| 88222 | شرکت کے مسائل | شرکت سے متعلق متفرق مسائل |
سوال
ہم چار ساتھیوں نے مشترکہ طور پر یہاں عمان میں ایک کنسٹرکشن کمپنی رجسٹر کروائی ہے۔ اس کمپنی میں ہم دو عامل
شریک اور دو غیر عامل شریک ہیں۔میں خود عامل شریک ہوں ، میری کزن سسٹر غیر عامل شریک، اسی طرح میرا دوست عامل شریک ہےجبکہ اس کا بھائی(جو امریکہ میں ہے) غیر عامل شریک ہے ۔ چونکہ جو غیر عامل شرکاء ہیں ان میں سے ایک امریکہ اور دوسرا پاکستا ن میں ہےاور یہاں(عمان) کے قانون کے مطابق اس کمپنی کے منافع میں یہاں موجود ایکٹیؤ پارٹنر ز میں سے ہر ایک کا حصہ 46% ہوگا جبکہ یہاں سے باہر سلیپنگ پارٹنر ز میں سے ہر ایک کا حصہ 4%ہوگا۔ ہمیں رجسٹریشن کے وقت ڈاکومنٹس میں منافع کے تقسیم کا یہی ریشو ملا ہے۔کیا عمان کے قانون سے ہٹ کر ہم آپس میں منافع کی تقسیم کی ریشو طے کر سکتے ہیں؟ یعنی میں اور میری کزن سسٹر 50% کو آپس میں طے کرکے تقسیم کریں اور میرا دوست اپنے امریکہ والے بھائی سے ملکر 50% باہمی رضامندی سے آپس میں تقسیم کر لیں، کیونکہ اگر عمان کے قانون پر ہی عمل کریں تو سلیپنگ پارٹنر کو بہت کم منافع مل رہا ہے۔
تنقیح : سائل سے رابطہ کرنے پر معلوم ہوا کہ عمان کی حکومت کی طرف سے ایکٹو یا سلیپنگ پارٹنرز کے درمیان منافع کی شرح طے کرنے پر کوئی پابند ی نہیں ہے ، البتہ کمپنی کا جو بینک اکاونٹ بنے گا ، اس میں اگر سلیپنگ پارٹنرز کا حصہ 4%سے زیادہ رکھا جائے تو ان پارٹنرز کو عمان آکر رجسٹریشن وغیرہ کے مراحل سے گزرنا پڑے گا ، جبکہ اگر 4% یا اس سے کم حصہ رکھا جائے تو بینک یہ رعایت دیتا ہے کہ سلیپنگ پارٹنرز کے عمان آنے کی ضرورت نہیں ، نیز سلیپنگ پارٹنرز کے پاس فی الحال ویزہ وغیرہ بھی موجود نہیں ہے ، تو اس رعایت کو حاصل کرنے کے لئے ڈاکومنٹس میں پارٹنرز بینک کی مجوزہ شرح یعنی سلیپنگ پارٹنر کے لئے 4% حصہ ظاہر کی جائے گی ، جبکہ شرکاء آپس میں الگ سے حصہ طے کرلیں گے ۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
جواب سے پہلے بطور تمہید یہ بات سمجھ لیں کہ جب عوام الناس کے مفاد کی خاطر حکومتی سطح پر کوئی مباح پابندی لگائی جائے تو اس کی پاسداری ضروری ہے ، کیوں کہ کسی بھی ریاست میں رہنے والا شخص اس ریاست میں رائج قوانین پر عمل درآمد کا (خاموش) معاہدہ کرتاہے، اور جائز امور میں معاہدہ کرنے کے بعد اسے پورا کرنا دیانۃً ضروری ہوتاہے؛ اس طرح کے جائز امور سے متعلق قانون کی خلاف ورزی گویا معاہدہ کی خلاف ورزی ہے، اور معاہدے کی خلاف ورزی سے شریعت نے منع کیا ہے۔ نیز قانون شکنی کی صورت میں مال اور عزت کا خطرہ رہتا ہے، اور پکڑے جانے کی صورت میں مالی نقصان کے ساتھ ساتھ سزا ملنے کا بھی اندیشہ ہوتا ہے، اور اپنے آپ کو ذلت کے مواقع سے بچانا شرعاً ضروری ہے۔ نیز یہ بات بھی واضح رہے کہ اگر حکومت انتظامی امور کے لئے بقدر ِ ضرورت اتنا ٹیکس لگائے جس کا اداکرنا آسان ہو اور لوگوں پر اس کی وصولی میں ظلم نہ کیا جاتا ہوتو ایسے ٹیکس کا ادا کرنا لازمی ہے، اس میں کوتاہی برتنا گناہ ہے۔ٹیکس کی پوری رقم ادا کرنا ضروری ہے، اس سے رقم بچانا ناجائز ہے اور ایسی رقم حلال نہ ہو گی، لہذا اس کو حکومت کے خزانہ میں جمع کرانا لازم ہے۔ البتہ جو ٹیکس واضح طور پر ظالمانہ ہواس کوصریح جھوٹ بولے بغیر کسی اور طریقے سے بچانے میں کوئی گناہ نہ ہوگا۔
صورتِ مسئولہ میں عمان کے بینک کے قانون (کہ بیرونِ عمان مقیم سلیپنگ پارٹنرز کو بغیر رجسٹریشن 4% سے زائد نفع نہ دیا جائے)کی پابندی تمام شرکاء پر لازم ہے ۔ اگر شرکاء اس قانون کی پاسداری نہیں کرتے اور ڈاکیومنٹس میں تو سلیپنگ پارٹنرز کے لئے 4% نفع طے کر تے ہیں ، لیکن آپس میں الگ سے زیادہ نفع طے کریں، تو یہ جھوٹ اور دھوکہ ہوگا، جو ناجائز و حرام ہے، نیز قانون کی خلاف ورزی کا گناہ بھی ہوگا ، نیز جس قدر جائز ٹیکس ادا نہ کیا جائے، اس کے بقدر آمدن حرام ہوگی اور وہ حکومت کو ادا کرنا لازم ہوگا، البتہ باقی آمدن حلال ہوگی، جسے شرکاء باہمی رضامندی سے جس تناسب سے چاہیں تقسیم کرسکتے ہیں، تاہم غیر عامل شرکاء (سلیپنگ پارٹنرز) کے لیے نفع ان کے سرمایہ کے تناسب (یعنی 25%) کے برابر یا کم طے کیا جائے، جبکہ عامل شرکاء (یعنی ایکٹو پارٹنرز )کے لیے نفع کا جو بھی تناسب طے کرنا چاہیں کرسکتے ہیں۔
حوالہ جات
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 336):
دفع النائبة والظلم عن نفسه أولى إلا إذا تحمل حصته باقيهم وتصح الكفالة بها ويؤجر من قام بتوزيعها بالعدل وإن كان الأخذ باطلا وهذا يعرف ولا يعرف كفا لمادة الظلم
(قوله: وهذا يعرف إلخ) المشار إليه غير مذكور في كلامه وأصله في القنية حيث قال وقال أبو جعفر البلخي ما يضر به السلطان على الرعية مصلحة لهم يصير دينا واجبا وحقا مستحقا كالخراج، وقال مشايخنا وكل ما يضربه الإمام عليهم لمصلحة لهم فالجواب هكذا حتى أجرة الحراسين لحفظ الطريق واللصوص ونصب الدروب وأبواب السكك وهذا يعرف ولا يعرف خوف الفتنة ثم قال: فعلى هذا ما يؤخذ في خوارزم من العامة لإصلاح مسناة الجيحون أو الربض ونحوه من مصالح العامة دين واجب لا يجوز الامتناع عنه، وليس بظلم ولكن يعلم هذا الجواب للعمل به وكف اللسان عن السلطان وسعاته فيه لا للتشهير حتى لا يتجاسروا في الزيادة على القدر المستحق اهـ.
منیب الرحمنٰ
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
28/محرم الحرام/1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | منیب الرحمن ولد عبد المالک | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


