| 87757 | شرکت کے مسائل | شرکت سے متعلق متفرق مسائل |
سوال
میں ایک کنسٹرکشن کمپنی رجسٹرڈ کروانا چاہتا ہوں، اس کیلئے مجھے کیپیٹل چاہئے ، جس کیلئے میں نے طریقہ کار یہ سوچا ہے کہ:
میرا بیٹا عثمان جو اپنی خالہ کے پاس رہتا ہے ، اور اس خالہ نے عثمان کیلئے ایک پلاٹ خریدا ہے، جو ڈاکومنٹس میں اس کے (خالہ یعنی میری سالی) کے نام پر ہے ۔ وہ لوگ اس بات پر آمادہ ہیں کہ میں وہ پلاٹ بیچ کر اس کے پیسوں سے اپنے اور اپنے بیٹے عثمان کے نام پر ایک کنسٹرکشن کمپنی رجسٹرڈ کرواؤں۔ مجھے درج ذیل امور کے متعلق شرعی رہنمائی درکار ہے کہ:
1)مذکورہ صورت میں پلاٹ میرے بیٹے کی ملکیت ہے یا اس کی خالہ کی؟
2)اگر خالہ کی ہے تو ان سے اگر پیسے لیکر کمپنی میں انوسٹ کروں تو شراکت کس کی شمار ہوگی، میرے بیٹے کی یا اس کی خالہ کی؟
3)اگر میرے بیٹے کی ملکیت ہے ، اور ساری انویسٹمنٹ اس کی طرف سے ہو تو کمپنی میں میری حیثیت کیا ہوگی ؟
4)اگر میں اپنا سرمایہ بھی ساتھ شامل کروں تو منافع طے کرنے کے اصول کیا ہے ؟
5)اگر میں ان سے آدھا سرمایہ قرض لیکر اس میں انوسٹ کروں ، اور آدھا ان کا ہو ، تو کیا شرعاً یہ جائز ہے ؟
6)اگر جائز ہے، منافع کی تقسیم کرنے کی کیا صورت ہوگی؟ جبکہ میں شریک عامل ہوں گا اور میرا بیٹا سلیپنگ پارٹنر ہوگا۔
تنقیحات:سائل نے فون پر صراحت کی ہے کہ پلاٹ کی مالک بچے کی خالہ ہے۔
بچہ بالغ ہوچکا ہے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
(1)تنقیح کے مطابق پلاٹ لڑکے کی خالہ کی ملکیت میں برقرار ہے تو پلاٹ خالہ کی ملکیت ہی شمار ہوگا۔
(2)پہلے سوال کے جواب کے مطابق پلاٹ چونکہ لڑکے کی خالہ کی ملکیت میں ہے،لہٰذا پلاٹ بیچ کر اس کی رقم بطور شراکت کے بھی لڑکے کی خالہ کی طرف سے شمار ہوگی۔
(3) پہلے سوال کے جواب کے مطابق پلاٹ آپ کے بچے کی ملکیت میں نہیں ہے۔دوسری بات یہ کہ سوال کے مطابق پیسوں کی ضرورت فقط کمپنی رجسٹرڈ کروانے کے لیے ہے،نہ کہ باقاعدہ کاروبار کرنے لیے یعنی کوئی چیز خرید کر آگے بیچنے یا کسی چیز کو تیار کرنے کے لیے خام مال خریدنے اور پھر چیز تیار کرکے آگے بیچنے کے لیے نہیں ہے،جبکہ کمپنی شریعت کی نظر میں مال ہے اور مال میں شرکت کے لیے تمام شرکاء کی طرف سے سرمایے میں شرکت ہونی چاہیے،لہٰذا مذکورہ بزنس میں شریک بننے کے لیے آپ اپنی طرف سے بھی سرمایہ کاری کریں۔جب آپ کی طرف سے بھی سرمایہ کاری ہوگی تو آپ دونوں مذکورہ کاروبار میں شریک (Partner) سمجھے جائیں گے۔
(4)اگر کاروبار میں سرمایہ فریقین میں سے ہر ایک کی طرف سے ہو تو شرعی اصطلاح کے مطابق اسے شرکت کہا جاتا ہے۔شرکت میں نفع کی تعیین کا بنیادی اصول یہ ہے کہ کام کرنے والے شریک کے لیےشرکاء کی رضامندی سے نفع کا کچھ بھی فیصد مقرر کرسکتے ہیں اور غیر عامل یعنی کام نہ کرنے والے سلیپنگ پارٹنر کے لیے اس کے سرمایے کے تناسب سے زیادہ نفع مقرر کرنا جائز نہیں ہے۔
نیزسوال نمبر پانچ اور چھ میں مذکور تفصیل سے یہ معلوم ہورہا ہے کہ آپ کے عقد میں سرمایہ فریقین میں سے ہر ایک کی طرف سے برابر لگایا جائے گا اور عمل یعنی کاروبار کرنے کی شرط آپ پر ہوگی اور دوسرا شریک کوئی کام نہیں کرے گا،لہٰذا مذکورہ اصول یعنی"مال میں شرکت کے ساتھ عمل کسی ایک پر مشروط ہوتو ایسی صورت میں شریک عامل (کام کرنے والے شریک)کے لئےسرمایہ کے تناسب سے زائد نفع کی شرط لگانا جائز ہے ، اور غیر عامل کے لئے سرمایہ کے تناسب سے زائد نفع کی شرط لگانا جائز نہیں" کی پابندی ضروری ہے۔
اس کے علاوہ نفع کی تعیین کے حوالے سے یہ بھی ضروری ہے کہ شرکاء کے نفع کی مقدار کو مشاع یعنی فیصدی حصے کے طور پر اس طرح طے کیا جائے کہ کوئی ایک فریق بالکلیہ نفع سےمحروم نہ ہو۔مثلاً یوں طے کیا جائے کہ جو کچھ نفع اس کاروبار سے حاصل ہوگا ،اس میں سے پچاس فیصد میرا اور پچاس فیصد تمہارا یا ساٹھ فیصد میرا اور چالیس فیصد تمہارا،ایسی صورت میں اگر ایک روپیہ بھی نفع ہوا تو وہ بھی طے شدہ نفع کے تناسب سے تقسیم ہوجائے گا اور کوئی ایک فریق بھی بالکلیہ نفع سے محروم نہیں رہے گا۔
(5)جی جائز ہےاور مذکورہ کاروبار میں شرکت قائم کرکے نے لیے یہ ضروری ہے کہ سرمایہ دونوں شرکاء کی طرف سے ہو، البتہ مذکورہ معاملے کی واضح لکھت پڑھت کا انتظام لازمی کیا جائے تاکہ بعد میں نزاع نہ ہو،اس کی ترتیب یوں بھی رکھی جاسکتی ہے کہ پہلے مالک سےباقاعدہ اجازت لے کر پلاٹ بیچا جائے، حاصل ہونے والی رقم مالک کے حوالے کی جائے،پھر اس کی اجازت سے قرض لیا جائے اور اس قرض پر باقاعدہ قبضہ بھی کیا جائے،پھر بطور سرمایہ کاری الگ سے پیسے لیے جائیں اورپارٹنرشپ کنٹریکٹ کی مکمل تفصیلات کے ساتھ عقد کیا جائے،وغیرہ
(6)اگر معاہدہ میں کسی شریک کے بارے میں یہ طے ہو جائے کہ وہ کاروبار میں عملا حصہ نہیں لے گا تو ایسے شریک کے لئے نفع کا حصہ اس کے سرمایہ کے تناسب Ratio of Capital)) سے زیادہ نہیں رکھا جا سکتا ، البتہ اس کے سرمایہ کے تناسب سے کم رکھا جا سکتا ہے، لیکن جس شریک کو عمل اور محنت سے اس طرح مستثنی ( Exempt) نہ کیا گیا ہو تو اس کے لئے آپس کی رضا مندی کے ساتھ نفع کا کوئی بھی فیصدی حصہ طے کیا جا سکتا ہے، خواہ اس کے لگائے ہوئے سرمایہ کے تناسب سے زیادہ ہو یا کم ہو۔ اس بات کو مثال کے ذریعے یوں سمجھا جاسکتا ہے کہ اگر زید اور عمر نے ایک لاکھ کا سرمایہ ملا کر کاروبار شروع کرنے کا تہیہ کر لیا اور سرمایہ دونوں کا برابر ہو یعنی ہر ایک نے پچاس ہزار روپے کا روبار کے سرمایہ میں شامل کئے ہوں ، نیز ساتھ فریقین کی مرضی سے یہ بھی طے ہوا ہو کہ زید ( کسی بھی وجہ سے ) کاروبار میں عملا حصہ نہیں لے گا ، تو اس صورت میں زید کے لئے اس کے لگائے ہوئے سرمایہ کے تناسب ( یعنی پچاس فیصد سے زیاد نفع کا تناسب نہیں طے ہو سکتا ، بلکہ پچاس فیصد یا اس کم کوئی فیصدی حصہ طے کرنا ضروری ہوگا، البتہ عمر اپنے سرمایہ کے تناسب کا پابند نہ ہوگا بلکہ اس کے لئے کوئی بھی تناسب طے کیا جاسکتا ہے، لہٰذا عمر کے لئے جیسا کہ نفع کا پچاس فیصد یا اس سے کم طے کیا جا سکتا ہے تو اسی طرح پچاس فیصد سے زیادہ بھی طے کیا جا سکتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کسی شخص کو جب کوئی نفع ملتا ہے تو اس کے پیچھے اس کا کوئی سرمایہ یا محنت شامل ہوتی ہے، اب اس مذکورہ صورت میں زید نے چونکہ صرف سرمایہ شامل کیا ہے کوئی محنت اس کی طرف سے نہیں ہے، لہٰذا سرمایہ کے تناسب سے اس کے لئے نفع کا جو حصہ بنتا ہے، اگر اس سے زیادہ اس کو دیا جائے گا تو یہ کسی بنیاد کے بغیر کسی کو نفع دینے کی صورت ہوگی، جو کہ درست نہیں ، اس کے برعکس عمر نے اس کا روبار میں سرمایہ کے علاوہ محنت بھی شامل کی ہے، لہٰذا اسے اگر اس کے سرمایہ کے تناسب سے زیادہ دیا جائے گا تو وہ اضافی مقدار اس کی محنت کی وجہ سے ہوگی ، بے بنیاد نہ ہو گی ۔(آسان فقہ المعاملات:مفتی محمد حسین خلیل خیل صاحب دامت برکاتہم)
حوالہ جات
الفتاوى الهندية (4/ 378)
لا يثبت الملك للموهوب له إلا بالقبض هو المختار، هكذا في الفصول العمادية.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (5/ 645)
المضاربة:(هي) لغة مفاعلة من الضرب في الأرض وهو السير فيها، وشرعا (عقد شركة في الربح بمال من جانب) رب المال (وعمل من جانب) المضارب.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (4/ 305)
وحكمها(شرکۃ العقد) الشركة في الربح.
مجلة الأحكام العدلية (ص: 258)
الفصل الرابع: في بعض الضوابط المتعلقة بعقد الشركة
المادة (1345) يتقوم العمل بالتقويم , أي أن العمل يتقوم بتعيين القيمة،ويجوز أن يكون عمل شخص أكثر قيمة بالنسبة إلى عمل شخص آخر. مثلا إذا كان رأس مال الشريكين في شركة عنان متساويا وكان مشروطا عمل كليهما فإذا شرط لأحدهما حصة زائدة في الربح جاز ، لأنه يجوز أن يكون أحدهما أكثر مهارة من الآخر في البيع والشراء وعمله أزيد وأنفع.
محمد حمزہ سلیمان
دارالافتا ء،جامعۃالرشید ،کراچی
03.ذوالحج1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد حمزہ سلیمان بن محمد سلیمان | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


