| 87956 | جائز و ناجائزامور کا بیان | جائز و ناجائز کے متفرق مسائل |
سوال
میں ایک مرد ہوں اور میرے بال جھڑ رہے ہیں یا پتلے ہو رہے ہیں۔ اس کے علاج کے لیے میں ایک دوا استعمال کر رہا ہوں جس کا نام مینوکسڈیل (Minoxidil) ہے۔ یہ دوا مائع (لیکویڈ) شکل میں ہے۔ اس دوا میں الکحل شامل ہے — خاص طور پر ایتھانول (Ethanol)، جو عام طور پر یا تو قدرتی شکر (جیسے مکئی یا گنے) کی خمیر شدہ شکل سے حاصل کیا جاتا ہے، یا پھر پٹرولیم سے تیار کیے گئے مرکب جیسے ایتھائلین (ethylene) سے مصنوعی طریقے سے بنایا جاتا ہے۔ اس محلول میں ایک اور جزو پروپیلین گلیکول (Propylene Glycol) بھی شامل ہوتا ہے، جو ایک مصنوعی کیمیائی مرکب ہے اور عام طور پر پروپیلین آکسائیڈ (propylene oxide) سے تیار کیا جاتا ہے، جو پٹرولیم سے حاصل کیا جاتا ہے۔ پروپیلین گلیکول کا کام مائع میں دوا کو حل کرنا اور اسے جلد میں جذب ہونے میں مدد دینا ہے۔ یہ اگرچہ "گلیکول" کہلاتا ہے، مگر شرعی یا نشہ آور الکحل میں شمار نہیں ہوتا۔ تیسرا جزو صاف پانی (Purified Water) ہوتا ہے۔ ان اجزاء میں سے کوئی بھی الکحل کو چھپانے یا حلال ظاہر کرنے کے لیے شامل نہیں کیا گیا۔ میرا سوال یہ ہے کہ ایسی دوا لگانے کے بعد، کیا مجھے غسل فرض ہوگا یا صرف وضو کافی ہے تاکہ میں نماز ادا کر سکوں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ انگور یا کھجور کی شراب سے کشید کیا گیا الکحل ناپاک ہے، اس کا استعمال جائز نہیں۔
البتہ انگور و کھجور کے علاوہ گندم، جَو یا پٹرول وغیرہ سے حاصل کیا گیا الکحل پاک ہے، اس کا استعمال جائز ہے، ایسی دوا کے استعمال کی وجہ سے نماز کے لئے شرعاً غسل یا وضو لازم نہیں ہوتا۔
حوالہ جات
بحوث في قضايا فقهية معاصرة (ص342):
وإن معظم الكحول المستعملة في الأدوية اليوم لا تصنع من عنب ولا تمر، وإنما تصنع من السلفات والكبريتات، والعسل، والدبس، والحب، والشعير، والجودار، وغيرها. فإن كانت الكحول المستعملة في الأدوية متخذة من غير العنب والتمر فإن تناولها جائز في مذهب أبي حنيفة وأبي يوسف رحمهما الله، ما لم تبلغ حد الإسكار، ويمكن أن يؤخذ بقولهما لحاجة التداوي، وأما إذا كانت الكحول متخذة من العنب أو التمر، فلا يجوز استعمالها ۔
تكمله فتح الملهم (3/506):
وأما غیر الأشربة الأربعة،فلیست نجسة عند الإمام أبی حنیفه رحمه الله تعالی. وبهذا یتبین حکم الکحول المسکرة (ALCOHALS) التی عمت بها البلوی الیوم، فانها تستعمل فی کثیر من الأدوية والعطور والمرکبات الأخری، فإنها إن اتخذت من العنب أو التمر فلا سبیل الی حلتها أو طهارتها، وإن اتخذت من غیرها فالأمر فیها سهل علی مذهب أبی حنیفة رحمه الله، ولا یحرم استعمالها للتداوی أو لأغراض مباحة أخری ما لم تبلغ حد الإسکار، لأنها إنما تستعمل مرکبة مع المواد الأخری، ولا یحکم بنجاستها أخذا بقول أبی حنیفه رحمه الله۔ وإن معظم الکحول التی تستعمل الیوم فی الأدویة والعطور وغیرها لا تتخذ من العنب أو التمر، إنما تتخذ من الحبوب أو القشور أو البترول وغیره، کما ذکرنا فی باب بیع الخمر من کتاب البیوع، و حینئذ هناک فسحة فی الأخذ بقول أبی حنیفه عند عموم البلوی.والله سبحانه أعلم.
حسن علی عباسی
دارالافتاء جامعۃ الرشید،کراچی
11/محرم الحرام/1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | حسن علی عباسی ولد ذوالفقار علی عباسی | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


