| 84463 | طلاق کے احکام | خلع اور اس کے احکام |
سوال
کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
میرانام ........... ہے اورلاہورکی رہائشی ہوں ،شادی کے بعد تقریباً انیس سال پہلےیہاں کنیڈا آگئی تھی ،میرے تین بچے ہیں،اب میں اپنے خاوند سے ایک سال سے علیحدہ رہ رہی ہوں ،دراصل میرا خاوند نفسیاتی قسم کا انسان ہے،ان کو ایک دم غصہ آتاہے اورچھوٹی جھوٹی باتوں پرٕوہ غصہ کرتے ہیں، میں نے کافی عرصہ صبرکیا اورگھر والوں کو نہیں بتایا، مگردل سے خوش نہ تھی، پھرآہستہ آہستہ وہ شخص میرے دل سے اترتےگئے،اورمیرادل ان سے اچاٹ ہوگیا، میرے پاس پیسوں کی کمی نہیں ہے ،مجھے عزت وسکون میسر نہیں جوہونا چاہیے ، پھر میں نے گھر والوں کو کہنا شروع کیا کہ میر ادل ان سے اچاٹ ہوگیا ہے ،ان کے ساتھ ہمبستری کرنے کوبھی بالکل دل نہیں کرتا، وہ زبردستی کرتے ہیں جس سے مجھے تکلیف ہوتی ہے، میں نے استخارےکئے ،بہت ساری نمازیں پڑھی اوردعائیں کی ہے،مگربات نہ بنی،وہ برابرمیرےدل سےاترتے چلے گئے، مصالحت کی کوشش بھی کی لیکن بے سود،پھر میں نے طلاق کا کیس داخل کردیا تو انہوں نے مجھے دھمکی دی کہ کیس واپس لے لو،ورنہ بدنام کردوں گا اورچین سے رہنے نہیں دوں گا ،میرے گھر والے پریشان ہوگئے اورکیس واپس لیکرپاکستان آنے کا کہا، مگر میں نے انکارکیا اوروہی رہ کراللہ کے بھروسے کیس لڑنے کا فیصلہ کیا، میرے کنیڈا والی نند بھی لوگوں اورمیری دوسری نند(برطانیہ والی) سے میرے بارےمیں الٹی سیدھی باتیں کرتی ہے، مگر میرے گھروالوں کےسامنے مکرجاتی ہے ،ایک موقع پر میں نے شوہر کوبولاکہ میں آپ کے ساتھ رہنے کےلیے تیارہوں، مگراپنی جائیداد بچوں کے نام کردیں، کیونکہ آپ کے بہنوں کا اس میں حق نہیں ہے، مگر انہوں نے انکارکردیا،وہ ہردفعہ مجھ سے زبردستی جماع کرتے ہیں جس سے مجھے تکلیف ہوتی ہے، میں نے جب طلاق کی درخواست دی تو مجھے ایک سال علیحدہ رہنا تھا، اس کے بعد یہاں کے قانون کے مطابق طلاق ہونی تھی، مگرے میرے شوہر کیس کو لٹکائے جارہے ہیں کہ اتنی آسانی سے نہیں چھوڑوں گا اورتم میرے قدموں میں آکر گروگی، مجھے خرچے کی ضرورت نہیں ہے ،میں خود کماتی ہوں اوربچے بھی میرےساتھ رہتے ہیں ، کبھی کبھار والد سے مل کر آتے ہیں ،میں کہیں اورشادی کرنا چاہتی ہوں، تاکہ عزت سے جی سکوں ،لیکن میرے شوہر کیس کو لٹکارہے ہیں اوراس دوران انہوں نےاپنی جائیداد بھی بہنوں کے نام کردی ،کیونکہ طلاق ہونے کی صورت میں یہاں کے قانون کے مطابق نصف جائیداد بیوی کو دینی پڑتی ہے، شوہر کے رویہ اورنندوں کے طرزِعمل کی وجہ سےپریشان ہوں ،شوہر نےتو میرا موبائل بھی دیوارپر مارکرٹوردیاتھا، وہ گھر بالکل اورطرح رہتے ہیں اورباہر ایسے شوکرتے ہیں کہ جیسے وہ مجھ سے معافی مانگ رہے ہیں، جبکہ وہ مجھے تنگ کرتے ہیں ،بس مفتی صاحب مجھے ان کے ساتھ نہیں رہنا، میرے دل سےوہ شخص گرچکاہے ،مجھے وہ شوہر کے طورپر قبول نہیں ہے ،مجھے ان سے چڑہونے لگی ہے،کھانے پینے کی چیزوں میں بھی عیب نکالتے ہیں ، اب میں اگران کے ساتھ رہوں گی تو ان کے حقوق نہیں پورے کرسکوں گی، اس لیے میں علیحدگی چاہتی ہوں۔ان حالات میں میرے لئے طلاق کامطالبہ کرنا یاخلع لینا صحیح ہے یانہیں ؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
آپ نے اپنے شوہرکے متعلق جو باتیں لکھیں اگروہ درست ہیں تو ان کو ایسا نہیں کرنا چاہیے اورآپ سے اچھا برتاؤرکھناچاہیے اورزیادہ غصہ کرنے اورکھانے،پینے کی چیزوں میں عیب نکالنےاورالٹی سیدھی باتیں کرنےسے پرہیز کرنا چاہیے، تاہم آپ کوبھی چاہیے کہ برداشت کریں اورجماع جو ان کا شرعی حق ہے اس میں ان کے ساتھ تعاون کریں،اوردونوں طرف سے سنجید لوگوں کو درمیان میں ڈال کرمعاملہ نارمل کریں،چھوٹی چھوٹی باتوں کی وجہ سے اپناگھر اجاڑنااورخاوند کے ہوتے ہوئے دوسرے خاوند کا سوچنا کوئی عقل مندی کی بات نہیں ہے۔
طلاق کا اختیارشریعت نے خاوند کو دیا ہے ،بیوی طلاق نہیں دے سکتی اگرچہ کنیڈا کا کورٹ اس کافیصلہ کربھی لے توبھی وہ شرعا معتبر نہیں ہوگا،جب تک خاوند خود طلاق نہیں دےگا،طلاق نہیں ہوگی۔
جوحالات آپ کے لکھے ہیں ان میں شرعاکوئی معقول وجہ طلاق کے مطالبےاورخلع لینے کی موجودنہیں ،اس لیے آپ کے حق میں بہترتو یہ ہےکہ آپ اس مطالبہ سےباز آجائیں اوراپنے ہاتھوں سے اپنے گھر کو نہ اجاڑیں، حدیث میں جوبلا کسی شرعی وجہ کے خاوند سے طلاق یا خلع کا مطالبہ کرنے والی عورت پرلعنت آئی ہے ۔
تاہم اگرآپ دونوں میں نفرت اس حد تک بڑھ گئی ہوکہ اصلاح کی کوئی صورت نہ بن رہی ہواورحقوق تلف ہونے کا اندیشہ ہو تو پھرعدالت از خود تو نکاح کوفسخ نہیں کرسکتی، البتہ آپ کسی طرح خاوند کو خلع پر راضی کرکے ان سے خلاصی حاصل کرسکتی ہیں،مگریہ یاد رہے کہ جب تک خاوندخلع کوقبول نہیں کرےگا،یاطلاق نہیں دےگا آپ بدستوراس کی بیوی رہیں گی۔
واضح رہے کہ بچوں کااپنا مال اگر نہیں ہے تو ان کا نان ونفقہ والد پر واجب ہوگا اورآپ اگرگھر واپس آتی ہیں تو آپ کا نان ونفقہ بھی شوہر پر واجب ہوگا،لیکن اگرآپ گھر واپس نہیں آتیں تو نافرمان ہونے کی وجہ سے آپ کا نفقہ ان پرواجب نہیں ہوگا ۔
آپ کے شوہر کا جائیداد بہنوں کے نام کرنے کامقصد اگر اولاد کو محرم کرنا ہوتو یہ درست طرزِ عمل نہیں،کیونکہ کسی جائز متوقع وارث کواس کے حصےسے محروم کرنا انتہائی ناپسندیدہ عمل ہے،ان کواس سے باز آناچاہئےاوراگرمقصد اولاد کو محروم کرنا نہ ہو، بلکہ صرف اس لیے نام کرا رہا ہو کہ کورٹ کی طرف سےطلاق کا متوقع فیصلہ آنے کی صورت میں نصف میراث بیوی کو دینے سے بچاجائےتوپھر اس میں کوئی حرج نہیں،اس صورت میں آپ کو اس پر اعتراض کا حق نہیں،کیونکہ کنیٕڈا کا یہ قانون شرعی طورپر صحیح نہیں ہے کہ طلاق کی صورت میں نصف جائیداد بیوی کو دینا ہوگی خاص کرجب طلاق کی خواہش بھی بیوی کی طرف سے ہو، تاہم اس صورت میں شوہر کو چاہیے کہ بعد میں اپنی اولاد کو ان کے شرعی حصےکے مطابق حصہ دینا یقینی بنائے اورسب جائیداد بہنوں کو دیکر اولاد کواس سےمحروم نہ کرے ۔
حوالہ جات
قال اللہ تعالی : وَلَھُنَّ مِثْلُ الَّذِیْ عَلَیْھِنَّ بِالْمَعْرُوْفِ (البقرة: ۲۲۸)
وفی صحیح البخاری (حدیث رقم: 3331):
عن ابي هريرةرضي الله عنه، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:" استوصوا بالنساء فإن المراة خلقت من ضلع وإن اعوج شيء في الضلع اعلاه، فإن ذهبت تقيمه كسرته، وإن تركته لم يزل اعوج فاستوصوا بالنساء".
وفی صحیح البخاری(المناقب ،3564) :
عن ابي هريرة ، قال:" ما عاب رسول الله صلى الله عليه وسلم طعاما قط إن رضيه اكله، وإلا تركه.
وفی سنن الترمذي - (ج 2 / ص 329):
عن ثوبان ، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: (المختلعات هن المنافقات) هذا حديث غريب من هذا الوجه
وليس إسناده بالقوى . وروى عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال : (أيما امرأة اختلعت من زوجها من غير بأس ، لم ترح رائحة الجنة) 1199 حدثنا بذلك محمد بن بشار . حدثنا عبد الوهاب الثقفى حدثنا أيوب ،عن أبى قلابة ، عمن حدثه ، عن ثوبان : أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال : (أيما امرأة سألت زوجها طلاقا من غير باس ، فحرام عليها رائحة الجنة) وهذا حديث حسن .
وفی مشکوٰۃ المصابیح :
وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إذا دعا الرجل امرأته إلى فراشه فأبت فبات غضبان لعنتها الملائكة حتى تصبح.»(باب عشرة النساء، ص/280، ج/2، ط/قدیمی)
وفی مرقاۃ المفاتیح :
(لعنتها الملائكة) : لأنها كانت مأمورة إلى طاعة زوجها في غير معصية قيل: والحيض ليس بعذر في الامتناع لأن له حقا في الاستمتاع بما فوق الإزار عند الجمهور(باب عشرۃ النساء، ص/2121، ج/5، ط/دار الفکر)
وفی سنن ابن ماجة للقزويني - (ج 2 / ص 172) :
عن عكرمة ، عن ابن عباس ، قال : أتى النبي صلى الله عليه وسلم رجل فقال : يا رسول الله ! إن سيدا زوجنى أمته ،وهو يريد أن يفرق بينى وبينها ، قال ، فصعد رسول الله صلى الله عليه وسلم المنبر فقال " يا أيها الناس ! ما بال أحدكم يزوج عبده أمته ثم يريد أن يفرق بينهما ؟ إنما الطلاق لمن أخذ بالساق " .
