باعه بشيء لا ينتفع به إلا بعد استهلاكه لا يجوز، وفي اللحم لا يجوز أصلا؛ سواء باع بشيء ينتفع به أو باعه بشيء لا ينتفع به إلا بعد استهلاكه.

المحيط البرهاني (6/ 95):

ولو أراد بيع لحم الأضحية ليتصدق بثمنها؛ ليس له ذلك؛ ليس له في اللحم إلا أن يطعم، أو يأكل؛ هكذا ذكر في «الأجناس» .


                                                                      

   ارسلان نصیر

دارالافتاء ،جامعۃ الرشید ،کراچی

  22 /ذی قعدہ/1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

راجہ ارسلان نصیر بن راجہ محمد نصیر خان

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب