03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
کسی کے ذاتی مکان پر زبردستی قبضہ اورخریدوفروخت کاحکم
91495خرید و فروخت اور دیگر معاملات میں پابندی لگانے کے مسائلمتفرّق مسائل

سوال

مسماة زمرد جہاں (سائلہ) نے سال 1996ء میں اپنی ذاتی رقم جو انہوں نے سلائی کڑھائی کر کے اپنے زیورات بیچ کر اور کمیٹیاں ڈال کر جمع کی تھی،بمبلغ 210,000 روپے( دو لاکھ دس ہزار روپے) اپنے والد صاحب کو دی۔ والد صاحب نے اس رقم سے گلشن معمار میں ایک 200 گز کا پلاٹ (نمبر32،بلاک:24) خریدا، جس کی کل قیمت227,000 روپے تھی، چونکہ پلاٹ کی قیمت میں 17,000 روپے کم تھے، اس لیے والد صاحب نے وہ رقم اپنی جیب سے ڈال کر سائلہ سے کہا کہ ميں اس گھر کی تعمیر کروا  کے دوں گا، اس لیے ابھی اس میں آدھا آدھا حصہ کر لو ، یعنی آدھا حصہ مجھے دے دو۔

والد صاحب نے پلاٹ تو میرے لیے ہی خریدا تھا، البتہ اس کی خریداری میں سترہ ہزار اپنی طرف سے ڈالے اور ساتھ کہا کہ میں اس پر کنسٹرکشن بھی  کروا کے دوں گا، ان دونوں چیزوں کے عوض آپ اس کا آدھا حصہ مجھے دے دو ، میں نے دے دیااور انہوں نے اسی وقت 1996ء میں ہی پلاٹ میرے اور اپنے نام کروا دیا، جس میں نصف نصف پلاٹ کی تعیین نہیں کی گئی تھی اور  فزیکلی بھی پلاٹ کو تقسیم نہیں کیا گیا تھا، اس کے بعد انہوں نے مکمل پلاٹ پر ایک سادہ  سا مکان تعمیر کروا دیا، پھر والد صاحب نے 2000ء  میں اپنے نام کی جگہ اپنی دو بیٹیوں شگفتہ بانو اور رضوانہ حبیب کا نام ڈال  دیا ، ان دونوں کو بھی باقاعدہ علیحدہ علیحدہ تقسیم کر کے نہیں دیا، بلکہ بغیرتقسیم کیے آدھا مکان نام کروا دیا تھا، اس کے بعد والد کے کہنے پر جب تیسری بیٹی کےنام کیا  تو اس کو بھی باقاعدہ علیحدہ کر کے نہیں دیا تھا، صرف یہ کہا تھا کہ اس میں سے آدھا فلاں بہن کو دیتی ہوں اور اسی مکان میں میری رہائش بھی تھی۔ یاد رہے کہ والد صاحب نے اپنی تیسری بیٹی (رفعت جہاں)  کو سائلہ کے ملکیتی آدھے حصے میں زبردستی یہ کہہ کر شامل کروا دیا تھاکہ وہ تمہاری بہن ہے، کہاں جائے گی؟ اپنے حصے میں اس کو ڈالو، تاکہ چاروں بہنوں کا برابر حصہ ہو جائے، اس لیے میں نے اپنے حصے میں سے آدھا اس کو دے دیا۔

تنازع کی تفصیل:

27 دسمبر 2017ء کو والد صاحب کا انتقال ہو گیا، سال 2018ء میں سائلہ کے حقیقی بھائی (جلیل) نے سائلہ سے کہا کہ تمہارا معاملہ خراب ہے، کیونکہ زمین تمہارے نام یا پیسے تمہارے ہیں، لہٰذا تم فتوى نكلوا کر دو، فتویٰ لینے سے قبل سائلہ نے اپنی بہن رفعت جہاں سے گواہی لی، جس پر رفعت نے اقرار کیا کہ امی کہتی تھیں کہ زمرد جہاں کے 210,000 روپے سے ہی گلشن معمار کی زمین آئی تھی اور 17 ہزار روپے ابو نے ڈالے تھے۔ اس اعتراف اور گواہی کے باوجود بھائی جلیل اپنی بات سے مکر گیا اور دعویٰ کیا کہ یہ سب میرے باپ کا ہے۔"