وفی الھندیة :
"نفقة الأولاد الصغار على الأب لايشاركه فيها أحد، كذا في الجوهرة النيرة". (الفصل الرابع في نفقة الأولاد، ١/ ٥٦٠، ط: رشيدية)
وفيه أيضاً:
"و بعد الفطام يفرض القاضي نفقة الصغار على قدر طاقة الأب و تدفع إلى الأم حتي تنفق علي الأولاد، فإن لم تكن الأم ثقةً تدفع إلى غيرها لينفق على الولد". (١/ ٥٦١)
وفي الدر المختارمع رد المحتار:
"وفي المجتبى: نفقة العدة كنفقة النكاح. وفي الذخيرة: وتسقط بالنشوز وتعود بالعود."(کتاب الطلاق،باب النفقہ ،ج:۳،ص:۶۰۹،سعید)
المبسوط للسرخسي (19/ 53):
لا حق للوارث قبل موت المورث في ماله.
وفی صحیح البخاری ،کتاب الجنائز:
عن عامر بن سعد بن ابي وقاص عن ابيه رضي الله عنه , قال:" كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يعودني عام حجة الوداع من وجع اشتد بي , فقلت: إني قد بلغ بي من الوجع وانا ذو مال ولا يرثني إلا ابنة افاتصدق بثلثي مالي، قال: لا، فقلت: بالشطر، فقال: لا، ثم قال: الثلث والثلث كبير او كثير، إنك ان تذر ورثتك اغنياء خير من ان تذرهم عالة يتكففون الناس، وإنك لن تنفق نفقة تبتغي بها وجه الله إلا اجرت بها حتى ما تجعل في في امراتك، فقلت: يا رسول الله اخلف بعد اصحابي؟ , قال: إنك لن تخلف فتعمل عملا صالحا إلا ازددت به درجة ورفعة، ثم لعلك ان تخلف حتى ينتفع بك اقوام ويضر بك آخرون، اللهم امض لاصحابي هجرتهم ولا تردهم على اعقابهم"، لكن البائس سعد بن خولة يرثي له رسول الله صلى الله عليه وسلم ان مات بمكة.(رقم الحدیث 1295).
وفی مشكاة المصابيح :
"وعن أنس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من قطع ميراث وارثه قطع الله ميراثه من الجنة يوم القيامة» . رواه ابن ماجه."(مشكاة المصابيح، كتاب الفرائض والوصايا، باب الوصايا،الفصل الثالث،رقم الحديث: 3078، ص:266،قديمي)
وفي رد المحتار:
وأما الطلاق، فإن الأصل فيه الحظر بمعنى أنه محظور إلا لعارض يبيحه ، وهو معنى قولهم: الأصل فيه الحظر ، والإباحة للحاجة إلى الخلاص ، فإذا كان بلا سبب أصلاً لم يكن فيه حاجة إلى الخلاص، بل يكون حمقاً وسفاهة رأي ومجرد كفران النعمة وإخلاص الإيذاء بها وبأهلها وأولادها ، ولهذا قالوا: إن سببه الحاجة إلى الخلاص عند تباين الأخلاق وعروض البغضاء الموجبة عدم إقامة حدود الله تعالى ، فليست الحاجة مختصة بالكبر والريبة ، كما قيل ، بل هي أعم كما اختاره في الفتح فحيث تجرد عن الحاجة المبيحة له شرعاً يبقى على أصله من الحظر ، ولهذا قال تعالى : ﴿فَإِنْ أَطَعْنَكُمْ فَلَا تَبْغُوْا عَلَيْهِنَّ سَبِيْلاً﴾ (النساء : 34) أي لا تطلبوا الفراق ، وعليه حديث: ’’ أبغض الحلال إلى الله عز وجل الطلاق‘‘. قال في الفتح: ويحمل لفظ المباح على ما أبيح في بعض الأوقات، أعني أوقات تحقق الحاجة المبيحة اھ . (کتاب الطلاق، ج:3، ص:228، ط: سعید)
سیدحکیم شاہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید
28/1/1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید حکیم شاہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


