| 87922 | طلاق کے احکام | الفاظ کنایہ سے طلاق کا بیان |
سوال
میری شادی کو تقریباً 15 سال ہو چکے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں ایک بیٹا اور تین بیٹیوں سے نوازا ہے۔ میرےشوہر تقریباً چار سال قبل روزگار کی تلاش میں دبئی چلے گئے تھے اور اس دوران وہ کافی پریشان رہتے تھے۔ ان کی غیر موجودگی میں ایک آدمی کے ساتھ آن لائن لڈو(Ludo) گیم میں میری دوستی ہوگئی، اس دوران اس سے ضرورت کی بات ہوتی تھی،کچھ عرصہ بعد میرے شوہر واپس آئے،انہوں نے میرے موبائل میں ان پیغامات کو پڑھ لیا،اس پر انہیں شدید غصہ آیا، انہوں نے مجھے مارا اور سخت ناراض ہوئے۔ میں نے ان سے فوراً معافی مانگی، وضاحت دی، سچ بتایا، اور آئندہ کے لیے توبہ بھی کی۔ کچھ وقت کے بعد ہم دوبارہ اکٹھے رہنے لگے، مگر اس واقعے کو بنیاد بنا کر جھگڑے بار بار ہونے لگے۔
ایک دن جھگڑے کے دوران میں نے کہا: "اگر آپ مجھے معاف نہیں کر سکتے تو مجھے چھوڑ دیں"، جواب میں انہوں نے غصے سے کہا:
"آج سے تم میری طرف سے آزاد ہو۔" اس کے بعد دونوں کا غصہ ٹھنڈا ہوا اور ہم ایک ساتھ دوبارہ رہنے لگے۔
پھر کچھ دن بعد جب دوبارہ جھگڑا ہوا تو میں نے کہا کہ: "جب آپ کے دل سے بات صاف نہیں ہوئی تو مجھے چھوڑ دیں۔" تو انہوں نے پھر کہا:
"تم میری طرف سے آزاد ہو۔"
اس وقت میں اپنی والدہ کے گھر پر ہوں، اور ہمارا تعلق منقطع ہے۔ میں یہ جاننا چاہتی ہوں کہ اس صورت میں کیا طلاق واقع ہوگئی ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورت مسئو لہ میں شو ہر نےجب پہلی مرتبہ سائلہ کو یہ ا لفاظ کہے تھے کہ "آج سے تم میری طرف سے آزاد ہو" تواس سے سائلہ پر ایک طلاق بائن واقع ہوکر نکاح ختم ہوچکا تھا اور رجوع کی گنجائش نہیں تھی، اس کے بعد جو میاں بیوی ساتھ رہے تو یہ ساتھ رہنا شرعاً جائز نہیں تھا ، اس پر دونوں صدق دل سے توبہ واستغفار کریں۔بعد میں شوہر نےجتنی بار کہا کہ"تم میری طرف سے آزاد ہو"تو ان الفاظ سے مزید کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی، ٖ سائلہ طلاق بائن ہونے کے وقت سے اپنی عدّت( پوری تین ماہواریاں اگر حمل نہ ہو، اگر حمل ہو تو بچہ کی پیدائش تک) گزار کردوسری جگہ نکاح کرسکتی ہے اور اگر اسی شوہر کے ساتھ دوبارہ ساتھ رہنا چاہے تو دونوں کی رضامندی سے شرعی گواہوں کی موجودگی میں نئے مہر اور نئے ایجاب وقبول کےساتھ تجدیدِ نکاح کرنا ضروری ہوگا، تجدیدِ نکاح کے بعد شوہر کو آئندہ کے لیے دوطلاقوں کا حق حاصل ہوگا۔
حوالہ جات
الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية (1/ 472):
إذا كان الطلاق بائنا دون الثلاث فله أن يتزوجها في العدۃوبعد انقضائها.
الدر المختار شرح تنوير الأبصار وجامع البحار (ص215):
(لا) يلحق البائن (البائن).
حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي (3/ 252):
أن الصريح ما غلب في العرف استعماله في الطلاق بحيث لا يستعمل عرفا إلا فيه من أي لغة كانت، وهذا في عرف زماننا كذلك فوجب اعتباره صريحا كما أفتى المتأخرون في أنت علي حرام بأنه طلاق بائن للعرف بلا نية مع أن المنصوص عليه عند المتقدمين توقفه على النية.
الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية (1/ 376):
ولو قال أعتقتك طلقت بالنية كذا في معراج الدراية. وكوني حرة أو اعتقي مثل أنت حرة كذا في البحر الرائق.
حضرت خُبیب
دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی
06 /محرم الحرام/1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | حضرت خبیب بن حضرت عیسیٰ | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


