| 88257 | میراث کے مسائل | مناسخہ کے احکام |
سوال
محمد اکبر بن احمد علی کی وفات 1989 میں ہوئی جبکہ مرحوم کے والد احمد علی کی وفات 1996 میں ہوئی ۔ احمد علی کی مزید اولاد بھی ہے ۔ اب پوتوں یعنی محمد اکبر کے بچے اپنے دادا احمد علی کی میراث میں حق رکھتے ہیں یا نہیں ؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
بطور تمہید واضح رہے کہ مورث کے انتقال کے وقت جو ورثہ حیات ہوتے ہیں ،وہی وارث بنتے ہیں ۔چونکہ محمد اکبر کا انتقال اپنے والد احمد علی سے پہلے ہوا تھا ،لہٰذا والد کی میراث میں ان کا حق نہیں ہے ۔ اسی طرح ان کی اولاد بھی اپنے دادا کی میراث میں حق دار نہیں ہوسکتی کیوں کہ دادا کی دیگر اولاد موجود ہے،لہٰذا ان کی موجودگی میں یہ محجوب(میراث سے محروم ) شمار ہوں گے۔ہا ں داد اگر اپنی زندگی میں اپنے مال میں سے پوتوں کو کچھ دینا چاہتے تو باقاعدہ قبضہ کرو ا کر دے سکتے تھے۔اسی طرح اگر ورثہ دلی رضامندی سے پوتوں کو اپنے حصوں سے کچھ دے دیں تو صلہ رحمی اور حسن سلوک کا عظیم اجر پائیں گے۔
حوالہ جات
قال تعالى:
{يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْن} [النساء: 11]
البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (8/ 557):
وَأَمَّا بَيَانُ الْوَقْتِ الَّذِي يَجْرِي فِيهِ الْإِرْثُ فَنَقُولُ هَذَا فَصْلٌ اخْتَلَفَ الْمَشَايِخُ فِيهِ قَالَ مَشَايِخُ الْعِرَاقِ : الْإِرْثُ يَثْبُتُ فِي آخِرِ جُزْءٍ مِنْ أَجْزَاءِ حَيَاةِ الْمُوَرِّثِ وَقَالَ مَشَايِخُ بَلْخٍ الْإِرْثُ يَثْبُتُ بَعْدَ مَوْتِ الْمُوَرِّثِ.
حماد الدین قریشی
دارالافتاءجامعۃ الرشید، کراچی
30 /محرم/1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | حماد الدین قریشی بن فہیم الدین قریشی | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب |


