| 87775 | قصاص اور دیت کے احکام | متفرق مسائل |
سوال
کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
موٹر کار میں سوار دیگر تین چار افراد خود ڈرائیور کو اس حرکت پر اُکساتے ہیں، اور کہتے ہیں کہ: ’’گھماؤ، ہمیں کچھ نہیں
ہوتا، اگر گر بھی جائیں تو کوئی پروا نہیں،‘‘ اور نتیجتاً گاڑی الٹ جائے اور تمام افراد ہلاک ہو جائیں، تو ان کے اس عمل کی شرعی حیثیت کیا ہوگی؟ کیا یہ بھی خودکشی کے زمرے میں آئے گا؟
ایسی صورت میں ڈرائیور، جو خود بھی اس خطرے سے واقف ہوتا ہے اور جان بوجھ کر ان کے کہنے پر یہ حرکت کرتا ہے، اس کا شرعی حکم کیا ہوگا؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
جو افراد ڈرائیور کو اُکسا رہے ہیں، وہ بھی گناہِ کبیرہ کے مرتکب ہیں، کیونکہ وہ جانتے بوجھتے ایک ہلاکت خیز فعل کی ترغیب دے رہے ہیں۔ اگر وہ خود ہلاک ہو جائیں تو یہ بالواسطہ خود کو ہلاکت میں ڈالنا ہے، جو گناہ ہے، مگر خودکشی نہیں۔
ڈرائیور چونکہ اپنی مرضی سے گاڑی چلا رہا ہے، اگرچہ دوسروں کے کہنے پر، تو اصل ذمہ داری اسی پر عائد ہوگی۔ اگر سب مر جائیں تو ڈرائیور کا یہ عمل بھی قتلِ خطا میں آئے گا۔ بے احتیاطی کے گناہ کے ساتھ ساتھ اس قتل میں دیت اور کفارہ بھی لازم ہوگا، اور اگر ڈرائیور بچ جائے تو اسے تعزیری سزا بھی دی جا سکتی ہے([1] )۔
[1] موٹر وہیکل آرڈیننس 1965 (Motor Vehicle Ordinance 1965):،پاکستان پینل کوڈ (PPC) کی دفعہ 279۔
حوالہ جات
وفی بحوث فی قضایافقھیة معاصرة (1/331)
فان کان سائق السیارہ متعدیافی سیرہ بمخالفة قواعد المرور،مثل ان یسوق السیارة بسرعة غیرمعتادة فی مثل ذلک المکان ،او لم یلتزم بخطہ فی الشارع ،وماالی ذلک من قواعد المرورالأخری فلاخفاء فی کونہ ضامنا،لأن الضرورانمانشاء بتعدیہ والمتعدی ضامن فی کل حال.
وفیہ أیضا(1/310):
إذا اجتمع المباشروالمتسبب وکل واحد منھا متعدفاالضمان علی المباشرأیضا.
سیدحکیم شاہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید
05/ذی الحجہ1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید حکیم شاہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


