03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
فری لانسنگ اکاؤنٹ پر جعلی ریویو (Review)دینا
88097اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائلکرایہ داری کے جدید مسائل

سوال

میری آپ سے ایک اہم مسئلے میں رہنمائی درکار ہے جو کہ فری لانسنگ پلیٹ فارم Upwork سے متعلق ہے۔ میں نے اپنی پروفائل مضبوط بنانے اور اصل کلائنٹس سے کام حاصل کرنے کے لیے ایک حکمتِ عملی اپنائی، جس میں میں نے ایک کلائنٹ اکاؤنٹ خود بنایا اور اس سے جعلی پروجیکٹس پوسٹ کیے۔ پھر میں نے اپنے فری لانس اکاؤنٹ سے ان پروجیکٹس پر اپلائی کیا، خود ہی کام جیتا، مکمل کیا، اور اپنے آپ کو اچھے ریویوز اور ریٹنگز دی تاکہ میری پروفائل پر اچھا تاثر بنے اور اصلی کلائنٹس مجھے کام دینا شروع کریں۔ اس پورے عمل میں نہ Upwork کو کسی قسم کا مالی نقصان ہوا ہے اور نہ ہی کسی اور فری لانسر کا حق مارا گیا ہے۔ صرف مقصد یہ تھا کہ پروفائل پر اچھا تاثر قائم ہو جائے تاکہ اصل کلائنٹس اعتماد کے ساتھ پروجیکٹ دیں۔

تو کیا اس طرح کے جعلی اکاؤنٹ سے جعلی ریویو دینا ٹھیک تھا ، جبکہ  اس سے نہ Upwork کو کسی قسم کا مالی نقصان ہوا ہے اور نہ ہی کسی اور فری لانسر کو ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ کسی خدمات یا پراڈکٹس کے بارے میں جعلی ریویو لکھنا یا لکھوانا دھوکہ دہی، جعل سازی اور غلط بیانی کے زمرے میں آتا ہے، کیونکہ اسی ریٹنگ اور ریویو کی بنیاد پر لوگ اعتماد کرکے فری لانسر سے رابطہ کرتے ہیں، جب کہ بسا اوقات خدمات یا پراڈکٹس ریویوز یا ریٹنگ کے مطابق نہیں ہوتیں۔حدیث شریف کے مطابق سچائی کاروبار میں برکت کا باعث بنتی ہے، اور جھوٹ کی وجہ سے کاروبار کی برکت ختم ہوجاتی ہےاوررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشادِ مبارک ہے:"جو دھوکا دے، وہ ہم میں سے نہیں ہے"۔

لہٰذا سروسز کی ریٹنگ یا پروڈکٹ رینکنگ کے لیے مذکورہ طریقہ استعمال کرنا جائز نہیں۔ اس پر صدقِ دل سے توبہ و استغفار کرنا چاہیے اور آئندہ ایسا طریقہ اختیار کرنے سے اجتناب ضروری ہے۔

حوالہ جات

شرح النووی علی مسلم ."(كتاب الإيمان، باب الكبائر وأكبرها، ج:٢، ص:٨٢-٨٨، ط:دار إحياء التراث العربي)

(أبو بكرة رضي الله عنه قال كنا عند رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال ألا أنبئكم بأكبرالكبائر، ثلاثا، الإشراك بالله وعقوق الوالدين وشهادة الزور أو قول الزور وكان رسول الله صلى الله عليه وسلم متكئا فجلس فما زال يكررها حتى قلنا ليته سكت)...وأما قوله فكان متكئا فجلس فما زال يكررها حتى قلنا ليته سكت فجلوسه صلى الله عليه وسلم لاهتمامه بهذا الأمر وهو يفيد تأكيد تحريمه وعظم قبحه وأما قولهم ليته سكت فإنما قالوه وتمنوه شفقة على رسول الله صلى الله عليه وسلم وكراهة لما يزعجه ويغضبه

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (5/ 233)

(ومنها) النجش وهو أن يمدح السلعة ويطلبها بثمن ثم لا يشتريه بنفسه ولكن ليسمع غيره فيزيد في ثمنه وإنه مكروه لما روي عن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - أنه «نهى عن النجش» ؛ ولأنه احتيال للإضرار بأخيه المسلم.

فقہ البیوع،ج:۲،ص:۹۸۸)

 ولذلك أجمع الفقهاء على حرمته(النجش). فإن كان الناجش فعل ذلك من عند نفسه، ولم يعلم به البائع أو لم يأمره، فالإثم على الناجش وحده، وإن وقع ذلك بمواطأة من قبل البائع، فالإثم عليهما.

           حضرت خُبیب

دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی

   19  /محرم الحرام/1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

حضرت خبیب بن حضرت عیسیٰ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب