| 87974 | طلاق کے احکام | طلاق کے متفرق مسائل |
سوال
السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ! میرا نکاح ہوئے دس دن گزر چکے ہیں، ابھی رخصتی نہیں ہوئی تھی اور نہ ہی نکاح کے بعد لڑکی سے دوبارہ ملاقات ہوئی، سوائے طلاق والے دن کے،دونوں گھر والوں کی رضا مندی سے ایک بار رو بہ رو طلاق دی گئی،پھر زبردستی کہلوائی گئی دو مرتبہ 30 منٹ کے وقفے سے موبائل کال پر،تحریری طور پر طلاق نہیں دی گئی، یعنی لکھ کر ایک بار بھی طلاق نہیں دی گئی۔
سوال یہ ہے کہ:
1. کیا نکاح وقتی طور پر ختم ہو چکا ہے؟
2. کیا ایک طلاق ہوئی ہے یا زیادہ؟
3. اگر دوبارہ نکاح کرنا ہو تو کیا مکمل نئے کاغذات پر نکاح ہوگا یا پہلے والے نکاح نامے پر ہی دوبارہ نکاح پڑھایا جا سکتا ہے؟
4. دوبارہ نکاح کے لیے کیا شرعی و قانونی کاروائی مکمل نئے سرے سے ہوگی؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
نکاح کےبعدہمبستری یا خلوت صحیحہ سے پہلے، بیوی کو الگ الگ جملوں میں تین طلاق دینے سے ایک طلاق بائن واقع ہوتی ہے، ایسی صورت میں نکاح ختم ہوجاتا ہے،دوبارہ باہمی رضامندی سے نئے مہر کے ساتھ گواہوں کی موجودگی میں نیا نکاح کرسکتے ہیں، "خلوت صحیحہ" سے مراد یہ ہے کہ میاں بیوی ایسی جگہ میں تنہا جمع ہو جائیں، جہاں ازدواجی تعلقات قائم کرنے میں کوئی حسی، شرعی یا طبعی رکاوٹ نہ ہو۔
صورت مسؤلہ میں بھی اگر ہمبستری اور خلوت صحیحہ نہ ہوتو فقط ایک طلاق بائن واقع ہوگئی ہے،بقیہ دوطلاقیں واقع نہیں ہوئی ہیں،اس کے بعداوپر ذکرکردہ صورت کے مطابق دوبارہ نیانکاح
کرسکتے ہیں۔
اگر ان کے درمیان خلوت صحیحہ ہوچکی ہوتو پھر تینوں طلاق واقع ہوگئی ہیں،اب میاں بیوی کے درمیان رشتہ ختم ہوچکاہے،بغیر حلالہ شرعیہ کے نیا نکاح نہیں کرسکتے ہیں۔
حوالہ جات
الفتاوي الهندية: (304/1):
"وَالْخَلْوَةُ الصَّحِيحَةُ أَنْ يَجْتَمِعَا فِي مَكَان لَيْسَ هُنَاكَ مَانِعٌ يَمْنَعُهُ مِنْ الْوَطْءِ حِسًّا أَوْ شَرْعًا أَوْ طَبْعًا، كَذَا فِي فَتَاوَى قَاضِي خَانْ
البحر الرائق شرح كنز الدقائق (3/ 162):
وقد شرط المصنف في إقامتها مقام الوطء شروطا ترجع إلى أربعة أشياء الخلوة الحقيقية وعدم مانع حسي وعدم مانع طبعي وعدم مانع شرعي من الوطء.
فالأول للاحتراز عما إذا كان هناثالث فليست بخلوة ،سواء كان ذلك الثالث بصيرا أو أعمى أو يقظانا أو نائما بالغا أو صبيا يعقل وفصل في المبتغى في الأعمى فإن لم يقف على حاله تصح وإن كان أصم إن كان نهارا لا تصح وإن كان ليلا تصح اهـ
وللاحتراز عن مكان لا يصلح للخلوة والصالح لها أن يأمنا فيه اطلاع غيرهما عليهما كالدار والبيت ولو لم يكن له سقف، وكذا الخيمة في المفازة والمحل الذي عليه قبة مضروبةوكذا البستان الذي له باب وأغلق فلا تصح في المسجد والطريق الأعظم والحمام وسطح الدار من غير ساتر والبستان الذي ليس له باب وإن لم يكن هناك أحد واختلف في البيت إذا كان بابه مفتوحا أو طوابقه بحيث لو نظر إنسان رآهما ففي مجموع النوازل إن كان لا يدخل عليهما أحد إلا بإذن فهي خلوة واختار في الذخيرة أنه مانع وهو الظاهر".
سید نوید اللہ
دارالافتاء،جامعۃ الرشید
13/ محرم 1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید نوید اللہ | مفتیان | محمد حسین خلیل خیل صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب |


