03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
محمدی مسجد ڈیرہ اسماعیل خان میں نماز جمعہ کا حکم
88217نماز کا بیانجمعہ و عیدین کے مسائل

سوال

محمدی مسجد المعروف ماسٹر بابا جلال والی ،شمس آباد کالونی، ماہڑہ، تحصیل پروآ، ضلع ڈیرہ اسماعیل خان، خیبر پختونخوا۔

پس منظر:  قصبہ ماہڑہ میں جمعہ کی تمام شرائط موجود ہیں، اور یہاں تقریباً 15 سے 20 مساجد میں جمعہ نماز ادا کی جا رہی ہے۔

محمدی مسجد کی تفصیلات: 

تعمیر کی تاریخ: 5 فروری 1990 

دوبارہ تعمیر: 2024 میں شہید کر کے 2025 میں وسیع مسجد کی تعمیر مکمل ہوئی۔ 

رقبہ: کل 30 مرلے

مسجد کے مختلف حصے: 

اندرونی حصہ: 60 فٹ × 30 فٹ (7 صفیں) 

برآمدہ: 60 فٹ × 13 فٹ (3 صفیں) 

صحن: 60 فٹ × 28 فٹ (7 صفیں)

جمعہ کی نماز کی صورتِ حال:  محمدی مسجد مغربی گلی میں واقع ہے، جبکہ مشرقی گلی میں "جامع مسجد عائشہ" موجود ہے۔ اگر محمدی مسجد میں جمعہ نماز شروع کی گئی تو "جامع مسجد عائشہ" کے 50% سے 60% نمازی محمدی مسجد کا رخ کریں گے کیونکہ وہ اسی کے پڑوس میں رہتے ہیں۔ 

محمدی مسجد کے مغربی اور جنوبی محلہ میں بڑی تعداد میں آبادی ہے جہاں قریب کوئی اور مسجد موجود نہیں ہے۔ 

درخواست:  اس صورتِ حال میں رہنمائی مطلوب ہے کہ آیا محمدی مسجد میں جمعہ نماز شروع کرنا شرعی طور پر درست ہوگا یا نہیں؟03467868636

 نوٹ:اس جگہ کی آبادی زیادہ ہے ،یعنی یہاں جمعہ کی شرائط پائی جارہی ہیں،معلوم یہ کرنا ہے کہ اس مسجد میں نماز جمعہ کی ابتداء سے دوسری مساجد میں جو لوگ کم ہوجائیں گے ،اس بارے میں کوئی حرج تو نہیں ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

نمازِ جمعہ کی ادائیگی جس قدر بڑے مجمعے میں کی جائے ، اسی قدر زیادہ اجر وثواب کا باعث ہے،اس لیے مناسب یہ ہے کہ بڑی مساجد میں نماز جمعہ پڑھی جائے،تاہم جب مذکورہ مسجد میں بھی  جمعہ کی شرائط موجود ہیں توجمعہ کی نماز شروع کرنے کی شرعا گنجائش ہے،اس لیےکہ  ایک سے زائد مساجد میں نماز جمعہ پڑھنا درست ہے،اگر لوگوں کی مصلحت محلے کی مقامی مساجد میں نماز جمعہ ادا کرنے میں ہے تو اس میں پڑھنے میں حرج نہیں ہے۔

حوالہ جات

و فی الدر المختار(2/144) :

 (وتؤدى في مصر واحد بمواضع كثيرة) مطلقا.

 (قوله مطلقا) أي سواء كان المصر كبيرا أو لا وسواء فصل بين جانبيه نهر كبيركبغداد أو لا وسواء قطع الجسر أو بقي متصلا وسواء كان التعدد في مسجدين أو أكثر هكذا يفاد من الفتح، ومقتضاه أنه لا يلزم أن يكون التعدد بقدر الحاجة كما يدل عليه كلام السرخسي الآتي (قوله على المذهب) فقد ذكر الإمام السرخسي أن الصحيح من مذهب أبي حنيفة جواز إقامتها في مصر واحد في مسجدين وأكثر به نأخذ لإطلاق «لا جمعة إلا في مصر» شرط المصر فقط اھ ۔.

سید نوید اللہ

دارالافتاء،جامعۃ الرشید

30/ محرم  1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید نوید اللہ

مفتیان

محمد حسین خلیل خیل صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب