| 87790 | ہبہ اور صدقہ کے مسائل | کئی لوگوں کو مشترکہ طور پرکوئی چیز ہبہ کرنے کا بیان |
سوال
ایک شخص نے زندگی میں اپنی تمام جائیداد اپنے بیٹوں کے نام کروا دی، اس میں سے بیٹیوں کو کچھ حصہ نہیں دیا، بیٹوں نے والد کی زندگی میں تمام جائیداد پر قبضہ بھی کر لیا تھا،البتہ ان میں سے ایک مکان میں والد صاحب کی رہائش بھی تھی اور انہوں نے اسی حالت میں مکان ہبہ کیا ہے اور اسی مکان میں ان کا انتقال ہوا تھا، اب بیٹیوں کی اولاداپنی ماؤں کے حصوں کا مطالبہ کر رہی ہیں، کیا ان کی اولادکے لیے اپنی ماؤں کے حصوں کا مطالبہ کرنا درست ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
بطورِ تمہید جاننا چاہیے کہ زندگی میں آدمی کااپنی اولاد کو کوئی جائیداد دینا شرعی اعتبار سے وراثت نہیں، بلکہ یہ ہبہ (ہدیہ،گفٹ) کہلاتا ہے، اس میں عدل وانصاف کے تقاضے پورے کرنا ضروری ہے، جس کی بہتر صورت یہ ہے کہ تمام اولاد کو برابر حصہ دیا جائے یا کم از کم بیٹیوں کو بیٹوں کی بنسبت آدھا حصہ دیا جائے، لہذا زندگی میں اپنی مکمل جائیداد بغیر کسی شرعی وجہ کے بعض اولادکودینا جائز نہیں، کیونکہ اس میں دیگر اولاد کو محروم کرنا لازم آتا ہے، جس کی شریعت اجازت نہیں دیتی۔لہذا صورتِ مسئولہ میں شخصِ مذکور کا اپنی تمام جائیداد صرف بیٹوں کو دے کر بیٹیوں کو محروم کرنا خلافِ شرع اور ناجائز تھا، جس کی وجہ سے یہ شخص گناہ گار ہوا ہے۔
سوال کاجواب یہ ہے کہ جو جائیداد والد نے ہبہ کر کے اولاد کو باقاعدہ اس کا قبضہ بھی دے دیا تھا تو اولاد اس کی شرعاً مالک بن گئی، لہذا اب بہنوں کی اولاد کا اس جائیداد پر حق کا دعوی کرنا جائز نہیں ہے۔ البتہ وہ مکان جس میں والد صاحب کی رہائش تھی اگر اس میں ان کے استعمال کا سامان جیسے کپڑے اور چارپائی وغیرہ اور دیگر چھوٹا بڑا سامان بھی موجودہو تو اس صورت میں یہ ہبہ درست نہیں ہوا،اگرچہ وہ مکان قانونی طور پر بیٹوں کے نام کر دیا ہو، کیونکہ یہ مکان واہب یعنی ہبہ کرنے والے کی ملکیت کے ساتھ مشغول تھا، جس کی وجہ سے شرعا اس مکان پر قبضہ مکمل نہیں ہوا اور قبضہ نہ ہونے کی وجہ سے ہبہ کا معاملہ شرعی طور پر مکمل اور مافذ نہیں ہوتا اور وہ چیز بدستور واہب کی ملکیت میں برقرار رہتی ہے، لہذا یہ مکان شخص مذکور کی وفات کے بعد ان کے تمام ورثاء میں ان کے شرعی حصوں کے مطابق تقسیم ہو گا اور اس مکان میں بیٹیوں کی اولاد کا اپنی ماؤں کے حصہ کا مطالبہ کرنا درست ہے، اسی طرح اگر اس مکان کے علاوہ بھی کوئی ایسی جائیداد ہو جس پر اولاد کو شرعی قبضہ نہ دیا گیا ہوتو وہ بھی شرعاً ہبہ درست نہ ہونے کی وجہ سے شخص مذکور کی ملکیت شمار ہو گی اور اس کی وفات کے بعد وراثت سمجھی جائے گی، جس میں اس کی بیٹیوں کا بھی شرعی حصہ ہو گا، جو ان بیٹیوں کے سپرد کرنا لازم ہے، ورنہ یہ بیٹے اللہ تعالیٰ کے ہاں سخت گناہ گار ہوں گے، جس کا نتیجہ آخرت میں بھی بھگتنا پڑ سکتا ہے۔
حوالہ جات
لسان الحكام (ص: 371) لابن الشِّحْنَةالثقفي الحلبي– القاهرة:
نوع الأفضل في هبة الابن والبنت التثليث كالميراث وعند أبي يوسف رحمه الله تعالى التنصيف وهو المختار ولو وهب جميع ماله من ابنه جاز وهو آثم نص عليه محمد رحمه الله تعالى ولو خص بعض أولاده لزيادة رشده فلا بأس به وإن كانوا سواء في الرشد لا يفعله.
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (6/ 127) دار الكتب العلمية، بیروت:
(وأما) كيفية العدل بينهم فقد قال أبو يوسف العدل في ذلك أن يسوي بينهم في العطية ولا يفضل الذكر على الأنثى وقال محمد العدل بينهم أن يعطيهم على سبيل الترتيب في المواريث للذكر مثل حظ الأنثيين كذا ذكر القاضي الاختلاف بينهما في شرح مختصر الطحاوي وذكر محمد في الموطإ ينبغي للرجل أن يسوي بين ولده في النحل ولا يفضل بعضهم على بعض.وظاهر هذا يقتضي أن يكون قوله مع قول أبي يوسف وهو الصحيح لما روي أن بشيرا أبا النعمان أتى بالنعمان إلى رسول الله - صلى الله عليه وسلم - فقال إني نحلت ابني هذا غلاما كان لي فقال له رسول الله - صلى الله عليه وسلم - أكل ولدك نحلته مثل هذا فقال لا فقال النبي- عليه الصلاة والسلام - فأرجعه وهذا إشارة إلى العدل بين الأولاد في النحلة وهو التسوية بينهم ولأن في التسوية تأليف القلوب والتفضيل يورث الوحشة بينهم فكانت التسوية أولى ولو نحل بعضا وحرم بعضا جاز من طريق الحكم؛ لأنه تصرف في خالص ملكه لا حق لأحد فيه إلا أنه لا يكون عدلا سواء كان المحروم فقيها تقيا أو جاهلا فاسقا على قول المتقدمين من مشايخنا وأما على قول المتأخرين منهم لا بأس أن يعطي المتأدبين والمتفقهين دون الفسقة الفجرة۔
البحر الرائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (5/ 44) دار الفكر - سوريَّة – دمشق:
لا يجوز لأحد من المسلمين أخذ مال أحد بغير سبب شرعي.
مجلة الأحكام العدلية (ص: 312) نور محمد، كارخانه تجارتِ كتب، آرام باغ، كراتشي:
المادة (1591) إذا أضاف المقر به إلى نفسه في إقراره يكون قد وهبه للمقر له , ولا يتم ما لم يكن هناك تسليم وقبض .
محمد نعمان خالد
دارالافتاء جامعۃ الرشیدکراچی
29/ذوالحجہ1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد نعمان خالد | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


