03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
تملیک کے بعد زکوٰۃ فنڈ سے سادات مریضوں کا علاج کرنا
88236زکوة کابیانمستحقین زکوة کا بیان

سوال

کیافرماتے ہیں علماء ِکرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ

ہمارا ایک رفاہی ہسپتال ہے اور ہم مریضوں کا علاج زکوٰۃ اور صدقات کے پیسوں سے کرتے ہیں۔ ہم نے ایک فارم بنایا ہوا ہے، جس کے ذریعے ہم مریض سے زکوٰۃ وصول کرنے اور پھران کی طرف سےخرچ کرنے کا وکالت نامہ لیتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر کبھی ہمارے پاس کوئی مستحق سید  مریض آتا ہے تو کیا ہم اس کا بھی علاج اس رقم سے کر سکتے ہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

چونکہ آپ غیر سادات مستحق مریضوں سے زکوٰۃ وصول کرنے اور ان کی طرف سے خرچ کرنے کا وکالت نامہ لیتے ہیں، تو آپ لوگ ان غیر سادات مستحق مریضوں کے زکوٰۃ کی وصولی اور اس کے خرچ کرنے میں وکیل ہوتے ہیں۔ اور شرعی اصول کے مطابق وکیل کا قبضہ، مؤکل (یعنی اصل مستحق) کا قبضہ شمار ہوتا ہے، لہٰذا جب زکوٰۃ کی رقم آپ کے قبضہ میں آجاتی ہے تو گویا وہ ان غیر سادات مستحق مریضوں کے قبضہ میں آ گئی۔

زکوٰۃ جب کسی مستحق یا اس کے وکیل کے قبضے میں آ جاتی ہے تو اس پر سے زکوٰۃ کا حکم ختم ہو جاتا ہے۔ لہٰذا اس کے بعد وہ رقم کسی سید پر بھی خرچ کی جا سکتی ہے، کیونکہ اب اس رقم کا حکم زکوٰۃ کا نہیں بلکہ "ہدیہ" کا ہوگا۔ چنانچہ مسئولہ صورت میں، آپ زکوٰۃ فنڈ سے مستحق سادات مریضوں کا علاج کر سکتے ہیں۔ بس یہ احتیاط کرنی ہو گی کہ ان سادات مریضوں سے وکالت نامہ نہ لیا جائے۔

اس مسئلہ کی دلیل صحیح بخاری کی وہ حدیث ہے جس میں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گوشت پیش کیا گیا اور بتایا گیا کہ یہ حضرت بریرہ رضی اللہ عنہا پر صدقہ کیا گیا تھا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا"هو لها صدقة،ولنا هدية"(یعنی: یہ بریرہ کے لیے صدقہ ہے اور ہمارے لیے(ان کی طرف سے) ہدیہ ہے(صحیح بخاری، حدیث نمبر: 2577)

فقہائے کرام نے اس حدیث سے یہ اصول اخذ کیا ہے کہ زکوٰۃ جب فقیر یا اس کے وکیل کے قبضہ میں آ جائے تو اس پر سے زکوٰۃ کا حکم ختم ہو جاتا ہے، اب اگروہ فقیر (یا اس کا وکیل مؤکل کی اجازت سے) اس رقم کو سادات پر خرچ کرتاہےتو یہ زکوٰۃ نہیں بلکہ اس فقیر کی طرف سے سیدکےلیےہدیہ شمار ہو گی، اور اس کا ثواب بھی اس فقیر کو ملے گا۔

سادات (خاندانِ رسول ﷺ) کے اکرام کا تقاضہ تویہ ہےکہ ان کے لیے حکومت کی طرف سے الگ فنڈ ہو، یا عام مسلمانوں کی طرف سے ان کے علاج، معالجہ اور دیگر ضروریات کے لیے خاص فنڈ قائم کیے جائیں۔ لیکن بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں ایسا نہیں ہے، اور وہ خمس  جو پہلے ان کو دیا جاتا تھا، اب وہ نہیں دیا جاتا۔ ایسے مواقع پر اگر ضرورتمند سادات کا مذکورہ فنڈ سے بھی علاج نہ کیا جائے تو یہ ایک بڑا حرج ہوگا۔لہٰذا مذکورہ شرعی گنجائش سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ضرورت مند سادات کا علاج و معالجہ کرنا نہ صرف یہ کہ جائز ہے، بلکہ کارِ ثواب بھی ہے۔

حوالہ جات

وفی صحیح البخاری( 2577):

حدثنا محمد بن بشار، حدثنا غندر، حدثنا شعبة، عن قتادة، عن انس بن مالك رضي الله عنه، قال:" اتي النبي صلى الله عليه وسلم بلحم، فقيل: تصدق على بريرة، قال: هو لها صدقة ولنا هدية".

