| 87979 | طلاق کے احکام | الفاظ کنایہ سے طلاق کا بیان |
سوال
زرش اور راشد کے درمیان نکاح ہوا ۔رخصتی کے بعد دونوں کے درمیان نباہ نہ ہونے کی وجہ سے بارہا ں ان کے درمیان تکرار ہوتا رہا۔ بیوی ایک دن فون پر اپنی دوست سے بات کر رہی تھی کہ اچانک شوہر گھر میں داخل ہوا اور اس کا موبائل چھین لیا، کہا کہ تم ہمیشہ فون پہ لگی رہتی ہو یا لیٹی رہتی ہو گھر کے سارے کام میری والدہ کرتی ہیں۔ اس بات پر دونوں کے درمیان تلخ کلامی ہوئی۔ اس تلخ کلامی کے بعد شوہر اپنے کام پر دوسرے شہر جانے لگا اور بیوی سے کہا کہ میرے کپڑے پیک کرو ۔بیوی نے انکار کر دیا، پھر ان کے باہمی مکالمے میں تھوڑی دیر انقطاع رہا۔ شوہر کافی دیر تک خاموش سر جھکائےبیٹھا رہا، پھر اچانک سر اٹھا کر کہتا ہے "تم میری طرف سے آزاد ہو"۔ شوہر کے یہ الفاظ کہنے کے بعد بیوی اپنے والدین کے پاس واپس چلی گئی۔ دونوں خاندانوں کے بڑوں نے بیٹھ کر جرگہ کیا ۔جرگے میں شوہر نے کہا کہ میرے کہنے کا مطلب یہ تھا کہ تم آزاد ہو چاہے میرا کام کرو یا نہ کرو۔ میرا مقصد آزاد کہنے سے طلاق نہیں تھا۔ اس کے بعد میاں بیوی کے بیانات کو مد نظر رکھتے ہوئےایک مقامی عالم کو کال کی گئی اور انہیں اول تا آخر ساری صورت حال سے آگاہ کیا گیا۔ انھوں نے کہا کہ چونکہ شوہر نے طلاق کی نیت نہیں کی تھی اس وجہ سے شوہر کے ان الفاظ "تم آزاد ہو" کے ساتھ طلاق واقع نہیں ہوئی۔ ازراہ کرم رہنمائی فرمائیں کہ کیا ان الفاظ کے ساتھ طلاق واقع ہو گئی یا نہیں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
آزا د کا لفظ عرف عام میں طلاق کے لیے استعمال بھی ہوتا ہے، خصوصاً جب یہ لفظ لڑائی جھگڑے اور غصہ کی حالت میں بولا جائے،تو اس سے طلاق ہی کا معنیٰ مراد ہوتا ہے ۔لہذا صورت مسئولہ میں شوہر کا بیوی کو جھگڑے کی حالت میں "تم میری طرف سے آزاد ہو" کہنے سے ایک طلاق بائن واقع ہوگئی اور نکاح ختم ہو گیا۔دوسری جگہ نکاح کرنے کے لیے عورت پر عدتِ طلاق پوری کرنا ضروری ہے ۔اسی شوہر کے ساتھ رہنا ہو تو عدت مکمل ہونے سے پہلے یا اس کے بعد نئے مہر اور گواہوں کی موجودگی میں دوبارہ نکاح کرنا ضروری ہے۔نکا ح کی تجدیدکیے بغیر کسی قسم کا تعلق رکھنا جائز نہیں۔ دوبارہ نکاح کرنے کی صورت میں شوہر کو صرف دو طلاقوں کا اختیار ہوگا ۔
حوالہ جات
ولو قال في حال مذاكرة الطلاق باينتك أو أبنتك أو أبنت منك أو لا سلطان لي عليك أو سرحتك أو وهبتك لنفسك أو خليت سبيلك أو أنت سائبة أو أنت حرة أو أنت أعلم بشأنك. فقالت: اخترت نفسي. يقع الطلاق وإن قال لم أنو الطلاق لا يصدق قضاء. ( الفتاوى الهندية:1/ 375)
قد مر أن الصريح ما غلب في العرف استعماله في الطلاق بحيث لا يستعمل عرفا إلا فيه من أي لغة كانت، وهذا في عرف زماننا كذلك فوجب اعتباره صريحا كما أفتى المتأخرون في أنت علي حرام بأنه طلاق بائن للعرف بلا نية مع أن المنصوص عليه عند المتقدمين توقفه على النية.
(الدر المختار مع رد المحتار:3/ 252)
ثم الكنايات ثلاثة أقسام (ما يصلح جوابا لا غير) أمرك بيدك، اختاري، اعتدي (وما يصلح جوابا وردا لا غير) اخرجي اذهبي اعزبي قومي تقنعي استتري تخمري (وما يصلح جوابا وشتما) خلية برية بتة بتلة بائن حرام والأحوال ثلاثة (حالة) الرضا (وحالة) مذاكرة الطلاق بأن تسأل هي طلاقها أو غيرها يسأل طلاقها (وحالة) الغضب ففي حالة الرضا لا يقع الطلاق في الألفاظ كلها إلا بالنية والقول قول الزوج في ترك النية مع اليمين وفي حالة مذاكرة الطلاق يقع الطلاق في سائر الأقسام قضاء إلا فيما يصلح جوابا وردا فإنه لا يجعل طلاقا كذا في الكافي وفي حالة الغضب يصدق في جميع ذلك لاحتمال الرد والسب إلا فيما يصلح للطلاق ولا يصلح للرد والشتم كقوله اعتدي واختاري وأمرك بيدك فإنه لا يصدق فيها .كذا في الهداية.
(الفتاوى الهندية : 1/ 374) (احسن الفتاویٰ:5/202)
محمد علی
دارالافتاء جامعۃ الرشید،کراچی
12/محرم الحرام1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد علی ولد محمد عبداللہ | مفتیان | فیصل احمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب |


