| 87894 | ذکر،دعاء اور تعویذات کے مسائل | رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود وسلام بھیجنے کے مسائل ) درود سلام کے ( |
سوال
مسجد میں حلقہ لگا کردن اور وقت مقرر کرکے (خاص کر جمعہ کی عشاَ کے بعد) درود شریف پڑھنے کا کیا حکم ہے؟ جہراً اور سرا کی بھی وضاحت فرما دیجیے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ شریعت کی اصطلاح میں بدعت کہتے ہیں: ” دین میں کسی بھی ایسے کام کی کمی یا زیادتی کرناجس کا ثبوت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم،حضراتِ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم ، تابعین اور تبعِ تابعین رحمہم اللہ تعالی میں سے کسی سے بھی نہ ہو ، بالخصوص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے کرنے کی اجازت منقول نہ ہو، نہ قولا، ًنہ فعلاً، نہ صراحتاً، نہ اشارۃً، اور اس کو دین اور ثواب کا کام سمجھ کر کیا جائے“۔
درود شریف پڑھنا نہایت بابرکت اور باعثِ سعادت عمل ہے، خصوصاً جمعہ اور شبِ جمعہ کو اس کی بڑی فضیلت احادیث سے ثابت ہے۔ تاہم اگر درود کو کسی مخصوص ہیئت، مثلاً حلقہ بنا کر، مخصوص وقت مقرر کر کے یا کسی خاص انداز سے پڑھنے کو لازم سمجھا جائے ، یا اس ہیئت کو زیادہ ثواب کا ذریعہ تصور کیا جائے اور جو شخص اس انداز کو اختیار نہ کرے اسے ملامت کیا جائے، تو یہ عمل بدعت شمار ہوگا۔ اسی طرح، درود و ذکر کی مجلس کے لیے اشتہار دے کر لوگوں کو جمع کرنا درست نہیں ہے۔
تاہم اگر چند افراد محض ترغیب، شوق اور عبادت کی فضا قائم کرنے کے لیے، بغیر کسی اعلان، اشتہار یا تداعی (یعنی لوگوں کو بلانے) کے، ازخود درود و ذکر کے لئے جمع ہو جائیں اور اسے لازم و ضروری اور دین کا مستقل طریقہ یا زیادہ ثواب کا ذریعہ سمجھے بغیر، آہستہ یا مناسب آواز میں درود شریف پڑھیں تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں، یہ جائز ہے، بشرطیکہ اس میں ریاکاری یا دوسروں کو ایذا نہ ہو۔
حوالہ جات
«صحيح البخاري» (2/ 959):
«عن عائشة رضي الله عنها قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: (من أحدث في أمرنا هذا ما ليس فيه فهو رد).»
«فتح الباري» لابن حجر (13/ 253 ط السلفية):
«والمراد بها: ما أحدث، وليس له أصل في الشرع، ويسمى في عرف الشرع بدعة. وما كان له أصل يدل عليه الشرع فليس ببدعة، فالبدعة في عرف الشرع مذمومة،»
«شعب الإيمان» (3/ 111 ت زغلول):
«عن ابن عباس قال: سمعت نبيكم صلى الله عليه وسلم يقول أكثروا الصلاة على نبيكم في الليلة الغراء واليوم الأزهر ليلة الجمعة ويوم الجمعة»
«السنن الكبير» للبيهقي (6/ 450 ت التركي):
«عن أنس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "أكثروا الصلاة علي يوم الجمعة وليلة الجمعة، فمن صلى علي صلاة صلى الله عليه عشرا".»
«كنز العمال في سنن الأقوال والأفعال - ط الرسالة» (1/ 489):
«2142 – "أكثروا من الصلاة علي في يوم الجمعة وليلة الجمعة فمن فعل ذلك كنت له شهيدا وشافعا يوم القيامة". (هب) عن أنس.»
مہیم وقاص
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
3/محرم الحرام 1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | مہیم وقاص بن حافظ عبد العزیز | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


