03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
بیوی کا جماع سے انکار کا حکم
88006طلاق کے احکامطلاق کے متفرق مسائل

سوال

میری شادی کو تقریباً چھ (6) ماہ ہو چکے ہیں اور میری اہلیہ اس وقت حمل کے پانچویں مہینے میں ہے۔ شادی کے ابتدائی ایّام میں تعلق کچھ بہتر رہا، لیکن گزشتہ کچھ عرصے سے میری بیوی کا رویہ شدید سرد ہے۔

اب تقریباً ایک ماہ سے میری اہلیہ نے بلا کسی  شرعی عذر کے مجھ سے ازدواجی تعلقات قائم کرنے سے مکمل انکار کر رکھا ہے۔ ہر بار کوئی نہ کوئی  بہانہ جیسے ،موڈ نہیں ہے،  جسمانی تھکاوٹ  ہےیا طبیعت خراب ہےوغیرہ، کا بہانہ بناتی ہے، اور ہر طرح کی محبت یا بیوی والے تعلق سے دُوری اختیار کیے ہوئی ہے۔

میں نے نرمی سے بات بھی کی، اصلاح کی کوشش بھی کی، والدین سے بھی مشورہ لیا، مگر کوئی بہتری نہیں آئی۔ میں اس مسلسل انکار، ٹال مٹول، اور ازدواجی فرائض سے روگردانی کو اپنی ازدواجی زندگی کے لیے خطرہ سمجھتا ہوں۔لہٰذامیری رہنمائی فرمائیں کہ کیا بیوی کا بلا عذر شرعی مسلسل ایک ماہ تک ازدواجی تعلق (جماع)سے انکار کرنا شرعاًجائز ہے؟ 

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح  رہے کہ  بیوی  پر  ہر جائز کام میں  شوہر کی  اطاعت کرنا  لازم ہے ۔ ان جائز کاموں میں سے ایک شوہر کا اپنی بیوی سے  جائز  طریقے کے مطابق جماع( ہم بستری  )کرنا   ہے،  بیوی کے  لیے شرعی  یا طبعی کے  بغیر ہم بستری سے شوہر کو  روکنا شرعاً جائز نہیں۔  احادیث میں ایسی بیوی کے بارے میں سخت وعیدیں آئی ہیں اور شوہر کے  لیے بھی  مناسب ہے کہ بیوی کی صحت ،طبعیت، اعذار  اور مزاج کا خیال رکھتے ہوئے مباشرت کرے۔

حوالہ جات

بخاری (جلد 4 ص: 116، ط: دار الطوق النجاۃ)

عن أبي هريرة رضي الله عنه، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إذا دعا الرجل امرأته إلى فراشه فأبت فبات غضبان عليها لعنتها الملائكة حتى تصبح.

ترجمہ: جب کسی شوہر نے اپنی بیوی کو اپنے بستر پر بلایا اور وہ نہ آئی، پھر اسی طرح غصہ میں اس نے رات گزاری تو صبح تک سارے فرشتے اس عورت پر لعنت کرتے رہتے ہیں۔

وعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :"إِذَا بَاتَتْ الْمَرْأَةُ مُهَاجِرَةً فِرَاشَ زَوْجِهَا لَعَنَتْهَا الْمَلَائِكَةُ حَتَّى تَرْجِعَ". رواه البخاري.(النكاح/4795)

 ترجمہ: جب کوئی عورت اپنے شوہر کے بستر چھوڑ کر رات گزارتی ہے تو فرشتے اس پر لعنت کرتے رہتے ہیں یہاں تک کہ وہ لوٹ آئے۔

"وعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا مِنْ رَجُلٍ يَدْعُو امْرَأَتَهُ إِلَى فِرَاشِهَا فَتَأْبَى عَلَيْهِ إِلا كَانَ الَّذِي فِي السَّمَاءِ سَاخِطًا عَلَيْهَا حَتَّى يَرْضَى عَنْهَا". رواه مسلم. (النكاح/1736)

 ترجمہ: رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے، جو شخص اپنی بیوی کو اپنے پاس بستر پر بلائے، وہ انکار کردے تو باری تعالی اس سے ناراض رہتا ہے یہاں تک کہ شوہر اس (بیوی) سے راضی ہوجائے۔

بدائع الصنائع (2/665):

“وللزوج أن يطالبها بالوطء متى شاء إلا عند اعتراض أسباب مانعة من الوطء كالحيض والنفاس والظهار والإحرام وغير ذلك.

حضرت خُبیب

دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی

   16  /محرم الحرام/1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

حضرت خبیب بن حضرت عیسیٰ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب