03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
یمین فور کی صورت میں طلاق کے واقع ہونے کا حکم
88200طلاق کے احکامطلاق کو کسی شرط پر معلق کرنے کا بیان

سوال

میرے شوہر دانش احمدسے جب میری شادی ہوئی تو وہ نشہ کرتے تھے۔ میں نے سوچا کہ وہ شادی کے بعد نشہ چھوڑ دیں گے، لیکن انہوں نے نہیں چھوڑا۔ میں نے خلع کی دھمکی بھی دی، ان کے گھر والوں نے بھی علاج کروایا، لیکن وہ ٹھیک نہیں ہوئے۔میرے بیٹے احمد کی پیدائش کے بعد لڑائیاں زیادہ ہونے لگیں۔ میں نے کہا : آپ کو  ایک سال کے لئے علاج پر  بھیج دیتی ہوں تو  وہ مجھے چھوڑ کراسلام آباد  چلے گئے اور چھ مہینے بعد جب واپس آئے تو  پھر سے نشہ اور لڑائی جھگڑے شروع کیے، میں ان کے گھر والوں سے شکایت کی تو جب اس کو پتہ چلا کہ میں نے گھر والوں کو شکایت کی ہے تو اس آکر کہہ دیا  کہ "مجھے علاج پر بھیجا تو تم کو تین بار طلاق ،  اب  بھیجو مجھے!"، یہ بات 2023 میں ہوئی۔پھر  ان کے گھر والوں نے دوبارہ بھیجا اور وہ واپس بھی آئے۔ پھر لڑائی ہوئی، یہاں تک کہ انہوں نے میری گردن پر چھری رکھ دی۔ 23 جون 2025 کو میں نے ان کو علاج   پر ایک سال کے لئے بھیج دیا، لیکن اس وقت مجھے یہ بات یاد نہیں تھی۔ کچھ دن بعد جب رات کو میں جاگی تو وہ واقعہ یاد آیا۔ نیز ان کے الفاظ میں "جب بھی" کا لفظ تھا یا نہیں، یہ یاد نہیں۔ تو کیا میری طلاق ہو چکی ہے؟

تنقیح: سائلہ سے پوچھنے پر معلوم ہوا کہ اس کے شوہر  نے وقتی طور پر بات ٹالنے کے  لئے ایسا کہا، اس سے مستقل طور پر منع کرنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

صورتِ مسئولہ میں اگر  مذکورہ شخص  نے واقعتاً وقتی طور پر بات ٹالنے کے لئے   اپنی بیوی سے "مجھے علاج پر بھیجا تو تم کو تین بار طلاق ،  اب  بھیجو مجھے!" کہا ہو  اور ہمیشہ کے لئے بھیجنے سے منع کرنا مقصود نہیں تھا(جیسا کہ "اب بھیجو مجھے!" الفاظ سے ظاہر ہو رہا ہے)، تو ایسی صورت میں مذکورہ الفاظ "یمین فور " کے تھے اور "یمین فور "  کا  حکم یہ ہے کہ اگر شرط (علاج کے لئے بھیجنا)کا وقوع اسی وقت ہو جائے  تو طلاق نافذ ہو جائے گی،  لیکن اگر شرط  بعد میں پائی جائے تو طلاق  نہیں ہوگی ۔ لہٰذا  مذکورہ صورت میں  بیوی پر کسی قسم کی کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی ہے، میاں بیوی کا نکاح بدستور قائم ہے۔

حوالہ جات

حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي (3/ 763):

وفي طلاق الأشباه إن للتراخي إلا ‌بقرينة ‌الفور ومنه طلب جماعها فأبت فقال: إن لم تدخلي معي البيت فدخلت بعد سكون شهوته حنث. وفي البحر عن المحيط طول التشاجر لا يقطع الفور.

وفي الرد:(قوله إن للتراخي إلخ) احترز بها عن إذا فإنها للفور ففي الخانية إذا فعلت كذا فلم أفعل كذا قال أبو حنيفة إذا لم يفعل على أثر الفعل المحلوف عليه حنث، ولو قال إن فعلت كذا فلم أفعل كذا فهو على الأبد وقال أبو يوسف على الفور أيضا اهـ ومعنى كون إن للتراخي أنها تكون للتراخي وغيره عند عدم قرينة الفور، والمراد فعل الشرط الذي دخلت عليه، وما رتب عليه فإذا قال لها إن خرجت فكذا وخرجت فورا أو بعد يوم مثلا حنث إلا لقرينة الفور، فيتقيد به كما مر ومنه ما مثل به وكذا ما في الخانية إن دخلت دارك فلم أجلس فهو على الفور اهـ أي الجلوس على فور الدخول."

حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي (3/ 761):

(‌وشرط ‌للحنث في) قوله (إن خرجت مثلا) فأنت طالق أو إن ضربت عبدك فعبدي حر (لمريد الخروج) والضرب،(فعله فورا) لأن قصده المنع عن ذلك الفعل عرفا ومدار الأيمان عليه، وهذه تسمى يمين الفور تفرد أبو حنيفة - رحمه الله - بإظهارها ولم يخالفه أحد".         

  حضرت خُبیب

دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی

   27  /محرم الحرام/1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

حضرت خبیب بن حضرت عیسیٰ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب