| 89233 | اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائل | ملازمت کے احکام |
سوال
میں پچھلے 5 سال سے بے روزگار اور شدید مالی مشکلات کا شکار ہوں۔ گھر، زمین، گاڑی سب فروخت کردیے ہیں اور سب کام ناکام ہوگئے ہیں۔ پچھلے سال میرا امریکہ کا وزٹ ویزا لگا۔ اس پر میں قرض لے کر امریکہ گیا اور ایک اسٹور پر بڑی مشکل سے ملازمت ملی۔ وہاں شراب بھی فروخت ہوتی تھی اور جوا بھی ہوتا تھا، جسے وہاں لاٹری کہتے ہیں۔ میں نے 6 مہینے وہاں کام کیا مگر دل مطمئن نہیں تھا۔ اس لیے قرض ادا کر کے کچھ پیسے بچاکر واپس آگیا۔ اب پھر سے ایک دوست نے کہا ہے کہ اسی طرح کی نوکری کرنا چاہو تو آجاؤ۔ وہاں وزٹ ویزہ پر ملازمت کی اجازت نہیں ہے۔ شراب اور جوا دونوں حرام ہیں اور میں یہ ملازمت نہیں کرنا چاہتا۔ الحمدللہ میری 55 سال سے زیادہ عمر ہے اور باشرع ہوں۔ زندگی کو حتی الوسع قرآن و سنت کے مطابق گزارنے کی کوشش کرتا ہوں۔ مالی پریشانی اور قرض کو دیکھتے ہوئے بیوی اور بچے زور دیتے ہیں کہ اس حالت میں یہ کام کرلیں۔ اللہ کو ہماری حالت کا پتہ ہے، مجبوری ہے، میں سخت پریشان ہوں، میری رہنمائی فرمائیں۔ جزاکم اللہ خیرا۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ بیرون ملک ملازمت کے لیے ورک ویزا بنوانے کے بجائے وزٹ ویزا لے کر جانا قانون کی خلاف ورزی ہے۔ کیوں کہ وزٹ ویزا صرف سیاحت، چھٹیاں گزارنے،دوستوں یا رشتہ داروں کے ساتھ ملاقات کرنے اور علاج وغیرہ کرانے کے لیے جاری کیا جاتا ہے۔ لہذا وزٹ ویزا پر ملازمت کے لیے جانا جھوٹ و دھوکہ دہی جیسے گناہوں کی وجہ سے ناجائز ہے۔ البتہ اگر کوئی شخص وزٹ ویزا پر بیرون ملک ملازمت کے لیے چلا بھی جائے، تو کوئی ایسی ملازمت جو شرعا جائز ہو،اس کی آمدن اس کے لیے جائز ہوگی۔
بیان کردہ اسٹور میں چونکہ حلال و حرام دونوں طرح کی چیزیں بیچی جاتی ہیں، اس لیے یہ ملازمت جائز نہیں ۔ البتہ اگر ممکن ہو تو اپنی ملازمت حلال اشیاء کی فروخت تک محدود کروالیں۔ اور اگر ممکن نہ ہو تو کسی اور جگہ حلال ملازمت کے لیے کوشش کریں، تب تک اس کام کو حرام سمجھ کر کریں۔ اور بقدر حرام اجرت صدقہ کر دیا کریں۔ اس کا طریقہ کار یہ ہے کہ آپ اپنی ڈیوٹی میں جتنا وقت شراب اور لاٹری کے فروخت میں صرف کریں،اتنے وقت کے بقدر اپنی تنخواہ میں سے رقم کی کٹوتی کرکےاسے بلانیت ثواب صدقہ کردیں۔
حوالہ جات
(Travel.State.Gov: U.S. Visas, Visitor Visa)
“Here are some examples of activities permitted with a visitor visa: Tourism, Vacation (holiday), Visit with friends or relatives, Medical treatment...
An individual on a visitor visa (B1/B2) is not permitted to accept employment or work in the United States.”
https://share.google/05br7XFLn8wQkkQiB (4/12/2025)
سنن الترمذی: (ج:3،ص:408،ط: الرسالة)
"عن ابن عمر، قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: "إن الغادر ينصب له لواء يوم القيامة".
الفتاوى الهندية:(ج:4،ص:462،ط:العلمیة)
"ومنها أن يكون مقدور الاستيفاء حقيقة أو شرعا فلا يجوز استئجار الآبق ولا الاستئجار على المعاصي؛ لأنه استئجار على منفعة غير مقدورة الاستيفاء شرعا. "
بحوث في قضايا فقهية معاصرة: (ج:1،ص:324،ط:ادارة الشؤون الاسلامیة)
"العمل في مطاعم الكفار إنما يجوز بشرط أن لا يباشر المسلم سقي الخمر، أو تقديم الخنزير، أو المحرمات الأخرى."
فقہ البیوع:(ج: 2، ص:1058،ط:معارف القرآن)
"والحاصل أن الإجارة في الخدمة المباحة إنما تصح إذا كانت أجرتها معلومة بانفرادها، ولا تصح فيما إذا لم تكن أجرتها معلومة، فإن كان كذلك في خدمات الفنادق والمطاعم والبنوك وشركات التأمين صارت أجرة الموظف فيها مركبة من الحلال والحرام... وحل التعامل معه بقدر الحلال. أما إذا لم تعرف أجرة الخدمة المباحة على حدتها، فالإجارة فاسدة، ولكن الأجير يستحق أجر المثل في الإجارات الفاسدة... وعلى هذا، فإن ما يُقابل أجر المثل للخدمة المباحة في راتبه ينبغى أن يكون حلالاً. فصار راتبه مخلوطاً من الحلال والحرام في هذه الصورة أيضاً. فينبغي أن يجوز معه التعامل بقدر الحلال. "
ردالمحتار: (ج:5،ص:99،ط:ایچ ایم سعید)
"والحاصل أنه إن علم أرباب الأموال وجب رده عليهم، وإلا فإن علم عين الحرام لا يحل له ويتصدق به بنية صاحبه."
سید سمیع اللہ شاہ سید جلیل شاہ
دارالافتاءجامعۃ الرشید ،کراچی
15/ جمادی الاخری 1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید سمیع اللہ شاہ بن سید جلیل شاہ | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


