03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
’’گھر ہمیشہ کیلئے چھوڑ کر چلی جاتی ہوں‘‘ کے جواب میں شوہر کا ’’چلی جاؤ ‘‘کہنے کا حکم
88039طلاق کے احکامالفاظ کنایہ سے طلاق کا بیان

سوال

ہم میاں بیوی  کے درمیان لڑائی ہوئی ۔میری بیوی نے کہا :’’ میں اپنے بچوں کو لے کر اس گھر سے پکی  پکی ہمیشہ کیلئے چھوڑ کر چلی جاتی ہوں۔کیا میں چلی جاؤں؟ ‘‘میں نے کہا:’’ چلی جاؤ ۔‘‘میرے دل میں خیال آیا یعنی ڈر لگا کہ کہیں اس طرح کہنے سے طلاق تو نہیں ہو جاتی ۔پھر سوچنے لگا کہ اگر یہ مجھے ہمیشہ کیلئے چھوڑ کر جانا چاہتی ہے تو چلی جائے اس کو رکھنے کا کیا فائدہ  اور اگر اس طرح کہنے سےطلاق ہوتی ہے تو ہو جائے ابھی میں ان سوچوں میں ہی  گم تھا کہ اس نے دوسری بار پوچھا :’’ کیا میں چلی جاؤں؟‘‘ میں نے دوسری بار بھی غصے سے کہا:’’چلی جاؤ ۔‘‘تیسری بار بھی اس نے پوچھا :’’ کیا میں چلی جاؤں ؟‘‘میں نے تیسری مرتبہ بھی غصے سے کہا:’’ چلی جاؤ ۔‘‘اس کےبعد  میں نے غصے پر قابو پایا اور اسے راضی کیا اور وہ راضی ہو گئی اور مجھے چھوڑ کر نہ گئی ۔اس صورت میں طلاق کے کیا احکامات ہیں کہ طلاق ہوگئی یا نہیں ؟ آئندہ کیلئے کیا حکم ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

            بطور تمہید واضح رہےکہ ’’چلی جاؤ‘‘ طلاق کے باب میں  کنائی جملہ ہے۔اس جملے کے ذریعہ طلا ق اس  صورت میں واقع ہوتی ہے کہ جب الفاظ کی ادائیگی کے وقت شوہر کی نیت طلاق دینے کی  ہو۔سوال میں مذکور صورت  میں جب پہلی مرتبہ شوہر نے بیوی سے کہا کہ’’چلی جاؤ‘‘تو  ساتھ نیت میں تردد  تھا جس کی وجہ سے طلاق واقع نہ ہوگی،لیکن دوسری اور تیسری مرتبہ نیت موجود تھی،لہذا  دوسری مرتبہ ’’چلی جاؤ‘‘ کہنے سے ایک طلاق بائن واقع ہوگئی اور نکاح ختم ہوگیا ،اس کے بعد تیسری مرتبہ’’چلی جاؤ‘‘  کہنا اس بناء پر کالعدم تصورگا، کہ یہ کنائی بائن طلاق ہےاور کنائی بائن کے ساتھ دوسری کنائی بائن جمع نہیں ہوسکتی۔لہٰذامسئولہ صورت میں  صرف ایک بائن طلاق  واقع ہوئی ہے،لہٰذااگر زوجین اپنی ازدواجی حیثیت دوبارہ قائم کرنا چاہتے ہیں تو وہ نئے مہر کے ساتھ  گواہان کی موجودگی میں از سر نو نکاح کرسکتے ہیں،آئندہ شوہر کو   صرف دو  طلاقیں دینے  کا اختیار ہوگا۔

حوالہ جات

البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (3/ 326):

(قَوْلُهُ: اُخْرُجِي ‌اذْهَبِي قُومِي) لِحَاجَةٍ أَوْ لِأَنِّي طَلَّقْتُك قَيَّدَ بِاقْتِصَارِهِ عَلَى ‌اذْهَبِي لِأَنَّهُ لَوْ قَالَ: ‌اذْهَبِي فَبِيعِي ثَوْبَك لَا يَقَعُ، وَإِنْ نَوَى، وَلَوْ قَالَ: ‌اذْهَبِي إلَى جَهَنَّمَ يَقَعُ إنْ نَوَى كَذَا فِي الْخُلَاصَةِ، وَلَوْ قَالَ: ‌اذْهَبِي فَتَزَوَّجِي وَقَالَ: لَمْ أَنْوِ الطَّلَاقَ لَمْ يَقَعْ شَيْءٌ لِأَنَّ مَعْنَاهُ تَزَوَّجِي إنْ أَمْكَنَك وَحَلَّ لَك كَذَا فِي شَرْحِ الْجَامِعِ الصَّغِيرِ لِقَاضِي خَانْ.

البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (3/ 311):

وَإِذَا بَانَتْ بِالْمَرَّةِ الْأُولَى لَا تَبِينُ بِالثَّانِيَةِ، وَالثَّالِثَةِ وَهَكَذَا لِأَنَّ ‌الْبَائِنَ ‌لَا يَلْحَقُ الْبَائِنَ.

النكت شرح زيادات الزيادات للسرخسي - وشرح العتابي (ص56):

وَلَو كَانَ الواقعع بالْكلَام الأول الْبَائِن لَغَا كَلَامه الثَّانِي لِأَن ‌الْبَائِن ‌لَا يلْحق الْبَائِن وَلَو كَانَ رَجْعِيًا صَحَّ كَلَامه الثَّانِي.

حماد الدین قریشی

دارالافتاءجامعۃ الرشید، کراچی

14    /محرم/1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

حماد الدین قریشی بن فہیم الدین قریشی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب