| 87617 | غصب اورضمان”Liability” کے مسائل | متفرّق مسائل |
سوال
فریق اول اور دوم آپس میں رشتہ دار ہیں، یہ دونوں وراثتی کاروبار میں شریک تھے، تقریباً بارہ سال اکٹھے کاروبار کرنے کے بعد ان کے درمیان اختلاف ہو گیا اور کاروبار علیحدہ کرنے کا طے کر لیا، بعض لوگوں نے بیچ میں آکر ان کے کاروبار کو فریقین کے درمیان تقسیم کر دیا، کاروبار میں دکانیں، پراپرٹی اور گاڑیاں وغیرہ شامل تھیں، ایک فریق نے اگلے دن فرم خالی کرنا تھی، لیکن اس نے ایک آدمی نیاز محمد سے بات کی کہ مجھے دو ماہ کا وقت دے دیا جائے، تاکہ اس مدت کے دوران میں پھلوں کا سیزن(موسم) پورا کر لوں، جب دوسرے فریق خیر محمد سے بات کی گئی تو اس نے کہا ٹھیک ہے میں اس کو تین مہینے کا وقت دیتا ہوں۔
کچھ وقت گزرنے کے بعد مخالف پارٹی کورٹ چلی گئی کہ ہمارا بٹوارہ کورٹ کرے گی، اس کا خیر محمد کو بالکل علم نہیں تھا، اس پر سارے رشتہ دار جو پہلے بٹوارے میں موجود تھے، سب کورٹ گئے کہ یہ بٹوارہ ہمارے سامنے ہوا ہے، لہذا فریقِ مخالف جھوٹا ہے، چنانچہ کورٹ نے ان گواہوں کے بیان کے مطابق خیر محمد کے حق میں فیصلہ کر دیا کہ دوسرے فریق کا دعوی جھوٹا ہے اور کیس خارج کر دیا گیا، پھرمخالف پارٹی سیشن کورٹ گئی، اس نے بھی پہلے والی سول کورٹ کے مطابق فیصلہ کیا، پھر وہ ہائی کورٹ چلے گئے، ہائی کورٹ نے بھی وہی فیصلہ بحال رکھا کہ فرم خالی کرو،پھر اس نے دوبارہ ہائی کورٹ میں نظرثانی کی درخواست دائر کی، جس کو اب تک تقریباً پندرہ سال گزر چکے ہیں، لیکن فرم ابھی تک خالی نہیں کی، سوال یہ ہے کہ اس بارے میں شریعت کیا کہتی ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورتِ مسئولہ میں جب فریقین نے باہمی رضامندی سے آپس میں کاروبار تقسیم کر لیا،جس پر فریقین کے رشتہ دار بطور گواہ بھی موجود تھے، پھر ایک فریق کے باربارعدالت سے رجوع کرنے پر تین عدالتوں نے آپس میں کیے گئے سابقہ فیصلے کو برقرار رکھا، اس سے معلوم ہوا کہ ہر فریق کو کاروبار کی تقسیم کے نتیجے میں اپنا شرعی حق مل چکا ہے، کیونکہ اگر اس میں کوئی کمی بیشی ہوتی تو عدالت فریقین کا موقف سننے کے بعد دوبارہ فیصلہ کرتی یا کم از کم ثالث مقرر کر کے دوبارہ نئے سرے سے فریقین کے درمیان کاروبارتقسیم کرنے کا حکم دیتی، لیکن جب تینوں عدالتوں نے ایسا نہیں کیا تو اب ایک فریق کا پندرہ سال سے ہائی کورٹ میں نظرثانی کی اپیل کر کے اس فرم پر قبضہ جمائے رکھنا اور اس سے نفع اٹھاتے رہنا ہرگز جائز نہیں، لہذا اس پر لازم ہے کہ وہ جلد از جلد فرم خالی کر کے دوسرے فریق خیر محمد کے سپرد کرے، ورنہ وہ سخت گناہگار ہو گا اوروہ اس وقت تک مسلسل گناہ میں مبتلا رہےگا جب تک وہ فرم کالی کر کے دوسرے فریق کے حوالے نہیں کر دیتا۔یاد رہے کہ قرآن وحدیث میں کسی کا نا حق مال دبانے پر سخت وعیدیں آئی ہیں، چنانچہ ایک حدیث میں وارد ہے:
من ظلم من الأرض شيئا طوقه من سبع أرضين»
صحيح البخاري (3/130)
ترجمہ: وہ شخص جو کسی کی زمین کے کچھ حصہ پر ناجائز قبضہ کرے تو اللہ تعالی قیامت کے دن اس کو سات زمینوں کا طوق بنا کر اس کے گلے میں ڈالیں گے۔
حوالہ جات
۔۔۔۔
محمد نعمان خالد
دارالافتاء جامعۃ الرشیدکراچی
26/ذوالقعدة 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد نعمان خالد | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


