| 87928 | خرید و فروخت کے احکام | خرید و فروخت کے جدید اور متفرق مسائل |
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارے ہاں لوگ معدنیات نکالتے ہیں اور حکومت سے لیز پر زمین لیتےہیں، جس کےلئے وہ حکومت کو ادائیگی کرتے ہیں اور پھر رائلٹی کے طور پر ہر ماہ کچھ خاص رقم بھی ادا کرتے ہیں۔پھر معدنیات نکالنے کےلئے لیز ہولڈر اس زمین کو آگے دوسرے ٹھیکیداروں کو دیتے ہیں، جبکہ حکومت کی طرف سے اس پر قانونی پابندی ہے جیسا کہ "خیبر پختونخواہ کان کنی اور معدنیات ایکٹ،2017" کی دفعہ 54(1) میں مندرجہ ذیل بات ذکر کی گئی ہے :
No holder of a mineral title shall transfer the liberties, powers, rights, title interests, privileges and obligations under the license or lease, as the case may be, in the form of sub-letting, sub- contracting or by any other means, to a third party in respect of the area demised under the mineral title. The mineral title shall be cancelled by the Licensing Authority, if the provisions of sub-section (1) are violated [Provided that before doing so, the licensing Authority shall afford a fair opportunity of hearing to the holder of mineral title.
ترجمہ:کوئی بھی معدنی خطاب کا حامل شخص معدنی خطاب کے تحت حاصل شدہ اختیارات، حقوق ، مفادات ،مراعات اور ذمہ داریوں کو ذیلی لیز ،ذیلی ٹھیکہ یا کسی اور طریقے سے کسی تیسرے فریق کو منتقل نہیں کرے گا، ہوبشرطیکہ وہ انہی حدود میں ہو جو مذکورہ معدنی اجازت نامہ کے تحت مختص کی گئی ہوں۔
اگر کوئی فرد اس شق (ذیلی دفعہ 1) کی خلاف ورزی کا مرتکب پایا جائے تو متعلقہ اجازت نامہ منسوخ کر دیا جائے گا۔ (البتہ اس سے قبل لائسنسنگ اتھارٹی متعلقہ فرد کو منصفانہ سماعت کا مکمل موقع فراہم کرے گی)۔
اب سوال یہ ہے کہ آیا لیز ہولڈر کےلئے یہ معدنیات کی زمین آگے لیز پر دینا جائز ہے ؟ اگر ناجائز ہے تو اس کی جائز صورت کیا ہو سکتی ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
حکومتی قوانین کی رو سے معدنیات چونکہ حکومت کی ملکیت ہے،لہٰذا حکومت کا معدنیات لیز پر دینامحدود و مؤقت طور پرعوض کے بدلےاپنےحق سے دستبرداری ہے ،جو کہ جائز ہے ۔البتہ لیز ہولڈر کا آگے لیز پر دینا حکومت کی اجازت کے ساتھ مشروط ہے ،اگر حکومت کی طرف سے اجازت ہو تو آگے دینا جائز ہے اور اگر حکومت کی طرف سے اجازت نہ ہو تو دینا جائز نہیں ۔موجودہ صورت حال میں چونکہ حکومت کی طرف سے آگے لیز پر دینے کی اجازت نہیں اور حکومت کے وہ قوانین جو شریعت کے خلاف نہ ہوں اور مصلحت عامہ پر مبنی ہوں،ان کا ماننا ہر شہری پر لازم ہے اور اس کی خلاف ورزی جائز نہیں،لہٰذا قانون کے خلاف لیز ہولڈر کے لئے یہ معدنیات آگے لیز پر دینا جائز نہیں ۔
اس کا کوئی متبادل طریقہ نہیں ہے،لیکن اگر کسی نے پھر بھی آگے لیز پر دیا تو سارا مال اصل حقدار کا ہوگا،جبکہ دوسرے کو اجرت مثل ملی گی۔
حوالہ جات
عمدة القاري شرح صحيح البخاري (14/ 221):
عن نافع عن ابن عمر رضي الله تعالى عنهما عن النبي صلى الله عليه وسلم قال السمع والطاعة حق ما لم يؤمر بالمعصية فإذا أمر بمعصية فلا سمع ولا طاعة.قوله: السمع أي إجابة قول الأمير، إذ طاعة أوامرهم واجبة ما لم يأمر بمعصية ،وإلا فلا طاعة لمخلوق في معصية الخالق. ويأتي من حديث علي رضی اللہ عنہ بلفظ:" لا طاعة في معصية ،وإنما الطاعة في المعروف ...وذكر عياض:أجمع العلماء على وجوب طاعة الإمام في غير معصية، وتحريمها في المعصية.
فقه البیوع (1/270):
110- حق الأسبقیة: والثاني: حق الأسبقیة، وهو عبارة عن حق التملك أو الاختصاص الذي یحصل للإنسان بسبب سبق یده إلی شیئ مباح، مثل حق التملك بإحیاء الأرض. وقد أجمع القفهاء علی أن الأرض الموات لایملکها الإنسان إلا بالإحیاء. وأما التحجیر فلایثبت به الملك، وإنما یثبت به الاختصاص، وحق التملك بالإحیاء. فمن حجر أرضا، فإنه أحق بإحیاءها. واختلفت أقوال الفقهاء الشافعیة والحنابلة في جواز بیع هذا الحق، والمختار في المذهبین عدم الجواز، ولکن ذکر البهوتي من الحنابلةأن الاعتیاض عنه وإن کان لایجوز بطریق البیع، ولکنه یجوز بطریق التنازل والصلح عن الحق. وکذلك من سبق إلی مکان في المسجد فهو أحق بذلك المکان، وله أن یؤثر به غیره، ولکن لایجوز له أن یبیع هذا الحق، نعم ! ذکر البهوتي أنه یجوز له التنازل عنه بعوض. أما الحنفیة والمالکیة فلم أجد حکم بیع هذا الحق عندهم صراحة، وقیاس قوله أنه لایجوز عندهم أیضا.
بحوث في قضایا فقهیة معاصرة (1/97-110):
2- حق الأسبقیة:…. ولم أر في کتب الحنفیة والمالکیة من تعرض لمسألة بیع حق الأسبقیة، وقد ذکروا أن التحجیر یثبت به الأحقیة في إحیاء الأرض وتملکها، ولکن ذکروا أن التحجیر تثبت به الأحقیة في إحیاء الأرض وتملکها، ولکن لم أجد حکم بیع هذا الحق عندهم، وقیاس قولهم أنه لایجوز عندهم أیضا، إلا أن یکون بطریق التنازل. فخلاصة الحکم في بیع حق الأسبقیة أنه وإن کان بعض الفقهاء یجوزون هذا البیع، ولکن معظمهم علی عدم جوازه، ولکن یجوز عندهم النزول عنه بمال علی وجه الصلح، والله سبحانه أعلم…. إن للعرف مجالًا في إدراج بعض الحقوق في، فإن المالیة تثبت بتمول الناس، کما یقول ابن عابدین رحمه الله تعالیٰ.
محمد اسماعیل بن اعظم خان
دار الافتاء جامعۃ الرشید،کراچی
11/محرم الحرام 1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد اسماعیل بن اعظم خان | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