شرح القسطلاني = إرشاد الساري لشرح صحيح البخاري (8/ 26) :

دخل رسول الله -صلى الله عليه وسلم- وبرمة على النار فقرب إليه خبز وأدم من أدم البيت فقال: «لم أر البرمة»؟ فقيل لحم تصدق على بريرة وأنت لا تأكل الصدقة، قال: «هو عليها صدقة ولنا هدية».

عمدة القاري شرح صحيح البخاري (13/ 135) :

قوله: (ولنا هدية) لأن التحريم يتعلق بالصفة لا بالذات، وقد تغير ما تصدق به على بريرة بانتقاله إلى ملكها وخروجه عن ملك المتصدق.

المعتصر من المختصر من مشكل الآثار (2/ 89) :

 ووجهه أن الصدقة خرجت من ملك المتصدق على بريرة فجاز خروجها من ملكها إلى من تحرم عليه الصدقة بالهدية.

شرح التلويح على التوضيح (1/ 324) :

تبدل الملك يوجب تبدل العين .... روي «أن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - دخل على بريرة فأتت بريرة بتمر، والقدر كان يغلي باللحم فقال - عليه الصلاة والسلام - ألا تجعلين لنا من اللحم نصيبا فقالت هو لحم تصدق علينا يا رسول الله، فقال - عليه الصلاة والسلام -: هي لك صدقة، ولنا هدية» فقد جعل تبدل الملك موجبا لتبدل العين حكما مع أن العين واحد؛ ولأن حكم الشرع على الشيء بالحل، والحرمة، وغيرهما يتعلق بذلك الشيء من حيث إنه مملوك لا من حيث الذات حتى لو كان حكم الشرع يتعلق من حيث الذات لا يتغير أصلا كلحم الخنزير فإنه حرام لعينه، ونجس لعينه أما إذا تعلق حكم الشرع بهذا الذات من حيث الاعتبار فإذا تبدل الاعتبار تبدل هذا.

الوجيز في إيضاح قواعد الفقة الكلية (ص: 345) :

قاعدة: (تبدل سبب الملك قائم مقام تبدل الذات) وبمعناها قاعدة: (اختلاف الأسباب بمنزلة اختلاف الأعيان) .أصل هذه القاعدة ودليلها ما في الحديث الشريف: (أن رسول الله صلى الله عليه وسلم دخل يوماً على بريرة معتقة عائشة رضي الله عن أبيها وعنها، فقدمت إليه تمراً وكان القدر يغلي من اللحم فقال عليه السلام: ألا تجعلين لي نصيبا من اللحم؟ فقالت: يا رسول الله إنه لحم تصدق به عليَّ. فقال عليه الصلاة والسلام: لك صدقة ولنا هدية. يعني أنك أخذته من مالكه فكان صدقة عليك، فملكته وإذا أعطيتنا إياه يصير هدية لنا منك. فدل هذا الحديث على أن تبدل الملك يوجب تبديلاً في العين.معنى القاعدة:(إذا تبدل سبب تملك شيء ما يُعَدّ ذلك الشيء متبدلاً حكماً، وإن لم يتبدل هو حقيقة) .من مسائل هذه القاعدة:الفقير إذا أخذ زكاة أو صدقة ثم وهبها أو أهداها لغني أو هاشمي أو باعها منهما حل ذلك لهما؛ لتبدل العين بتبدل سبب الملك.

البحر الرائق (2/ 261):

قوله ( وبناء مسجد وتكفين ميت وقضاء دينه وشراءقن يعتق ) بالجر بالعطف على ذمي والضمير في دينه للميت وعدم الجواز لانعدام التمليك الذي هو الركن في الأربعة ... والحيلة في الجواز في هذه الأربعة أن يتصدق بمقدار زكاته على فقير، ثم يأمره بعد ذلك بالصرف إلى هذه الوجوه، فيكون لصاحب المال ثواب الزكاة وللفقير ثواب هذه القرب،  كذا في المحيط.

تحفة الفقهاء (1/ 307):

وأما إذا قضى دين حي فقير، فإذا قضى بغير أمره يكون متبرعا ولا يقع عن الزكاة، وإن قضى بأمره فإنه يقع عن الزكاة ويصير وكيلا في قبض الصدقة عن الفقير والصرف إلى قضاء دينه، فقد وجد التمليك من الفقير فيجوز.

سیدحکیم شاہ عفی عنہ

دارالافتاء جامعۃ الرشید

1/2/1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید حکیم شاہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب