03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
بیوی بیٹوں اوربیٹیوں میں میراث کی تقسیم
87946تقسیم جائیداد کے مسائلمتفرّق مسائل

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص علی اکبر نامی انتقال کرگیا۔ اس کی دو بیویاں تھیں۔ ان میں سے ایک بیوی کو اس نے اپنی زندگی میں طلاق دے دی تھی اور وہ عورت طلاق کے بعد علیحدہ ہو کر فوت ہوگئی۔ اس طلاق یافتہ بیوی سے علی اکبر کے تین بیٹے اور تین بیٹیاں ہیں، جو سب زندہ ہیں۔علی اکبر کی دوسری بیوی زندہ ہے لیکن اس سے اس کی کوئی اولاد نہیں ہے۔مرحوم علی اکبر نے نکاح نامہ میں اپنی زندہ بیوی کے لیے ایک پانچ مرلے کا مکان اور ایک تولہ سونا لکھا تھا۔مرحوم کے ترکہ میں درج ذیل چیزیں شامل ہیں:دس مرلے کا ایک پلاٹ اور  دو لاکھ روپے نقدی۔  اب سوال یہ ہے کہ علی اکبر کا ترکہ شرعاً کس طرح تقسیم کیا جائے گا؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

صورتِ مسئولہ میں مرحوم نے جو کچھ رقم، چھوٹابڑا سازوسامان اور جائیداد چھوڑی،اس میں سے  پہلے مرحوم کی تجہیز وتکفین کےمعتدل اخراجات (اگركسی وارث نے یہ  بطورتبرع اپنے ذمے نہ لیے ہوں( نکالےجائیں ،پھر اگر مرحوم کے ذمہ کسی کاقرض ہو (بیوی کا مہرادا نہ کیا ہوتو وہ بھی دَین یعنی قرض میں شامل ہے) تووہ  ادا کیا جائے ،پھر اگرمرحوم نے کسی غیروارث کے لئےکوئی جائز وصیت کی ہو تو ایک تہائی ترکہ کی حد  تک اس کے مطابق عمل کیا جائے،اس کےبعدجوترکہ  بچ جائے اس کومرحوم کےانتقال کےوقت موجودورثہ ( ایک بیوی تین بیٹے اور تین  بیٹیوں)میں تقسیم کیاجائےگا۔

 جب مرحوم علی اکبر نے اپنی بیوی کے نکاح نامہ میں ایک تولہ سونا اور پانچ مرلہ زمین بطور مہر مقرر کیا تھا اور وہ مہر ادا نہیں کیا گیا تھا تو شرعاً یہ بیوی کا واجب الادا حق (قرض) شمار ہوگا۔لہٰذا ترکہ کی تقسیم سے پہلے مہر کی رقم یا مقررہ چیز (ایک تولہ سونا اور پانچ مرلہ زمین) بیوی کو ادا کرنا لازم ہوگا، کیونکہ یہ مرحوم کے ذمے ایک قرض ہے۔اس کے بعد جو باقی ترکہ بچے گا وہ  شرعی اصول کے مطابق ورثاء کے درمیان  درج ذیل   نقشہ میں دیے گئے حصوں کے مطابق تقسیم ہوگا:

نمبر شمار

وارث

عددی حصہ

فیصدی حصہ

1

بیوی

9

12.5%

2

بیٹا

14

19.44%

3

بیٹا

14

19.44%

4

بیٹا

14

19.44%

5

بیٹی

7

9.72%

6

بیٹی

7

9.72%

7

بیٹی

7

9.72%

 

حوالہ جات

۔۔۔۔

محمد ابراہیم عبد القادر

دارالافتاءجامعۃ الرشید ،کراچی

7/محرم الحرام /7144ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد ابراہیم بن عبدالقادر

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب