| 87819 | جائز و ناجائزامور کا بیان | جائز و ناجائز کے متفرق مسائل |
سوال
آج کل مصنوعی ذہانت یا AI کا زمانہ ہےاور یہ ٹیکنالوجی اس وقت عروج پرہے۔ کیا ہم اس ٹیکنالوجی کے ذریعے جانداروں کی ویڈیوز بنا کر یوٹیوب پر اپلوڈ کرسکتے ہیں؟ ان میں ایسی ویڈیوز بھی ہوتی ہیں جن میں جانور جیسے کی بلی کو انسان کی طرح دو پیروں پر چلتے، کپڑے پہنتے اور بالکل انسان کی طرح زندگی جیتے دکھایا جاتا ہے۔ کیا ہم ایسی ویڈیوز اپلوڈ کر سکتے ہیں جن میں خدا کی قدرت کے خلاف کچھ دکھایا گیا ہو؟ مثلاً کسی جانور کا انسان کی زندگی جینا، پہاڑ وغیرہ کا چلنا اور باتیں کرنا وغیرہ۔ کیا ہم اس کے ذریعے جانداروں کا ، انسانوں کا اور دوسری چیزوں کے کارٹون بنا کر اپلوڈ کر سکتے ہیں؟ ان کارٹونوں میں آواز بھی ہوتی ہے اور جاندار انسانی آواز(مرد اور عورت دونوں کی آوازوں ) میں بات بھی کرتے ہیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ اے آئی(AI) سے تصاویر، ویڈیوز یا کارٹون بنوانا جائز ہےبشرطیکہ وہ موسیقی، بے حیائی، یا دیگر شرعی ممنوعات پر مشتمل نہ ہوں۔ اگر ان میں موسیقی کا استعمال کیا جائے یا وہ کارٹون ایسے ہوں جن میں عریانیت، فحاشی، یا غیر محرم کی تصاویر شامل ہوں، تو ان کا بنوانا ناجائز ہے۔
اس تمہید کے بعد واضح رہے کہ اگر آپ اے آئی (AI) کے ذریعے ایسے کارٹون یا ویڈیوز تیار کروائیں جن میں نہ موسیقی ہو، نہ بے حیائی یا غیر محرم کی تصاویر، نہ ہی کوئی اور شرعی ممنوع پہلو پایا جائے، شکل بگاڑنے سے بھی اجتناب برتا جائے اورفرضی آوازیں ادا کروائی جائیں، تو ایسی ڈیجیٹل تخلیقات بنوانا شرعاً جائز ہے، بشرطیکہ ان کا مقصد کسی شرعی ضرورت یا معتبر دینی یا دنیوی مصلحت پر مبنی ہو۔ نیز یہ بات بھی ملحوظ رہے کہ یہ اجازت صرف ڈیجیٹل استعمال تک محدود ہے، ایسی تخلیقات کو پرنٹ کرنا جائز نہیں۔
حوالہ جات
تكملة فتح الملهم (4 / 162):
أما التلفزون و الفديو فلا شك في حرمة استعمالهما بالنظر إلى ما يشتملان عليه من المنكرات الكثيرة من الخلاعۃ والمجون ، والکشف عن النساء المتبرجات او العاریات ، و ما الی ذلک من اسباب الفسوق ،ولکن ھل یتاتی فیھما حکم التصویر بحیث اذا کان التلفزیون او الفیدیو خالیا من ھذہ المنکرات باسرھا ، ھل یحرم بالنظر الی کونہ تصویرا؟ فان لھذا العبد الضعیف ۔عفااللہ عنہ۔ فیہ وقفۃ : وذلک لان الصورۃ المحرمۃ ما کانت منقوشۃ او منحوتۃ بحیث یصبح لھا صفۃ الاستقرار علی شیء ،وھی الصورۃ التی کان الکفار یستعملونھا للعبادہ ،أما الصورة التي ليس لها ثبات و استقرار و ليست منقوشة على شيئ بصفة دائمة فانها بالظل اشبه منها بالصورة و يبدوا أنَّ صورة التلفزون و الفديو لا تستقر على شيئ في مرحلة من المراحل.
ارسلان نصیر
دارالافتاء ،جامعۃ الرشید ،کراچی
27 /ذی الحج/1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | راجہ ارسلان نصیر بن راجہ محمد نصیر خان | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


