03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
جان بوجھ کر دوسرے کا مال استعمال کرنے کا حکم
88133امانتا اور عاریة کے مسائلمتفرّق مسائل

سوال

اگر میں نے کسی کے پیسے گرتے ہوئے دیکھ لیے اور انہیں واپس کرنے کے بجائے اپنی جیب میں رکھ لیے، جبکہ  اس شخص کو علم ہی نہ ہو کہ اس کے پیسے میرے پاس ہیں، تو کیا پھر بھی مجھ پر کوئی گناہ ہوگا؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ جان بوجھ کر دوسرے کے مال پر قبضہ کر لینا غصب، خیانت اور ناحق مال کھانے کے زمرے میں آتا ہے، جو شریعت میں سختی سے ممنوع ہے۔ لہٰذا ایسا مال مالک کو واپس کرنا شرعاً لازم ہے۔

مالک کو اپنے مال کی گمشدگی کا  علم نہ ہونا  یا اس کا مطالبہ نہ کرناآپ کی ذمہ داری کو ختم نہیں کرتا، کیونکہ یہ معاملہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے متعلق ہے، جس کے علم سے کچھ بھی پوشیدہ نہیں۔

حوالہ جات

سورة النساء (٢٩)

يا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا ‌لا ‌تَأْكُلُوا ‌أَمْوالَكُمْ ‌بَيْنَكُمْ ‌بِالْباطِلِ.

«مسند أحمد» (34/ 299 ط الرسالة):

عن أبي حرة الرقاشي، عن عمه، قال: كنت آخذا بزمام ناقة رسول الله صلى الله عليه وسلم في أوسط أيام التشريق، أذود عنه الناس، فقال: " يا أيها الناس، هل تدرون في أي يوم أنتم؟ وفي أي شهر أنتم؟ وفي أي بلد أنتم؟ " قالوا: في يوم حرام، وشهر حرام، وبلد حرام. قال:  فإن دماءكم وأموالكم وأعراضكم عليكم حرام، كحرمة يومكم هذا، في شهركم هذا، في بلدكم هذا، إلى يوم تلقونه.ثم قال:  اسمعوا مني تعيشوا، ألا لا تظلموا، ألا لا تظلموا، ألا لا تظلموا، إنه لا يحل مال امرئ ‌إلا ‌بطيب نفس ‌منه.

رد المحتار ط الحلبي (4/ 61):

‌لا ‌يجوز ‌لأحد ‌من ‌المسلمين أخذ مال أحد بغير سبب شرعي.

اللقطة: مال يوجد ولا يعرف مالكه... وإن أخذها لنفسه حرم لأنها كالغصب.

(قوله: مال يوجد إلخ) فخرج ما عرف مالكه فليس لقطة بدليل أنه لا يعرف بل يرد إليه.

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (6/ 200):

أخذ مال الغير بغير إذنه لنفسه فيكون بمعنى الغصب.

حسن علی عباسی

دارالافتاء جامعۃ الرشید،کراچی

20/محرم الحرام/1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

حسن علی عباسی ولد ذوالفقار علی عباسی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب