| 88078 | پاکی کے مسائل | حیض،نفاس اور استحاضہ کا بیان |
سوال
حیض میں میری دس دن رات کی عادت ہے، اور طہر کبھی سولہ دن، کبھی اٹھارہ دن، اور کبھی پچیس دن ہوتا ہے؛ یعنی کہ طہر بدلتا رہتا ہے۔ اب میں اس مہینے کی پہلی تاریخ کو پاک ہوئی۔ اٹھارہ تاریخ کو میں نے ٹشو پیپر پر (جو لیکوریا کی بندش کے لیے استعمال کرتی ہوں) خون کا ایک دھبہ دیکھا۔ پھر اس کے بعد پاک رہی، یہاں تک کہ بیس تاریخ کو دوبارہ اسی طرح دھبہ دیکھا۔ پھر اس کے بعد پاک رہی (اس دوران حیض کی دوسری علامات، جیسے کمر درد، کمزوری، سستی، بھی محسوس نہیں ہوئیں، جو عام طور پر ہوتی ہیں)، یہاں تک کہ چھبیس تاریخ کو باقاعدہ کھل کر حیض آنے لگا اور کمر درد وغیرہ بھی محسوس ہوا۔
اب میں حیض کب سے شمار کروں؟ اٹھارہ تاریخ سے یا چھبیس تاریخ سے؟ یاد رہے کہ اس طرح کے دھبے میں طہر میں بھی دیکھتی ہوں، اور اس بار کے طہر میں گیارہ اور بارہ تاریخ کو بھی اس طرح کے دھبے دیکھ چکی ہوں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ شرعاً دو حیضوں کے درمیان کم از کم پندرہ دن کا وقفہ ہونا ضروری ہے۔ اگر پندرہ دن سے پہلے خون آ جائے تو وہ استحاضہ (یعنی بیماری کا خون) شمار ہوگا۔
صورتِ مسئولہ میں، اس مہینے کے دوران طہر کے ایام میں، یعنی گیارہ اور بارہ تاریخ کو جو خون کے دھبے نظر آئے، وہ استحاضہ ہی شمار ہوں گے، البتہ اٹھارہ تاریخ کے بعد نظر آنے والے دھبوں میں چونکہ حیض کی علامات نہیں ہیں ، لہٰذا ان کے بارے میں عورت کے اطمینان پر فیصلہ چھوڑا جائے گا ، اگر عورت کو لگے کہ یہ حیض کا خون ہے تو حیض شمار کرے ، اگر محسوس ہو کہ استحاضہ ہے تو استحاضہ کا خون شمار کرے اور جس دن سے اطمینان ہو کہ اب حیض آنا شروع ہوگیا ہے تو اس دن سے حیض شمار کرے ۔
حوالہ جات
حاشیہ ابن عابدین(ج:1 ،ص:285 ،ط:سعيد):
(وأقل الطهر) بين الحيضتين أو النفاس والحيض (خمسة عشر يومًا) ولياليها إجماعًا (ولا حد لأكثره).
منیب الرحمنٰ
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
12/محرم الحرام/1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | منیب الرحمن ولد عبد المالک | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


