03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
اورل سیکس کا حکم
88012جائز و ناجائزامور کا بیانعورت کو دیکھنے ، چھونے اورجماع کرنے کے احکام

سوال

اورل سیکس کرنا کیسا ہے؟اگر اورل سیکس کرتے وقت مرد یا عورت کی شرمگاہ سے مذی نکل کر گلے تک پہنچ جائے تو اس سے گناہ ہوگا یا نہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

اورل سیکس نہایت قبیح اور غیر فطری عمل ہے،کیونکہ اس کے نتیجے میں مرد وعورت کی شرمگاہ سے نکلنے والی رطوبت  سےجو کہ نجس  اور حرام ہے زبان کو بچانا ممکن نہیں،بلکہ بسااوقات وہ لعاب میں شامل ہوکر گلے یا معدے تک بھی پہنچ جاتی ہےاور شریعت میں نجاست اور گندگی سے بچنے کے اہتمام کا حکم ہے،خاص کرزبان جیسے محترم عضو کو تونجاست سے دور رکھنے کا اہتمام بدرجہ اولی ضروری ہے ،کیونکہ اس سے اللہ کا نام لیا جاتا ہے،ذکر واذکار اور تلاوت کی جاتی ،اس لئے مذکورہ صورت میں اس عمل سے میاں بیوی دونوں گناہ گار ہوں گے،ان کے ذمے لازم ہے کہ اپنے کئے پر توبہ واستغفار کریں اور آئندہ خواہش کی تسکین کے لئے فطری طریقہ اختیار کریں،اس شنیع عمل سے احتراز کریں۔

حوالہ جات

"الفقه الإسلامي وأدلته للزحيلي "(4/ 2641):

"ويجوز الاستمتاع بها فيما بين الأليتين، لقوله تعالى: {إلا على أزواجهم أو ما ملكت أيمانهم فإنهم غير ملومين} [المؤمنون:6/ 23] ويجوز وطؤها في القبل مدبرة لقول جابر: «يأتيها من حيث شاء مقبلة أو مدبرة إذا كان ذلك في الفرج».

وربما كان أسوأ من الدبر: وضع الذكر في فم المرأة ونحوه، مما جاءنا من شذوذ الغربيين، فيكون ذلك حراماً لثبوت ضرره وقبحه شرعاً وذوقاً   ".

محمد طارق

دارالافتاءجامعۃالرشید

16/محرم 1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد طارق غرفی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب