03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
شوہر کیلئے بیوی کی کمائی لینے کا  حکم
87982جائز و ناجائزامور کا بیانجائز و ناجائز کے متفرق مسائل

سوال

میری شادی کو دو سال ہونے والے ہیں اور میں ملازمت کرتی ہوں ، میرے شوہر میری پوری تنخواہ لے لیتے ہیں یہ کہہ کر ،کہ ہم دونوں مل کر گھر چلائیں گے، لیکن جب مجھے ذاتی ضرورت کے لیے رقم چاہیے ہوتی ہے تو مجھے نہیں دی جاتی۔ میرے شوہر اپنی والدہ اور بہن بھائیوں کی باتوں میں آ کر اکثر مجھ سے جھگڑا کرتے ہیں، کئی بار مجھے گھر سے نکالنے کی دھمکی دے چکے ہیں اور ایک بار میرا نومولود بچہ بھی چھین لیا۔

میری دلی خواہش ہے کہ ہمارا گھر آباد ہو، ہم دونوں میاں بیوی سکون اور محبت سے رہیں اور اپنے بیٹے کو ماں باپ دونوں کے سائے میں پال سکیں، مگر میرے شوہر دس ماہ سے مجھ سے دور ہیں اور بات چیت بھی نہیں کرتے۔ میں اُن کے ساتھ رہنا چاہتی ہوں، اُن سے محبت کرتی ہوں اور اپنا گھر بچانا چاہتی ہوں۔

کیا شوہر بیوی کی کمائی لینے کا شرعاً حق رکھتا ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

شادی کے بعد اسلام نے میاں بیوی کے لیے انفرادی ملکیت کا اعتبار کیاہے،اعمال کے اعتبار سے ہر ایک کی اپنی کمائی اور ملکیت ہوتی ہے،چنانچہ قرآن کریم میں اللہ تعالی کا ارشادہے:

"وَلَا تَتَمَنَّوْا۟ مَا فَضَّلَ ٱللَّهُ بِهِۦ بَعْضَكُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ ۚ لِّلرِّجَالِ نَصِيبٌ مِّمَّا ٱكْتَسَبُوا۟ ۖ وَلِلنِّسَآءِ نَصِيبٌ مِّمَّا ٱكْتَسَبْنَ ۚ وَسْـَٔلُوا۟ ٱللَّهَ مِن فَضْلِهِۦٓ ۗ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ بِكُلِّ شَىْءٍ عَلِيمًا ﴿32﴾"

ترجمہ: اور جن چیزوں میں ہم نے تم کو ایک دوسرے پر فوقیت دی ہے، ان کی تمنا نہ کرو، مرد جو کچھ کمائی کریں گے ان کو اس میں سے حصہ ملے گا، اور عورتیں جو کچھ کمائی کریں گی ، ان کو اس میں سے حصہ ملے گا۔ اور اللہ سے اس کا فضل مانگا کرو، بیشک اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے۔

مثلاً:عورت کو بطور میراث یاہبہ کوئی مال ملے یاوہ گھر میں رہتے ہوئے شوہر کے حقوق کی رعایت کے ساتھ سلائی کڑھائی سے کمائے تو یہ آمدن شرعاً عورت کی ملکیت شمار ہوگی۔

بیوی کی کمائی کا حکم یہ ہے کہ شوہر کی اجازت سے جو کچھ بیوی کمائے گی ،اس پراصولاً صرف اسی کا حق ہے، کیونکہ شریعت نے بیوی پر شوہر کا کوئی مالی حق لازم نہیں کیا ہے،لہٰذاعام حالات میں شوہر  اپنی بیوی کی اجازت کے بغیر اس کی کمائی میں تصرف نہیں کر سکتا۔البتہ اگر بیوی شوہرکی اجازت کے بغیر ملازمت کے لیے جاتی ہو تو ایسی صورت میں اس کا نان نفقہ یا تو بالکل شوہر پر لازم نہیں ہوتا یا صرف رات کا نفقہ لازم ہوتا ہے، وہ اس کے باوجود نان نفقہ دیتا ہو تو اس کے بقدر رقم کا مطالبہ بیوی سے کرسکتا ہے۔(تبویب 83167)

حوالہ جات

وفی البخاری: (حدیث نمبر:1466):

  لھا اجران اجر القرابۃ واجر الصدقۃ۔( کتاب الزکاۃ،حدیث نمبر:1466)

مسند احمد: (341/31):

عَنِ الْحُصَيْنِ بْنِ مِحْصَنٍ، أَنَّ عَمَّةً لَهُ أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَاجَةٍ، فَفَرَغَتْ مِنْ حَاجَتِهَا، فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَذَاتُ زَوْجٍ أَنْتِ؟» قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ: «كَيْفَ أَنْتِ لَهُ؟» قَالَتْ: مَا آلُوهُ إِلَّا مَا عَجَزْتُ عَنْهُ، قَالَ: «فَانْظُرِي أَيْنَ أَنْتِ مِنْهُ، فَإِنَّمَا هُوَ جَنَّتُكِ وَنَارُكِ»

بحوث في قضایا فقهیة معاصرة (1/78-74):

والذي یتحصل من استقراء الحقوق التي تحدث الفقهاء عن الاعتیاض عنها أنها تنقسم إلی نوعین: 1- الحقوق الشرعیة: وهي التي تثبت من قبل الشارع، ولا مدخل في ثبوتها للقیاس.

2- الحقوق العرفیة: وهي التي تثبت بحکم العرف، وأقره الشرع. ثم إن کل واحد من هذین النوعین ینقسم إلی قسمین: الأول: الحقوق التي شرعت لدفع الضرر عن أصحابها. الثاني: الحقوق التي شرعت أصالة…………….. الخ

1-الحقوق الضروریة: فأما القسم الأول من هذه الحقوق الشرعیة فمثاله: حق الشفعۃ، فإنه لیس حقا ثابتا بالأصالة؛ لأن الأصل أن المتبایعین إذا عقدا بیعا عن تراضٍ منهما فلا حق للثالث أن یتدخل بینهما، ولکن الشریعة إنما أثبتت حق الشفعة للشریك والخلیط والجار لدفع الضرر عنهم. وکذلك حق المرأة في قسم زوجها لها، إنما شرع لدفع الضرر عنها، وإلا فالزوج له الخیار في أن یتمتع بزوجته ویبیت عندها متی شاء. ویدخل فیه الحضانة وولایة الیتیم وخیار المخیرة. وحکم هذا النوع من الحقوق أنه لایجوز الاعتیاض عنها، لا عن طریق البیع ولا عن طریق الصلح والتنازل بمال…………..الخ

2-الحقوق الأصلیة: وأما النوع الثاني من الحقوق الشرعیة فهي الحقوق التي تثبت لأصحابها أصالة، لا علی وجه دفع الضرر فقط، مثل: حق القصاص، وحق تمتع الزوج بزوجته ببقاء نکاحها معه، وحق الإرث وما إلی ذلك. وحکم هذا النوع من الحقوق أنه لایجوز الاعتیاض عنها بطریق البیع………… ولکن هذه الحقوق یجوز الاعتیاض عنها بطریق الصلح والتنازل بمال، بمعنی أن المستحق في هذه الحقوق یمسك عن استعمال حقه بمال یطالب به من یتضرر باستعمال ذلك الحق……….. وکذلك الزوج له الحق في أن یتمتع بزوجته ببقاء نکاحها معه، ولکنه یمسك عن استعمال هذا الحق بمال تفتدي به المرأة، وهو الخلع والطلاق علی مال، وذلك جائز بنص القرآن، وعلی ذلك انعقد الإجماع.

           حضرت خُبیب

دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی

   12  /محرم الحرام/1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

حضرت خبیب بن حضرت عیسیٰ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب