| 87822 | شرکت کے مسائل | شرکت سے متعلق متفرق مسائل |
سوال
ہماری کمپنی میڈیکل کے شعبے سے متعلق مشینوں کا کاروبار کرتی ہے۔کمپنی کے پاس مختلف بین الاقوامی کمپنیوں کی ڈیلر شپ ہے۔کمپنی مختلف حکومتی ٹینڈرز میں شرکت کرتی ہے۔ کسی ٹینڈر میں شرکت کرنے کے لیے طریقہ کار یہ ہے کہ پہلے ایک متعین رقم (آرڈر کی کل مالیت کا ۱ یا ۲فیصد) بطور سیکیورٹی(Bid Security or Earnest Money) کے حکومتی ادارے کو جمع کروائی جاتی ہے۔اس رقم کا بینک کے ذریعے متعلقہ ادارے کے نام پے آرڈریا سی ڈی آر وغیرہ بنوایا جاتا ہے۔ اس کے بعد تقریباً دو ماہ میں آرڈر ملنے یا نہ ملنے کا فیصلہ ہوتا ہے۔ اگر آرڈر نہ ملے تو یہ رقم بعینہ واپس مل جاتی ہے۔ اگر آرڈر مل جائے تو جتنی مالیت کا آرڈر ملا ہے اس کا ۵ فیصد پرفارمنس بانڈ کے طور پر جمع کروانے پر سیکیورٹی کی یہ رقم واپس مل جاتی ہے۔پرفارمنس بانڈ کا مقصد سپلائی کی جانے والی چیز کی صلاحیت کی سیکیورٹی ہے۔اس کی مدت زیادہ سے زیادہ ۵ سال ہوتی ہے۔ ۵ سال تک اگر سپلائی کی ہوئی چیز مثلاً مشین درست کام کرتی رہے تو یہ رقم بھی مکمل واپس مل جاتی ہے۔ سپلائی کیا جانے والا مال بعض دفعہ تو سٹاک میں موجود ہوتا ہے ۔ بعض دفعہ کچھ سامان موجود ہوتا ہے اور کچھ امپورٹ کیا جاتا ہے۔ بعض دفعہ مکمل سامان امپورٹ کیا جاتا ہے۔ ان تمام صورتوں میں ہماری کمپنی سامان کو خرید کر پھر حکومتی ادارے کو فروخت کرتی ہے جسے اصطلاح میں ایف او آر (یعنی سامان متعلقہ ادارے میں پہنچانا) کی بنیاد پر مال سپلائی کرنا کہا جاتا ہے۔
بعض دفعہ حکومت ٹینڈر اس طرح کرتی ہے کہ آپ سیکیورٹی ادا کر کے ٹینڈر میں شرکت کریں ، ریٹ دیں، اگر آپ کوآرڈر مل گیا، تو حکومتی ادارہ بیرون ملک میں موجود کمپنی سے بذات خود سامان منگوائے گا اور اس مقصد کے لیے ادارہ متعلقہ بین الاقوامی ادارے کے نام خود ایل سی کھلوائے گا،مال کو خود امپورٹ کرے گا اور کمپنی کو بذات خود ادائیگی کرے گا؛اس اقدام سے مقصد ٹیکس کی چھوٹ سے فائدہ اٹھانا ہے،اس طرح ٹینڈر کرنے کو سی اینڈ ایف وغیرہ کی بنیاد پر ٹینڈر کرنا کہتے ہیں۔ پاکستان میں موجود ڈیلر (ہماری کمپنی ) کا کام ایسے ٹینڈر کی سپلائی میں یہ ہوتا ہے کہ یہ مال کی انسپیکشن کرتی ہے اسے انسٹال کرتی ہے، ٹریننگ دیتی ہے اور وارنٹی کو کور کرتی ہے۔ ہماری کمپنی(ڈیلر) کا بین الاقوامی کمپنی ( پرنسپل) سے ایک ریٹ طے ہوتا ہے یا موقع پر مزید بھاؤ تاؤ کیا جاتا ہے۔اس طے شدہ ریٹ سے زائد رقم جہاز کا کرایہ اور کسٹم ڈیوٹی وغیرہ نکال کر ہمارا نفع شمار ہوتی ہے جو کمپنی رقم وصول ہونے پر ہمیں بھجوا دیتی ہے یا کسی طرح ایڈجسٹ کر لیتی ہے، مذکورہ بالا تفصیل کی روشنی میں درج ذیل سوالات کے حوالے سے رہنمائی مطلوب ہے:
1۔ ہم بعض دفعہ کسی ٹینڈر میں شرکت کے لیے سیکیورٹی کی مد میں کسی سے سرمایہ لیتے ہیں جس کی بنیاد پر ہماری کمپنی ٹینڈر میں شرکت کرتی ہے۔ آرڈر نہ ملے تو یہ رقم بعینہ بغیر کسی نفع کے سرمایہ کار کو واپس کر دی جاتی ہے اور آرڈر مل جائے تو اسے نفع میں شریک کر لیتے ہیں۔ کیا یہ درست ہے؟
2۔ بعض دفعہ کسی سرمایہ کار سے یہ طے ہوتا ہے کہ آپ شرکت کے لیے سیکیورٹی بھی ادا کریں اور آرڈر ملنے پر ۵ فیصد پرفارمنس بانڈ کی رقم بھی ادا کریں ، پرفارمنس بانڈ بنواتے ہوئے پہلے ادا شدہ سیکیورٹی کی رقم واپس مل جاتی ہے،ایسے سرمایہ کار کے ساتھ بھی یہ طے کرتے ہیں کہ اگر آرڈر نہ ملا تو بغیر کسی نفع کے آپ کی سیکیورٹی کی رقم واپس مل جائے گی اور اگر آرڈر مل گیا تو پہلی صورت کے مقابلے میں زائد نفع کے تناسب کے ساتھ ہم سرمایہ کار کو نفع میں شریک کر لیتے ہیں۔ واضح رہے کہ نفع کا تناسب شروع ہی سے طے کیا جاتا ہے۔ پرفارمنس بانڈ کی رقم چونکہ ہماری کمپنی کو ۵ سال بعد واپس ملتی ہے، اس لیے ادارے سے رقم وصول ہونے پر ہم ۵ فیصد ادا کی ہوئی پرفارمنس بانڈ کی رقم سرمایہ کار کو واپس کر دیتے ہیں، گویا کہ سرمایہ کار کو اصل رقم اور نفع سرمایہ فراہم کرنے کے بعد ۳ سے ۴ ماہ میں واپس مل جاتے ہیں۔ کیا یہ درست ہے؟ اگر یہ صورتیں درست نہیں تو درست متبادل صورت کیا ہے؟
تنقیح:۱۔فریقین نفع میں شرکت کے ساتھ ساتھ خسارے میں بھی سرمایہ کے تنا سب سے شریک ہوں گے۔
۲۔کمپنی شریک کو مسلسل ساتھ بھی نہیں رکھنا چاہتی ، کیونکہ مختلف ٹینڈرز کے لئے کمپنی کو مسلسل سرمایہ کی ضرورت پڑتی رہتی ہے، ہر ٹینڈر میں مختلف لوگوں کو مسلسل بطور شریک رکھنا انتہائی دشوار ہے، لہذا کمپنی چاہتی ہے کہ جو بھی فریق کسی معاملے میں اس کے ساتھ شرکت کرے ، جونہی کمپنی کو کئی سے رقم حاصل ہو ، یعنی حکومت کی جانب سے اسے اڈوانس رقم حاصل ہو جائے، تو وہ شریک کو اس کے سرمایہ مع نفع دے کر عملاً شرکت کے معاملے سے الگ کر دے، اسی طرح اگر سرمایہ دار شریک سے یہ مطالبہ کیا جائے کہ ایک لمبے عرصے کے لئے کمپنی کو رقم کی ضرورت ہے،تو وہ بھی اس شرکت کے معاملے پر آسانی سے رضامند نہ ہو گا۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
بطور تمہید واضح رہے کہ کمپنی کو اصلاً سرمایہ کی ضرورت ہے، مذکورہ صورت میں کاروبار کے موافق سرمایہ کے حصول کے دو شرعی طریقے ہیں ،ہر ایک طریقے کے اپنے شرعی اصول ہیں ،جن کی رعایت رکھنا ضروری ہے:
۱۔ کمپنی کسی دوسرے شخص کو کاروبار میں سرمایہ کی بنیاد پر شریک کر لے۔
۲۔ کمپنی قرض کی صورت میں سرمایہ حاصل کرے۔
پہلی صورت : اگر کمپنی دوسرے فریق کو بطور شریک ساتھ رکھنا چاہتی ہے ، تو اس صورت میں شرکت کی تمام شرائط کو ملحوظ رکھنا ضروری ہو گا، جس کی تفصیل درج ذیل ہے:
سوال میں مذ کور ٹینڈرز کی دو قسمیں ہیں، جس میں سے ہر ایک کے مختلف شرعی احکام ہیں ؛
۱۔ حکومت کمپنی کے نام ٹینڈر جاری کرتی ہے،کمپنی سامان کا بندوبست کرتی ہے،پھر حکومت اس سے مطلوبہ سامان خریدتی ہے۔ اس صورت میں عقدِ شرکت کے وقت سرمایہ دونوں شریکوں کی جانب سے مشترک طور ہو ،تو شرکاء کے درمیان شرکت کا جو معاہدہ ہو گا وہ "شرکت اموال" کہلاتا ہے۔
شرکت اموال کی شرائط درج ذیل ہیں:
1۔ شرکاء کی جانب سے سرمایہ نقدی کی شکل میں ہو،اگر سرمایہ سامان(عروض) کی صورت میں ہو، تو شرکت کا معاملہ کرتے ہوے اس سامان کی قیمت لگائی جائے تاکہ ہر فریق کے سرمائے کی مقدار معلوم ہو سکے۔
2۔شرکت کا معاملہ میں نفع کسی بھی فیصدی تناسب سے طے کیا جاسکتاہے، البتہ جس فریق کے لئے صراحتاً کام نہ کرنے کی شرط لگائی گئی ہو اس کا نفع اس کے سرمائے کے تناسب سے زیادہ رکھنا درست نہیں، خسارے کی صورت میں ہر شریک اپنے سرمائے کے تناسب سے نقصان برداشت کرے گا۔
3۔ شرکت کا معاملے ختم کرتے وقت مشترکہ نقدی ، سامان اور دین وغیرہ سرمائے کے تناسب سے تقسیم ہوں گے، اگر کوئی فریق دوسرے کو اس کے حصے کے سامان کی قیمت دینا چاہے تو یہ بھی درست ہے، تاہم جو رقم دوسروں کے ذمے واجب الادا ہو ،اس کی وصولی تک شرکاء اپنے سرمائے کے تناسب سے شریک رہیں گے،کوئی ایک شریک دوسرے کو اس کے حصے کے دین کی رقم نہیں دے سکتا کہ بعد میں وہ دین میں وصول کر لوں گا ، کیونکہ یہ دوسرے کے قرض کی خرید وفروخت کا معاملہ ہو گا، جو کہ شرعاً درست نہیں۔
لہذا کمپنی کا جانب سے شریک کے ساتھ اس طور پر معاملہ کرناکہ سرمایہ فراہم کرنے والے شریک کو ٹینڈر کی منظوری پر سرمایہ مع نفع کے ساتھ شرکت سے الگ کر دیا جائے گا،یہ شرعاً درست نہیں،بلکہ عقد میں یہ بات واضح ہونی چاہیے کہ یہ شریک شرکت کے اس معاملے کی تکمیل تک تمام نفع و نقصان میں شریک ہو گا، اسی طرح شرکت کے ضمن میں موجود تمام نقدی ، سامان ِتجارت اور قرض وغیرہ میں تمام شرکاء شریک ہوتے ہیں، لہذا وہ رقم جو حکومت کے پا س بطور ضمانت کے پانچ سال کے لئے رکھوائی جاتی ہے،اس میں بھی فریقین اپنے سرمایہ کے بقدر شریک ہوں گے، جب تک وہ رقم وصول نہ ہو ، کوئی فریق دوسرے کو یہ نہیں کہہ سکتا کہ آپ کو ابھی میں نقد رقم دے دیتا ہوں اور حکومت کے پاس جو رقم رکھوائی گئی ہے ، میں وہ لے لوں گا،جیسا کہ اوپر گزر چکا یہ دین (قرض )کی خرید وفروخت کا معاملے ہے جو کہ درست نہیں۔
۲۔ٹینڈر کی دوسری صورت یہ ہے کہ حکومت کمپنی سے سامان نہیں خریدتی ، سامان خود منگواتی ہے، پھر کمپنی کو بطور اجیر(خدمات فراہم کرنے والےکو ) سامان کے انسٹالیشن کا کام سپرد کرتی ہے۔
اس صورت میں شرکاء کے درمیان شرکت کا جو معاہدہ ہو گا وہ" شرکت اعمال" کہلاتا ہے،واضح رہے کہ خدمات اور ذمہ داریوں کو مشترک طور پر قبول کرنے کا معاملے کرنے کو "شرکت اعمال " کہتے ہیں۔
شرکت اعمال کی شرائط:
1.شرکت اعمال کے درست ہونے کے لئے ضروری ہے کہ عقد شرکت میں کسی فریق کے کام نہ کرنے کی شرط نہ ہو،اگرچہ بعد میں کوئی ایک فریق عملا کام نہ کرے ،البتہ شرکت کے عقد میں کام کی ذمہ داری طے کرنا ضروری ہے،مثلاً جو کام ملے گا اس کی تکمیل کا ایک چوتھائی حصہ ایک شریک کی ذمہ داری ہوگی اور باقی دوسرے شریک کی ذمہ داری ہوگی۔
2.شرکت اعمال میں نفع کا کوئی بھی تناسب باہمی رضامندی سے طے کیا جاسکتا ہے،تاہم نقصان کی صورت میں ہر شریک اپنے کام کی ذمہ داری کی بنیاد پر نقصان برداشت کرے گا۔
3. اگر مستاجر(Employer) کام کے حوالے سے خاص اجیر (Specific Employee)کی شرط لگا دے ،تو اسی اجیر پر لازم ہو گا کہ وہ اس کام کو مکمل کرے،خلاف ورزی کی صورت میں سارے نقصان کا ذمہ دار وہ اجیر ہو گا،مستاجر نے کام جس کے سپرد کیا تھا۔
صورت مسئولہ میں حکومت کام منظور شدہ کمپنی کے حوالے کرتی ہے،یہی وجہ ہے کہ غیر مجاز شخص کو ٹینڈر میں شمولیت کی اجازت نہیں ہوتی ،لہذا اس شرکت اعما ل میں سرمایہ فراہم کرنے والا فریق بطور شریک شرکت کے اس معاملے کا اہل نہیں ، یعنی نفع و نقصان کی ساری ذمہ داری کمپنی پر ہو گی، لہذا شرکت کا یہ معاملہ بھی درست نہیں ہو گا۔
اس کے متبادل قرض کی صورت اختیار کی جا سکتی ہے جس کی تفصیل ذیل میں بیان کی جاتی ہے۔
دوسری صورت: کمپنی کسی دوسرے فریق سے مخصوص مدت کے لئے بلا سود قرض رقم حاصل کرلے ۔
اگر بلا سود رقم کے حصول ممکن نہ ہو تو جتنی رقم آپ کو قرض چاہیے ، فریق ثانی اس رقم کی کوئی ایسی چیز خرید لے جو جلد قابل فروخت ہو ، پھر وہ چیز آپ کو ادہار پر بازار سےمہنگے داموں فروخت کر دے، اس کے بعد آپ اس چیز کو بازار میں کسی تیسرے فریق کو اصل قیمت پر فروخت کے کے نقد رقم وصول کرلیں ، یاد رہے کہ یہ چیز واپس فریق ثانی کو بیچنا جائز نہیں۔
مثلاً فریق اول کو دس لاکھ روپے قرض چاہیے، فریق ثانی بازار سے دس لاکھ مالیت کی گاڑی خرید کر آپ کو ادہار پر گیارہ لاکھ کی فروخت کر دیں ، فریق اول اس گاڑی کو دس لاکھ نقد قیمت پر فریق ثالث کو فروخت کر دے ، یوں فریق اول کے لئے نقد رقم کا بندوبست بھی ہو جائے گا اور فریق ثانی کو گاڑی فروخت کرنے پر منافع بھی ہو جائے گا ۔
حوالہ جات
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع» (6/ 58):
(أما) الشرائط العامة فأنواع: (منها) أهلية الوكالة... (ومنها) : أن يكون الربح معلوم القدر، فإن كان مجهولا تفسد الشركة؛ لأن الربح هو المعقود عليه، وجهالته توجب فساد العقد كما في البيع والإجارة.(ومنها) : أن يكون الربح جزءا شائعا في الجملة، لا معينا... (أما) الشركة بالأموال فلها شروط: (منها) أن يكون رأس المال من الأثمان المطلقة ...ومنها) : أن يكون رأس مال الشركة عينا حاضرا لا دينا، ولا مالا غائبا، فإن كان لا تجوز عنانا، كانت أو مفاوضة وإنما يشترط الحضور عند الشراء لا عند العقد.
المعاییر الشرعیۃ (ص 329)
١/٢/١/ ٣: رأس مال الشركة: الأصل أن يكون رأس مال الشركة موجودات نقدية يمكن بها تحديد مقدار رأس المال لتقرير نتيجة المشاركة من ربح أو خسارة. ومع ذلك يجوز- باتفاق الشركاء الإسهام بموجودات غير نقدية (عروض) بعد تقويمها تقويمها بالنقد لمعرفة مقدار حصة الشريك.
درر الحكام في شرح مجلة الأحكام (3/ 389):
المادة (1369) - (الضرر والخسارة التي تحصل بلا تعد ولا تقصير تقسم في كل حال بنسبة مقدار رءوس الأموال، وإذا شرط خلاف ذلك فلا يعتبر)
الضرر والخسارة التي تحصل بلا تعد ولا تقصير تقسم في كل حال أي أنه لو شرط خلاف ذلك سواء في الشركة الصحيحة أو الفاسدة، بنسبة مقدار رءوس الأموال وإذا شرط انقسامها على وجه آخر فلا يعتبر أي أن شرط تقسيم الوضيعة والخسارة على وجه آخر باطل حيث قد ورد في الحديث الشريف الربح على ما شرطا والوضيعة على قدر المالين (مجمع الأنهر) من غير فصل بين التساوي والتفاضل (الدر المنتقى) .
المادة (1354) - (إذا فسخ الشريكان الشركة واقتسماها على أن تكون النقود الموجودة لأحدهما والديون التي في الذمم للآخر فلا تصح القسمة، وفي هذه الصورة مهما قبض أحدهما من النقود الموجودة يشاركه الآخر فيها كما أن الدين الذي في ذمم الناس يبقى مشتركا بينهما.
إذا فسخ الشريكان الشركة واقتسماها على أن تكون النقود الموجودة لأحدهما والديون التي في الذمم للآخر أو النقود الموجودة لأحدهما والأمتعة التي في الدكان مع الدين الذي في الذمم للآخر فلا تصح القسمة.
درر الحكام في شرح مجلة الأحكام» (1/ 657):
(المادة 571) الأجير الذي استؤجر على أن يعمل بنفسه ليس له أن يستعمل غيره مثلا لو أعطى أحد جبة لخياط على أن يخيطها بنفسه بكذا دراهم، فليس للخياط أن يخيطها بغيره وإن خاطها بغيره وتلفت فهو ضامن.
غير مجبر أحد الشريكين على إيفاء ما تقبله من العمل بالذات، فإن شاء عمله بنفسه وإن شاء أعمل شريكه أو شخصا آخر استأجره لذلك العمل . لكن إن شرط المستأجر عمله بالذات فيلزمه حينئذ عمله بذاته وليس له أن يعمل آخر فيه.
حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي (5/ 166):
(قوله كل قرض جر نفعا حرام) أي إذا كان مشروطا كما علم مما نقله عن البحر، وعن الخلاصة وفي الذخيرة وإن لم يكن النفع مشروطا في القرض، فعلى قول الكرخي لا بأس به.
حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي(5/ 326):
ثم قال في الفتح ما حاصله: إن الذي يقع في قلبي أنه إن فعلت صورة يعود فيها إلى البائع جميع ما أخرجه أو بعضه كعود الثوب إليه في الصورة المارة وكعود الخمسة في صورة إقراض الخمسة عشر فيكره يعني تحريما، فإن لم يعد كما إذا باعه المديون في السوق فلا كراهة فيه بل خلاف الأولى۔
حسن علی عباسی
دارالافتاء جامعۃ الرشید،کراچی
27/ذی الحجہ /1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | حسن علی عباسی ولد ذوالفقار علی عباسی | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