سال 2018ء میں دونوں بہنوں رفعت جہاں اور رضوانہ حبیب نے بھائی جلیل کے ساتھ مل کر مکان پر قبضہ کر لیا، سائلہ کو گھر سے نکالنے کی دھمکیاں دیں اور مکان فروخت کروانے کی کوشش کی۔ جب وہ ناکام ہوئے تو انہوں نے سائلہ پر دباؤ ڈالا کہ وہ اس میں سے  ان کے وراثتی حصے کی ادائیگی کرے، جو کہ سائلہ کے بس میں نہیں تھا، کیونکہ سائلہ کا شوہر کوئی کام نہیں کرتا تھا اور سائلہ کی تین بیٹیاں تھیں۔

مجبوری اور دھوکہ دہی کا واقعہ:

 بھائی جلیل کی مسلسل دھمکیوں اور ہراساں کرنے کے باعث سائلہ کی چھوٹی بیٹی (مسماة کنول مرحومہ) شدید ذہنی تناؤ اور خوف کا شکار رہنے لگی، جس کے نتیجے میں اسے وقت سے پہلے زچگی (Pre mature Pregnancy کی نوبت آ گئی۔ ملزمان نے سائلہ کی اس شدید ذہنی پریشانی اور مجبوری کا ناجائز فائدہ اٹھایا اور مکان میں موجود سائلہ کے ذاتی حصے کو خریدنے کے بہانے سائلہ سے زبردستی دھوکے سے دستخط کروا لیے،  اسی دن بیٹی کنول کا آپریشن ہوا بچی پیدا ہوئی، جو شدید ذہنی دباؤ کے ماحول کی وجہ سے محض 4 گھنٹے زندہ رہ کر انتقال کر گئی اور اسی صدمے و ٹینشن کی وجہ سے بیٹی کنول کو برین ٹیومر ہو گیا۔

سائلہ نے اپنے بھائی  بہنوں سے التجا کی کہ بیٹی کی شدید بیماری کے باعث اسے اسی گھر میں کرائے پر رہنے دیا جائے، لیکن انہوں نے ان سنگین حالات میں بھی سائلہ کو گھر سے بے دخل کر دیا، سائلہ 2018ء سے اب تک کرائے کے مکان میں رہ رہی ہے اور بیٹی کا علاج کرواتی رہی، مگر وہ بیٹی (عمر 34 سال) اسی سال 13 ذو الحجہ کو انتقال کر گئی۔

مالی خرد برد کی تفصیل:

مذكوره مکان آج بھی خالی پڑا ہے، بھائی جلیل، رفعت اور رضوانہ نے زمین کی اصل مالیت کے مطابق کوئی رقم ادا نہیں کی، بلکہ اس قیمتی گھر کی مد میں محض 25 لاکھ روپے شگفتہ بانو کو اور 25 لاکھ روپے سائلہ (زمرد جہاں) کو دیے، یہ ادائیگی اس وقت کی گئی جب سال 2018ء میں اس زمین کی اصل مارکیٹ قیمت1 کروڑ 20 لاکھ روپے تھی، سائلہ کی مجبوریوں کا ناجائز فائدہ اٹھا کر اونے پونے داموں زمین لینے کے بعد  ملزمان نے اسی قلیل رقم 25 لاکھ روپےکو سائلہ کا مکمل "ترکہ" وراثتی حصہ بھی  قرار دے دیا اور کہا بس تمہیں یہی رقم ملے گی۔

سوالات:

1۔پلاٹ کی ملکیت کا حکم: چونکہ یہ پلاٹ سائلہ کی ذاتی رقم(210,000 روپے) سے خریدا گیا تھا اور والد نے محض 17,000 روپے شامل کیے تھے تو شرعاً اس پورے پلاٹ یا اس کے آدھے حصے کی اصل مالک کون ہے؟ کیا والد صاحب کا سائلہ کی اجازت کے بغیر دیگر بہنوں کو اس میں شامل کرنا شرعاً جائز تها؟

2۔ اکراه اور زبردستی کا سودا:  سائلہ سے بیٹی کی بیماری، آپریشن اور ملزمان کی سے نکالنے کی دھمکیوں کے شدید ذہنی دباؤ کے دوران جو دستخط لیے گئے اور مارکیٹ قیمت 1 کروڑ 20 لاکھ روپے کی بجائے محض 25 لاکھ روپے دیے گئے، کیا شریعتِ اسلامیہ میں ایسا جبر و اکراه پر مبنی سودا درست اور نافذ العمل ہے؟ یاد رہے کہ میرےساتھ رہنے والی میری دوسری بہن کو بھی گھرسے نکالنے کی دھمکی دی گئی تھی۔

3۔ترکہ کی حیثیت:  کیا ملزمان بشمول بھائی جلیل کا سائلہ کو اس کے جائز حق سے محروم کر کے اپنی مرضی سے اس قلیل رقم کو مکمل ترکہ قرار دینا شرعاً جائز ہے؟

4۔مکان کی واپسی:  مذکورہ بالا حالات کی روشنی میں کیا سائلہ شرعاً اپنے اس مکان کی واپسی یا مارکیٹ کی اصل قیمت کے مطابق اپنا پورا حق وصول کرنے کی حقدار ہے؟

وضاحت: سائلہ نے بتایا کہ میرے والد صاحب کی گل برک میں ایک دکان تھی جو بہت مشہوراورپورے کراچی میں تیسرے چوتھے نمبر پرتھی، والد کی دکان سے ایک بھائی نے ڈھائی کروڑ کا گھر خریدا، ایک بھائی نے ڈیڑھ کروڑ کی ایک دکان خرید کر اپنے بیٹے کے نام کی اور ایک گھرعلی گڑھ سوسائٹی میں خریدا، جس کی مالیت اب چار کروڑ روپیہ ہے، باقی دکان میں سامان بھی اچھا خاصہ موجود تھا۔

نیز سائلہ نے بتایا کہ مکان کا چوتھا حصہ چونکہ تیسری بہن کے نام تھا، اس لیے جب زبردستی دستخط کروائے گئے تو ہم دونوں بہنوں سے دستخط لیے گئے، ہمیں دستخط کے وقت علم ہوا کہ ہمارے بہن بھائی ہم سے زبردستی یہ مکان خریدنا چاہتے ہیں، ہمیں مجبورا دستخط کرنا پڑے۔جیسے ہی ہم نے دستخط کیے تو انہوں نے ہم دونوں بہنوں کو پچیس پچیس لاکھ روپیہ دے کرکہا کہ بس اب تمہیں یہی رقم ملے گی۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

آپ کے سوالات کے جوابات بالترتیب درج ذیل ہیں:

آپ نے جب اپنے والدصاحب کو پلاٹ خریدنے کے لیے رقم دی تو وہ شرعی اعتبار سے آپ کے لیے پلاٹ خریدنے کے وکیل تھے اور وکیل کی خریدی گئی چیز پر ملکیت موکل کی ثابت ہوتی ہے، البتہ والد نے سترہ ہزار روپے اپنی طرف سے ڈالے اور ساتھ مکان پر کنسٹرکشن کروانے کی شرط پر آدھا پلاٹ دینے کا کہا اورآپ نے ان کو آدھا پلاٹ دےدیا تو یہ آپ اور آپ کے والد صاحب کے درمیان ہبہ بشرط العوض (عوض لینے کی شرط کے ساتھ کسی کو کوئی چیز ہدیہ کرنا)  کا معاملہ ہوا، لیکن چونکہ والدصاحب کی طرف سے اس کی قیمت متعین نہیں کی گئی تھی، کیونکہ آدھے پلاٹ کے عوض دو چیزیں یعنی سترہ ہزار روپے اور کنسٹرکشن طے کی گئی تھی، جبکہ کنسٹرکشن کی مالیت طے نہیں کی گئی تھی کہ کتنی مالیت کی تعمیر کروا کر دیں گے؟ جس کی وجہ سےہدیہ کیے گئے آدھے پلاٹ کی قیمت مجہول (مبہم) ہو گئی اور ہبہ کی گئی چیز کی قیمت طے نہ کرنے سے شرعاً عوض کی شرط باطل ہو گئی، کیونکہ ہبہ بشرط العوض کے لیے معاوضہ کا معلوم اور متعین ہونا ضروری ہے اور معاوضہ معلوم نہ ہونےکی صورت میں  فقہائے کرام رحمہم اللہ کی تصریح کے مطابق عوض کی شرط باطل اور ہبہ کا معاملہ صحیح ہو جاتا ہے، کیونکہ ہبہ شرطِ فاسد سے فاسد نہیں ہوتا۔البتہ بعض عبارات سے معلوم ہوتا ہے کہ عوض مجہول ہونے کی صورت میں بھی شرط معتبر شمار ہو گی، جیسا کہ فتاوی قاضی خان اور شرح المجلہ وغیرہ میں ذکر کی گئی بعض عبارات سے معلوم ہوتا ہے۔

لیکن بہردو صورت ہبہ کے معاملہ کے مکمل ہونے کے لیے قابلِ تقسیم چیز کو باقاعدہ تقسیم کر کے قبضہ دینا ضروری ہے، جبکہ مذکورہ صورت میں دو سو گز پر مشتمل پلاٹ کو تقسیم کر کے والد صاحب کو نہیں دیا گیا تھا، بلکہ صرف قانونی کاغذات میں آپ کے نام کے ساتھ ان کا نام  بھی لکھا گیا تھا، اس لیے یہ ہبہ مکمل نہیں ہوا اور یہ مکمل پلاٹ آپ کی ملکیت میں رہا، اس کے بعد والد صاحب نے جب قانونی کاغذات میں اپنے نام کی جگہ اپنی دو بیٹیوں شگفتہ بانو اور رضوانہ حبیب کا نام لکھوایا اورنصف پلاٹ ان کو دیا تو یہ ہبہ ( ہدیہ) بھی درست نہیں ہوا، کیونکہ وہ نصف دراصل والد صاحب کی ملکیت نہیں تھا اورہبہ شرعاً اپنی ملکیتی چیز کا درست ہوتا ہے، کسی اور کی ملکیتی چیز ہبہ کرنے سے شرعاً ہبہ درست نہیں ہوتا، لہذا والد صاحب کے نام کیا گیا نصف مکان بھی ابھی تک شرعاً آپ ہی کی ملکیت ہے اور آپ اس پر قبضہ کر سکتی ہیں، البتہ اس پر قبضہ کرنے کی صورت میں آپ کے ذمہ سترہ ہزار(17000) روپیہ اور والد صاحب کی طرف سے کی گئی کنسٹرکشن کی موجودہ قیمت اپنے والد صاحب کے ورثاء کو ادا کرنا ضروری ہے اور یہ قیمت تمام ورثاء میں ان کے شرعی حصوں کے مطابق تقسیم ہو گی، لہذا اپنے شرعی حصے کی قیمت منہا کر کے بقیہ رقم دیگر ورثاء کے حوالے کرنا لازم ہے، اس کے بعد آپ مذکورہ نصف پلاٹ پر قبضہ کر سکتی ہیں۔

اس کے علاوہ اپنےبقیہ نصف مکان میں سے جو آدھا مکان(پچاس گز) آپ نے اپنی تیسری بہن کو ہدیہ کے طور پر دیا تھا وہ ہبہ درست ہونے کی وجہ سے آپ کی ملکیت سے نکل گیا، کیونکہ سو گز پر مشتمل مکان تقسیم کرنے سے عام طور پر رہائش کے قابل نہیں رہتا، اس لیے اس کو ناقابلِ تقسیم قرار دیا جائے گا اور ناقابلِ تقسیم چیز کو مشاع (مشترکہ)طور پر ہبہ کرنا شرعاً درست ہے، اس لیے اس پلاٹ کے چوتھائی حصے(پچاس گز) کی آپ کی بہن مالک بن چکی ہے،اب اس کے مطالبے کا آپ کو شرعاًحق حاصل نہیں ہے۔

حوالہ جات

آپ کے سوالات کے جوابات بالترتیب درج ذیل ہیں:

آپ نے جب اپنے والدصاحب کو پلاٹ خریدنے کے لیے رقم دی تو وہ شرعی اعتبار سے آپ کے لیے پلاٹ خریدنے کے وکیل تھے اور وکیل کی خریدی گئی چیز پر ملکیت موکل کی ثابت ہوتی ہے، البتہ والد نے سترہ ہزار روپے اپنی طرف سے ڈالے اور ساتھ مکان پر کنسٹرکشن کروانے کی شرط پر آدھا پلاٹ دینے کا کہا اورآپ نے ان کو آدھا پلاٹ دےدیا تو یہ آپ اور آپ کے والد صاحب کے درمیان ہبہ بشرط العوض (عوض لینے کی شرط کے ساتھ کسی کو کوئی چیز ہدیہ کرنا)  کا معاملہ ہوا، لیکن چونکہ والدصاحب کی طرف سے اس کی قیمت متعین نہیں کی گئی تھی، کیونکہ آدھے پلاٹ کے عوض دو چیزیں یعنی سترہ ہزار روپے اور کنسٹرکشن طے کی گئی تھی، جبکہ کنسٹرکشن کی مالیت طے نہیں کی گئی تھی کہ کتنی مالیت کی تعمیر کروا کر دیں گے؟ جس کی وجہ سےہدیہ کیے گئے آدھے پلاٹ کی قیمت مجہول (مبہم) ہو گئی اور ہبہ کی گئی چیز کی قیمت طے نہ کرنے سے شرعاً عوض کی شرط باطل ہو گئی، کیونکہ ہبہ بشرط العوض کے لیے معاوضہ کا معلوم اور متعین ہونا ضروری ہے اور معاوضہ معلوم نہ ہونےکی صورت میں  فقہائے کرام رحمہم اللہ کی تصریح کے مطابق عوض کی شرط باطل اور ہبہ کا معاملہ صحیح ہو جاتا ہے، کیونکہ ہبہ شرطِ فاسد سے فاسد نہیں ہوتا۔البتہ بعض عبارات سے معلوم ہوتا ہے کہ عوض مجہول ہونے کی صورت میں بھی شرط معتبر شمار ہو گی، جیسا کہ فتاوی قاضی خان اور شرح المجلہ وغیرہ میں ذکر کی گئی بعض عبارات سے معلوم ہوتا ہے۔

لیکن بہردو صورت ہبہ کے معاملہ کے مکمل ہونے کے لیے قابلِ تقسیم چیز کو باقاعدہ تقسیم کر کے قبضہ دینا ضروری ہے، جبکہ مذکورہ صورت میں دو سو گز پر مشتمل پلاٹ کو تقسیم کر کے والد صاحب کو نہیں دیا گیا تھا، بلکہ صرف قانونی کاغذات میں آپ کے نام کے ساتھ ان کا نام  بھی لکھا گیا تھا، اس لیے یہ ہبہ مکمل نہیں ہوا اور یہ مکمل پلاٹ آپ کی ملکیت میں رہا، اس کے بعد والد صاحب نے جب قانونی کاغذات میں اپنے نام کی جگہ اپنی دو بیٹیوں شگفتہ بانو اور رضوانہ حبیب کا نام لکھوایا اورنصف پلاٹ ان کو دیا تو یہ ہبہ ( ہدیہ) بھی درست نہیں ہوا، کیونکہ وہ نصف دراصل والد صاحب کی ملکیت نہیں تھا اورہبہ شرعاً اپنی ملکیتی چیز کا درست ہوتا ہے، کسی اور کی ملکیتی چیز ہبہ کرنے سے شرعاً ہبہ درست نہیں ہوتا، لہذا والد صاحب کے نام کیا گیا نصف مکان بھی ابھی تک شرعاً آپ ہی کی ملکیت ہے اور آپ اس پر قبضہ کر سکتی ہیں، البتہ اس پر قبضہ کرنے کی صورت میں آپ کے ذمہ سترہ ہزار(17000) روپیہ اور والد صاحب کی طرف سے کی گئی کنسٹرکشن کی موجودہ قیمت اپنے والد صاحب کے ورثاء کو ادا کرنا ضروری ہے اور یہ قیمت تمام ورثاء میں ان کے شرعی حصوں کے مطابق تقسیم ہو گی، لہذا اپنے شرعی حصے کی قیمت منہا کر کے بقیہ رقم دیگر ورثاء کے حوالے کرنا لازم ہے، اس کے بعد آپ مذکورہ نصف پلاٹ پر قبضہ کر سکتی ہیں۔

اس کے علاوہ اپنےبقیہ نصف مکان میں سے جو آدھا مکان(پچاس گز) آپ نے اپنی تیسری بہن کو ہدیہ کے طور پر دیا تھا وہ ہبہ درست ہونے کی وجہ سے آپ کی ملکیت سے نکل گیا، کیونکہ سو گز پر مشتمل مکان تقسیم کرنے سے عام طور پر رہائش کے قابل نہیں رہتا، اس لیے اس کو ناقابلِ تقسیم قرار دیا جائے گا اور ناقابلِ تقسیم چیز کو مشاع (مشترکہ)طور پر ہبہ کرنا شرعاً درست ہے، اس لیے اس پلاٹ کے چوتھائی حصے(پچاس گز) کی آپ کی بہن مالک بن چکی ہے،اب اس کے مطالبے کا آپ کو شرعاًحق حاصل نہیں ہے۔

مجلة الأحكام العدلية (ص: 164) نور محمد، كارخانه تجارتِ كتب، آرام باغ، كراتشي:

(المادة 855) تصح الهبة بشرط عوض ويعتبر الشرط. مثلا لو وهب أحد لآخر شيئا بشرط أن يعطيه كذا عوضا أو يؤدي دينه المعلوم المقدار تلزم الهبة , كذلك لو وهب أحد وسلم عقارا مملوكا له لآخر بشرط أن يقوم بنفقته حتى الممات وكان الموهوب له راضيا بإنفاقه حسب ذلك الشرط فليس للواهب إذا ندم الرجوع عن هبته واسترداد ذلك العقار.

درر الحكام في شرح مجلة الأحكام(430/2) الناشر: دار الجيل:

أما إذا كان العوض غير معلوم أي مجهولا فيكون هبة ابتداء وانتهاء  لأن شرط العوض المجهول باطل ولا تفسد الهبة بالشرط الفاسد.

شرح المجلة لمحمد خالد الأتاسي(367/3) مكتبة حقانية، بشاور:

واتفقت المتون على صحة الهبة وبطلان الشرط ، فيما لوجعل العوض عين الموهوب او بعضاً منه معلوماً أو مجهولاً ، كأن وهبه داراً على ان يردها عليه أو يعوضه شيئاً منها ولو معينا كثلثها أو ربعها أو بيت معين منها ، فيبطل شرط العوض لفساده لكونها مخالفا لمقتضى العقد ، وتصح الهبة لكونها لا تبطل بالشروط الفاسدة.

ثم هل يشترط معلومية العوض؟ اضطرب كلامهم هنا ، ففي الدر ما يفيد أنه يشترط ذلك لا لصحة الهبة، بل لكونها بيعا انتهاء، وعبارته « قيّد العوض بكونه معلوماً لانه لو كان مجهولا بطل اشتراطه، فتكون هبة ابتداء وانتهاء» وعبارة صدر الشريعة « وإنما يصح العوض إذا كان معلوماً » وإلى هذا يشير كلام البحر والمنح والدرر.

دررالحكام شرح غرر الأحكام (2/ 225) الناشر: دار إحياء الكتب العربية:

وإنما يجوز إذا كان العوض معلوما كما عرفت من المباحث السابقة وصرح به بعض شراح الهداية وكذا الحال في الصدقة.

شرح المجلة لمحمد خالد الأتاسي(368/3) مكتبة حقانية، بشاور:

امرأة وهبت مهرها من زوجها ليقطعها في كل حول ثو با مرتين وقبل الزوج ذلك فمضى حولان ولم يقطع ، قال الشيخ الإمام الأجل أبو بكر محمد بن الفضل :

إن كان ذلك شرطاً في الهبة فمهرها عليه على حاله، لأن هذا بمنزلة الهبة بشرط العوض ، فإذا لم يحصل العوض، لا تصح الهبة ، وإن لم يكن ذلك شرطاً في الهبة، سقط مهرها ولا يعود بعد ذلك . وكذا لو وهب مهرها على أن يحسن اليها ولم  يحسن ، كانت الهبة باطلة ، وتكون بمنزلة الهبة بشرط العوض اه .

فإن هذه النصوص تشير إلى أن الموهوب له إذا وفى بما شرط عليه الواهب ، تصح الهبة ويعتبر الشرط كما ترى ، وإن الواهب لا يملك الرجوع كما إذا كانت الهبة بشرط عوض معلوم .

2) صورتِ مسئولہ میں آپ کے بھائی کا دھمکی اورزورزبردستی کرکےمکان کی خریداری کے لیے آپ سے دستخط کروانا ہرگز جائز نہیں تھا، جس کی وجہ سے وہ سخت گناہ گار ہوا ہے، لہذا اس پر اللہ تعالیٰ سے سچے دل سے توبہ واستغفار کرنا اور آئندہ کے لیے ایسے فعل سےاجتناب کرنا واجب ہے۔

یہاں تک اس خریدوفروخت کے شرعی حکم کا تعلق ہے تو مذکورہ صورت میں یہ اکراہ ِملجی(ناقص) معلوم ہوتا ہے، اکراہِ  ناقص کا مطلب یہ ہے کہ  آدمی کوجان سے مارنے یا کسی عضو کو ضائع کرنے کے علاوہ کسی ایسی چیز کی دھمکی دی جائے کہ اس کی وجہ سے آدمی حرجِ شدید میں مبتلا ہو، جیسے گھر سے نکالنا وغیرہ۔ ایسی صورت میں منعقد ہونے والی خریدوفروخت کو فقہائے کرام رحمہم اللہ تعالیٰ نے مالک کی رضامندی پر موقوف قرار دیا ہے، یعنی  زوراورزبردستی کی حالت کے ختم ہونے کے بعد مالک کو اختیار ہو گا کہ وہ اس خریدوفروخت کو نافذ قرار دے یا اس کو فسخ کر دے، لہذا اب آپ دونوں بہنوں  کو شرعی اعتبار سے اس خریدوفروخت کو فسخ کرنے (Cancel) کا اختیار ہے، البتہ خریدوفروخت کو فسخ کرنے کی صورت میں آپ دونوں کودیے گئے پچیس پچیس لاکھ روپیہ واپس کرنا ہوں گے، کیونکہ دونوں بہنوں کو علیحدہ علیحدہ یہ رقم دی گئی تھی۔ خریدوفروخت کے معاملے کو ختم کرکے اپنا مکان واپس  لینےکے لیے دوسرے فریق کے خلاف قانونی کاروائی بھی کر سکتی ہیں۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (6/ 130) الناشر: دار الفكر-بيروت:

 (حتى باع أو اشترى أو أقر أو آجر فسخ) ما عقد ولا يبطل حق الفسخ بموت أحدهما ولا بموت المشتري، ولا بالزيادة المنفصلة، وتضمن بالتعدي وسيجيء أنه يسترد وإن تداولته الأيدي (أو أمضى) لأن الإكراه الملجئ، وغير الملجئ يعدمان الرضا، والرضا شرط لصحة هذه العقود وكذا لصحة الإقرار فلذا صار له حق الفسخ والإمضاء.

قال ابن عابدين: (قوله: وسيجيء) أي قريبا. (قوله: يعدمان الرضا) قال ابن الكمال في هامش شرحه، أخطأ صدر الشريعة في تخصيصه إعدام الرضا بغير الملجئ اهـ. (قوله: فلذا صار له حق الفسخ والإمضاء) أي لفقد شرط الصحة وهو الرضا فيتخير، فإن اعتبار هذا الشرط ليس لحق الغير، بل لحقه ولهذا خالف سائر البيوع الفاسدة فإن الفسخ فيهاواجب عند فقد شرط الصحة، لأن الفساد فيها لحق الشرع. وقد صرحوا بأن بيع المكره يشبه الموقوف ويشبه الفاسد فافهم.

فقه البيوع لشيخ الإسلام محمد تقي العثماني: (197/2)مكتبة معارف  القرآن كراتشي:

والواقع أن الحنفية يدخلون بيع المكره في بيع فاسد موقوف. قال ابن عابدين رحمه الله تعالى: "وأفاد في المنار وشرحه أنه ينعقد فاسداً، لعدم الرضا الذي هو شرط النفاذ، وأنه بالإجازة يصح ويزول الفساد. وبه عُلم أنّ الموقوف على الإجازة صحته، فصح كونه فاسداً موقوفاً، وظهر أن الموقوف منه فاسد، كبيع المكره، ومنه صحيح كبيع عبد أو صبى محجورين.

و مفاد كونه فاسداً عند الحنفية، لا باطلاً، أنّ المشتري يملكه إن قبض، فيصح منه كل تصرف لا يمكن نَقْضُه، مثلُ الإعتاق والتدبير والاستيلاد، ولكن لا يصح ما يقبل النقض، مثل البيع والهبة والتصدق. ومفاد كونه موقوفاً أنه ينقلب نافذاً بإجازةالمكرّه، سواءً أكانت الإجازة بالقول أم بالفعل، مثل قبض الثّمن، وتسليم المبيع، بشرط أن يكون في حالة الطوع بعد زوال الإكراه.

3) صورتِ مسئولہ میں جب آپ کے بھائیوں نے پچیس پچيس لاکھ روپیہ مکان کی مد میں دیا  گياہے تو پھر اس کو ترکہ نہیں ٹھہرایا جا سکتا، لہذا والد صاحب کے ترکہ پر قابض بھائیوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ترکہ تقسیم کر کے ہروارث کو اس کا شرعی حصہ دیں، ورنہ وہ سخت گناہ گار ہوں گے، کیونکہ شریعت نے کسی بھی شخص کی جائیداد اور دیگر اموال پر ناحق قبضہ کرنے کو ناجائز اور حرام قرار دیا ہے اور قرآن وسنت میں اس کی سخت مذمت بیان فرمائی گئی ہے، چنانچہ ایک حدیث میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

 "من أخذ شبرا من الأرض ظلما، فإنه يطوّقه يوم القيامة من سبع أرضين"

ترجمہ: جس شخص نے کسی کی ایک بالشت زمین پر ناحق قبضہ کیا تو اس کو قیامت کے دن سات زمینوں تک اس کا طوق بنا کر پہنایا جائے گا۔

سنن الدارقطني (3/ 425) مؤسسة الرسالة، بيروت – لبنان:

عن أبي وائل , عن عبد الله , قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:  «حرمة مال المؤمن كحرمة دمه»

مسند إسحاق بن راهويه (4/ 167) مكتبة الإيمان - المدينة المنورة:

قال معمر وقال قتادة: في قوله: {وتدلوا بها إلى الحكام} [البقرة: 188] قال:

«لا تخاصم صاحبك وأنت ظالم له، فإن قضآءه لا يحل لك شيئا حرمه الله عليك»

مجلة الأحكام العدلية (ص: 240) نور محمد، كارخانه تجارتِ كتب، آرام باغ، كراتشي:

المادة: (1248) أسباب التملك ثلاثة: الأول, الناقل للملك من مالك إلى مالك آخر كالبيع والهبة. الثاني: أن يخلف أحد آخر كالإرث. الثالث: إحراز شيء مباح لا مالك له.

4) جی ہاں سوال نمبر2کے تحت ذکر کی گئی تفصیل کےمطابق آپ دونوں بہنیں خریدوفروخت کے معاملے کو ختم کرکے مکان بھی واپس لے سکتی ہیں اور باہمی رضامندی سے اس مکان کی موجودہ قیمت بھی وصول کی جا سکتی ہے اور وصول شدہ قیمت میں تین حصے آپ کے اور ایک حصہ آپ کی اس بہن کا ہو گا جس کو آپ نے اپنے سو گز میں سے آدھا حصہ یعنی پچاس گز ہدیہ اور ہبہ کیا تھا۔

محمد نعمان خالد

دارالافتاء جامعۃ الرشیدکراچی

11/ٍصفرالخیر1448ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب