| 87931 | طلاق کے احکام | تین طلاق اور اس کے احکام |
سوال
میرا نام ندا راشد ہے۔ شوہر کا نام راشد نیازی ہے۔شوہر کا سلوک میرے ساتھ شروع سے ہی صحیح نہیں ہے۔بات بات پر بہت گندی گالیاں اور بد دعائیں دیتا ہے۔ شادی کو دس سال ہو رہے ہیں۔ میرا شوہر سگریٹ، شیشہ اور نسوار کا عادی ہے۔انہوں نےمجھے پہلی طلاق 2017 دسمبر میں دی اور کہا:میں تجھے طلاق دیتا ہوں، تو کسی رنڈی کے بچے سے جا کر شادی کرلے۔دوسری طلاق دسمبر 2022 میں دی اور کہا کہ:میں تجھے طلاق دے دیتا ہوں، تو اپنی ماں کے گھر چلی جا۔ مارچ 2025میں رمضان میں کافی دنوں سے ان کا موڈ بہت خراب تھا۔ روزہ کھلنے کے ٹائم گالیاں اور برا بھلا کہہ رہا تھا، مجھے کہا:منحوس عورت! میرے گھر سے نکل جا۔میں نے بہت برداشت کیا،لیکن بالآخر پھر کہا کہ:جب تک طلاق نہیں دو گے، نہیں جاؤں گی۔تو اس نے کہا:ساری کی ساری دے دی ہیں ، تو نےپھر بھی یہیں آ کر مرنا ہے ۔میرے لیے شریعت کاکیا حکم ہے؟کیا طلاق واقع ہو گئی ہے۔واضح رہے کہ شوہر نے اب ان طلاقوں کا انکار کیا ہے، بالکل مکر گئے ہیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورتِ مسؤلہ میں اگر بیوی غلط بیانی سے کام نہیں لے رہی، بلکہ واقعتاً خاوند نے مارچ 2025 کو مطالبہ طلاق کے جواب میں کہا تھا : ساری کی ساری دے دی ہیں ،تو اس سے تین طلاق واقع ہوگئی ہیں اور میاں بیوی کے درمیان رشتہ ختم ہوچکا ہے۔ لیکن اب شوہر غلط بیانی کرکےان الفاظ سے انکار کررہا ہے جبکہ بیوی نے یہ الفاظ خود سنے ہیں ،تو ایسی صورت میں اولا شوہر کو خوفِ خدا دلا کر آخرت کے عذاب سے ڈرایا جائے اور اسے اس بات پر آمادہ کرنے کی کوشش کی جائے کہ وہ غلط بیانی کرکے ساری عمر حرام کاری میں مبتلا ہونے کے بجائے طلاق کا اقرار کرلے ،اگر شوہر اس پر آمادہ نہ ہو تو مہر معاف کرکے یا اپنی استطاعت کے مطابق کچھ مال وغیرہ دے کر یا عدالتی چارہ جوئی کرکے عورت خود کو اس سے آزاد کروائے،اگرچہ مذکورہ صورت میں شوہر کے لیے عورت سےیہ مال لینا جائز نہیں ہوگا۔
اگر وہ کسی بھی طریقے سے اس کی جان چھوڑنے پر آمادہ نہ ہو تو عورت اس کا گھر چھوڑ کر میکے چلی جائے اور ہر ممکن طریقے سے اسے اپنے قریب آنے سے باز رکھے،قانونی طور پر اپنے تحفظ کے لیے عدالت کے ذریعہ سے خلع بھی لے سکتی ہے۔
حوالہ جات
سنن الدارقطني (5/ 391):
عن عمران بن الحصين ، قال: «أمر رسول الله صلى الله عليه وسلم بشاهدين على المدعي ، واليمين على المدعى عليه.
الأصل لمحمد بن الحسن (7/ 577):
وإذا ادعت المرأة خلعاً أوطلاقا وجحد ذلك الزوج فالمرأة هي المدعية وعليها البينة۔
الفتاوى الهندية" (1/ 354):
والمرأة كالقاضي لا يحل لها أن تمكنه إذا سمعت منه ذلك أو شهد به شاهد عدل عندها".
رد المحتار (3/ 305):
وعلمت أن المرأة كالقاضي لا يحل لها أن تمكنه إذا علمت منه ما ظاهره خلاف مدعاه۔
مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر "(1/ 441):
وفي التتارخانية وغيرها سمعت المرأة من زوجها أنه طلقها ولا تقدر على منعه من نفسها إلا بقتله لها قتله بالدواء ولا تقتل نفسها وقيل لا تقتله وبه يفتى وترفع الأمر إلى القاضي فإن لم تكن لها بينة تحلفه فإن حلف فالإثم عليه لكن إن قتلته فلا شيء عليها".
الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية» (1/ 372):
رجل قال لامرأته أنت طالق عامة الطلاق أو جل الطلاق يقع طلاقان ولو قال أنت طالق أكثر الطلاق ذكر في الأصل أنه يقع ثلاث ولو قال أقل الطلاق تقع واحدة ولو قال أنت طالق كل التطليقة طلقت واحدة ولو قال أنت طالق كل تطليقة طلقت ثلاثا دخل بها أو لم يدخل وكذا لو قال أنت طالق بعد كل تطليقة أو مع كل تطليقة أو قال أنت مع كل تطليقة طالق طلقت ثلاثا كذا في فتاوى قاضي خان.
حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي» (3/ 281):
يقع بأنت طالق كل التطليقة واحدة، وكل تطليقة ثلاث،(قوله يقع بأنت طالق إلخ) لأن كلا إذا أضيفت إلى معرف أفادت عموم الأجزاء، وأجزاء الطلقة لا تزيد على طلقة، وإذا أضيفت إلى منكر أفادت عموم الأفراد.... [تنبيه] ذكر في الذخيرة: لو قال: كل الطلاق فواحدة وهكذا نقل عنها في البحر، لكن في مختارات النوازل أنه يقع ثلاث. قلت: وهو الذي يظهر لأن الطلاق مصدر يحتمل الثلاث بخلاف الطلقة على أنه ذكر في الذخيرة أيضا أنت طالق الطلاق كله فهو ثلاث، ولا فرق يظهر بين كل الطلاق والطلاق كله تأمل.
محمد اسماعیل بن اعظم خان
دار الافتاء جامعۃ الرشید،کراچی
05/محرم الحرام 7144ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد اسماعیل بن اعظم خان | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


