03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
شوہر پر والدین، بہن بھائیوں اور بیوی بچو ں میں سے کس کا حق مقدم ہے؟
87983معاشرت کے آداب و حقوق کا بیانمتفرّق مسائل

سوال

میرے شوہر کے بڑے بھائی کاکہنا ہے کہ شوہر پر  سب سے پہلا حق ماں باپ کا ہوتا ہے ،پھر بہن بھائیوں کا ،پھر بچوں کا اور اس کے بعد بیوی کا ۔ تو کیا  یہ بات درست ہے؟ اسی طرح اس کے والدین کا میرے اوپر حق ہے یا نہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

 شریعتِ مطہرہ نے ہر انسان کے   حقوق کو بیان کیاہے ،والدین کے اپنے حقوق ہیں ، بہن بھائیوں کے اپنے  اور بیوی  بچوں کے اپنے ،ہر ایک کے حق کا خیال رکھنا ضروری ہے ،والدین کی خدمت کرنی چاہیے جس سے وہ خوش ہوں اور کوئی ایسا کام نہ ہو جس سے ان کو تکلیف ہو،اور بیوی کی ضروریات پوری کرنااور اس کو وقت دینا یہ اس کےحقوق میں سے ہے۔

اللہ تعالیٰ نے نسبی رشتے کی طرح سسرالی رشتے کو بھی اپنی نعمت شمار فرمایا ہے، نکاح کی برکت سے اللہ رب العزت  نے لڑکا اور لڑکی کو ساس سسر کی شکل میں ايك اور  ماں باپ عطا کیے ہیں، گو کہ بعض حقوق میں حقیقی والدین اور ساس سسر کے حقوق میں فرق ہے، تاہم شریعتِ  مطہرہ نے ان کے ساتھ اخلاقی اعتبار سے حسنِ سلوک کا پابند کیا ہے،  نیز مسلمان معاشرے  کو آپس میں محبت و الفت کے ساتھ رہنے کا حکم دیا ہے۔

میاں بیوی میں سے ہر ایک کو اخلاقاً ایک دوسرے کے بڑوں کے ساتھ حسنِ سلوک و احترام کرنے کا پابند کیا ہے، اگر وہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے اپنے حقیقی والدین کی طرح اپنے ساس سسر کی عزت و احترام  کریں تو یہ ان کے لیے دنیا میں باعثِ خیر و برکت اور آخرت میں باعثِ اجر و ثواب ہوگا، اور اچھے اخلاق کا تقاضا بھی یہی ہے۔ اسی طرح ساس سسر بھی اپنی بہو، داماد پر اپنی حقیقی بیٹی، بیٹے کی طرح شفقت کریں، ان کے ساتھ اپني بيٹي اور بيٹے كي طرح پیار و محبت سے پیش آئیں، ہر ایک دوسرے کے حق کی ادائیگی کا اہتمام کرے تو اِن شاء اللہ گھر کا ماحول ٹھیک ہوجائےگا۔

جہاں تک بات ہے کہ والدین  یا بہن بھائیوں کے حقوق مقدم ہیں، تو اس میں یہ ذہن نشین رکھنا چاہیےکہ اللہ تعالی نے  ہر ایک  کو الگ الگ رتبہ اور حیثیت دی ہے اور ہر ایک  کو الگ الگ مقام عطاء فرمایاہے،لہذا شوہر کو چاہیے کہ وہ والدین ، بہن بھائیوں اور بیوی سے ہر ایک كے حقوق ادا کرے تاکہ کسی قسم کے ٹکڑاؤ اور تنازع کی صورت پیدا نہ ہو،تاہم اگر کسی موقع پر ٹکڑاؤ کی کیفیت پیدا ہوتو بیوی کو اعتماد میں لے کروالدین کو خوش کر ے تاکہ مخالفت کی فضاپیدا نہ ہو۔

حوالہ جات

(مشکاۃ المصابیح، 2/281،  باب عشرۃ النساء، ط: قدیمی)

"قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «خيركم خيركم لأهله وأنا خيركم لأهلي".

"و فیہ: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «المرأة إذا صلت خمسها وصامت شهرها وأحصنت فرجها وأطاعت بعلها فلتدخل من أي  أبواب الجنة شاءت» . رواه أبو نعيم في الحلية".

(أحكام القرآن للجصاص: 2/  236)

قال العلامةالجصاص  رحمه الله : تضمن قوله تعالى : {الرجال قوامون على النساء} قيامهم عليهن بالتأديب والتدبير والحفظ والصيانة ؛ لما فضل الله به الرجل على المرأة في العقل والرأي ، وبما ألزمه الله تعالى من الإنفاق عليها. فدلت الآية على معان: أحدها: تفضيل الرجل على المرأة في المنزلة ، وأنه هو الذي يقوم بتدبيرها وتأديبها، وهذا يدل على أن له إمساكها في بيته، ومنعها من الخروج ،وأن عليها طاعته وقبول أمره ما لم تكن معصية. ودلت على وجوب نفقتها عليه بقوله: {وبما أنفقوا من أموالهم} ،وهو نظير قوله: {وعلى المولود له رزقهن وكسوتهن بالمعروف} [البقرة: 233] ،وقوله تعالى: {‌لينفق ‌ذو ‌سعة ‌من ‌سعته} [الطلاق: 7] ، وقول النبي صلى الله عليه وسلم: "ولهن رزقهن وكسوتهن بالمعروف". وقوله تعالى: {وبما أنفقوا من أموالهم} منتظم للمهر والنفقة; لأنهما جميعا مما يلزم الزوج لها.

           حضرت خُبیب

دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی

   12  /محرم الحرام/1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

حضرت خبیب بن حضرت عیسیٰ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب