| 88198 | تقسیم جائیداد کے مسائل | متفرّق مسائل |
سوال
میرا نام شگفتہ کفیل ہے۔ میری عمر 55 سال ہے ۔گزشتہ عید الفطر کے دوسرے دن میرے شوہر کا انتقال ہو گیا تھا۔ میری صرف ایک بیٹی ہے۔ قصہ یہ ہے کہ آج سے تقریبا 9سال قبل میرے شوہر نے ایک گھر خریدا تھا،جو میرے نام لیا گیا تھا اور اس کی ملکیت مجھے دی گئی تھی۔ میں اور میرے شوہر دونوں اکثر بیمار رہتے تھے۔میرے شوہر دل کے مریض تھے اور میں گردے کی ۔ کچھ عرصہ گزرنے کے بعد شوہر زیادہ بیمار رہنے لگے، تو کسی دوست نے میرے شوہر کو مشورہ دیا کہ اس گھر کے دستاویزات میں اپنے نام کا بھی اندراج کروادو۔ چنانچہ میرے شوہر نے ایسا ہی کیا اور گھر دونوں کے نام ہو گیا۔ اب میرے شوہر انتقال کر گئے ہیں، تو میں معلوم کرنا چاہتی ہوں کہ شریعت کا اس بارے میں کیا حکم ہے؟ یہ گھر میرے میری ملکیت میں ہے، یا پھر ورثہ کے درمیان تقسیم ہوگا؟
تنقیح:زبانی تنقیح کرانے کے بعد یہ بات واضح ہوئی کہ ابتداء میں شوہر نے گھر خرید کر بیوی کی ملکیت میں دیا تھا اور بیوی کو اس کا مالک بنایا تھا۔بعد ازاں بیماری بڑھنے کے بعد شوہر نے گھر کے دستاویزات میں اپنا نام بڑھایا تھا ، لیکن بیوی نے اس کو گھر ہبہ نہیں کیا تھا ۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
سوال میں پوچھی گئی صورت میں گھر کے بارے میں حکم یہ ہے کہ گھر بیوی کی ملکیت میں ہے، مرحوم شوہر کا اس میں حصہ نہیں بنتا، کیونکہ ابتداء میں جب شوہر نے گھر خرید کر بیوی کی ملکیت میں دیا تو بیوی اس کی مالک بن گئی۔ اس کے بعد شوہر کا محض گھر کے دستاویزات میں اپنا نام بڑھا دینے سے وہ گھر کے آدھے حصہ کا مالک نہیں بنتا ۔ لہذا گھر بدستور عورت کی ملکیت میں ہے اور گھر بطور میراث ورثہ کے درمیان تقسیم نہیں ہوگا۔
حوالہ جات
فقه البیوع (1/227-226):
و ما ذکر نا من حکم التلجئة یقاربه ما یسمی فی القوانین الوضعیة "عقودا صوریة" (Ostensible Contracts) و تسمی فی بلاد نا Benami Contracts ، و هی أن تشتری أرض باسم غیر المشتری الحقیقی، و تسجل الأرض باسمه فی الجهات الرسمیة، و ذلك لأغراض ضریبیة أو لأغراض أخری، و لکن المشتری الحقیقی هو الذی دفع ثمنه. و عدة من القوانین الوضعیة تعترف بکونها صوریة، و بأن العبرة فیما بین المتعاقدین بالعقد الحقیقی المستتر… وعلی هذا الأساس أفتی علماء شبه القارة الهندیة بأن مجرد تسجیل الأرض باسم أحد لا یستلزم أن یکون هو مالکا لها، فلو اشتراها أحد باسم رجل آخر لم یدفع الثمن، و إنما دفع الثمن من قبل الأول، فمجرد هذا التسجیل لایعنی أنه وهب له الأرض.
محمد اسامہ فاروق
دارالافتاءجامعۃالرشیدکراچی
28/محرم الحرام/1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد اسامہ فاروق بن محمد طاہر فاروق | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


