| 88264 | علم کا بیان | علم کے متفرق مسائل کابیان |
سوال
میرے ذہن پر کبھی کبھار فجر کی نماز کے بعد خوف مسلط ہوجاتاہے، جس کی کوئی معقول وجہ بھی نہیں ہوتی۔الحمداللہ نماز باقاعدگی کے ساتھ پڑھتاہوں۔چونکہ میں حفظ کررہاہوں تو تلاوت باقاعدگی کے ساتھ ہوتی ہے۔اسی طرح مولانا یونس پالن پوری صاحب کی کتاب" مومن کاہتھیار" بھی باقاعدگی کے ساتھ پڑھتاہوں۔لیکن جو خوف کبھی کبھار مجھ پر حاوی ہوجاتی ہے،اس سے جان نہیں چھوٹتی ۔کبھی موت کاخوف اور کبھی کبھار اس سے بھی خوفزدہ ہوتاہوں کہ تلاوت ،اذکار ، نماز، وغیرہ کی پابندی کے باوجود ،کیاخوف کاہونا ایمان کی کمزوری کی علامت تونہیں؟ اور خدانخواستہ اگر اس حالت میں موت آئے تو آگے مراحل میں میرا کیا حال ہوگا؟ براہ کرم میری رہنمائی فرمائیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
ایک سچا مسلمان ہمیشہ اللہ سے ڈرتا ہے، اس کے دل میں خوف الہی ہوتا ہے، اگر وہ کوئی نیکی کرے تو اس کو دلی اطمینان حاصل ہوتا ہے اور اگر اس سے کوئی گناہ سر زد ہوجائے تو فورا اللہ کے حضور توبہ واستغفار کرتا ہے۔یہی سچے مسلمان ہونے کی نشانی ہے۔حدیث شریف میں آتا ہے کسی آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کیا، ایمان کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تیری نیکی تجھے خوش کر دے اور تیری برائی تجھے غمگین کر دے تو، آپ مومن ہے۔(مسند احمد)
موت کا خیال، آخرت کی یاد اور اللہ کے سامنے حاضری کا تصور جب دل میں خوف و خشیت پیدا کرے، تو یہ درحقیقت مؤمن ہونے کی علامت ہے۔ بعض اوقات انسان کو غیر اختیاری طور پر دل میں خوف محسوس ہوتا ہے، یا وہ اپنے گناہوں پر نادم ہوتا ہے—تو ایسی کیفیت کو مایوسی کی بجائے ایمان کی علامت سمجھنا چاہیے۔
چنانچہ حضرت حنظلہ رضی اللہ عنہ کا واقعہ اس کی بہترین مثال ہے ۔
حضرت حنظلہ رضی اللہ عنہ نے ایک بار رسول اللہ ﷺسے عرض کیا :اےاللہ کے رسول! ہم آپ کے پاس حاضر ہوتے ہیں، آپ ہمیں جنت اور دوزخ کی یاد دلاتے ہیں، تو حالت یہ ہوتی ہے گویا ہم (جنت اور دوزخ کو) اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں اور جب ہم آپ کے ہاں سے باہر نکلتے ہیں تو بیویوں، بچوں اور کام کاج کی دیکھ بھال میں لگ جاتے ہیں۔۔ ہم بہت کچھ بھول جاتے ہیں۔۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار ارشاد فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر تم ہمیشہ اسی کیفیت میں رہو جس طرح میرے پاس ہوتے اور ذکر میں لگے رہو تو تمہارے بچھونوں پر اور تمہارے راستوں میں فرشتے (آ کر) تمہارے ساتھ مصافحے کریں ۔ لیکن اے حنظلہ! کبھی ایک حال ہوتا ہے اور کبھی دوسرا حال۔ (صحیح مسلم)
اس حدیث سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ایک مؤمن کی دلی کیفیت، جذبات اور روحانی جذبہ ہمیشہ ایک جیسے نہیں رہتے۔کبھی اس کی روحانی کیفیت زیادہ ہوتی ہے اور کبھی انسان غفلت کا شکار ہوجائے تو مایوس ہونے کے بجائے تلاوتِ قرآن، اذکار، نیک لوگوں کی صحبت اختیار کرنے ، اور عبادات کی طرف متوجہ ہوکر اپنی غفلت دور کردیتا ہے۔
حدیث سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ مسلمان کو نیک اعمال کے ساتھ ساتھ فطری زندگی گزارنی چاہئے،لہذا انسان کا بیوی بچوں سے محبت کرنا، ان کے ساتھ وقت گزارنا، روزگار کے لیے جدوجہد کرنا، یہ سب عبادت کا ہی حصہ ہیں ۔ اسی طرح انسان عبادات کے ساتھ دوسرے حقوق اور فرائض بھی پورا کرسکے گا ۔عبادات ، کسب، معاشرت اور نجی زندگی میں توازن برقرار رکھنا بھی ضروری ہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ اس غیر اختیاری خوف کی وجہ سے زیادہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ، بلکہ عبادات، ذکر واذکار کے ساتھ فطری زندگی گزارنے کی کوشش کریں اور حقوق اللہ کے ساتھ حقوق العباد پورا کرنے کی کوشش کریں۔
حوالہ جات
صحيح مسلم (4/ 2107 ت عبد الباقي):
عن حنظلة الأسيدي قال (وكان من كتاب رسول الله صلى الله عليه وسلم قال:
لقيني أبو بكر فقال: كيف أنت؟ يا حنظلة! قال قلت: نافق حنظلة. قال: سبحان الله! ما تقول؟ قال قلت: نكون عند رسول الله صلى الله عليه وسلم. يذكرنا بالنار والجنة. حتى كأنا رأي عين. فإذا خرجنا من عند رسول الله صلى الله عليه وسلم، عافسنا الأزواج والأولاد والضيعات. فنسينا كثيرا. قال أبو بكر: فوالله! إنا لنلقى مثل هذا. فانطلقت أنا وأبو بكر، حتى دَخَلْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم. قلت: نافق حنظلة. يَا رَسُولَ اللَّهِ! فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم "وما ذاك؟ " قلت: يا رسول الله! نكون عندك. تذكرنا بالنار والجنة. حتى كأنا رأى عين. فإذا خرجنا من عندك،
عافسنا الأزواج والأولاد والضيعات. نسينا كثيرا. فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم "والذي نفسي بيده! إن لو تدومون على ما تكونون عندي، وفي الذكر، لصافحتكم الملائكة على فرشكم وفي طرقكم. ولكن، يا حنظلة! ساعة وساعة" ثلاث مرات.
شرح المصابيح لابن الملك (3/ 90):
"عن حنظلة الأُسَيدي": وهذا حنظلة بن الرُّبَيع كاتبُ الرسول عليه الصلاة والسلام، لا حنظلةُ بن عامرٍ غسيلُ الملائكةِ.
"أنه قال: انطلقتُ أنا وأبو بكر حتى دخلْنا على رسول الله صلى الله تعالى عليه وسلم، فقلت: نافَقَ حنظلةُ"؛ أي: صارَ منافقًا، وذلك أنه إذا كان عند النبي صلى الله عليه وسلم أَخلَصَ وزهدَ في الدنيا، وإذا خرجَ عنه تركَ ما كان عليه كفعل المنافقين. "قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: وما ذاك؟ "؛ أي: لأيِّ شيءٍ تقول ذلك القولَ؟
"قلت: نكون عندك تُذكِّرنا بالنار والجنة كأنَّا رأيَ عينٍ": منصوب بإضمار (نرى)؛ أي: كأنَّا نراهما رأيَ عينٍ، وقيل: مصدرٌ أُقيم مقامَ اسم الفاعل؛ أي: كأنا رائينَ الجنةَ والنارَ بالعين.
"فإذا خرجْنا عافَسْنَا"؛ أي: خالَطْنَا."الأزواجَ والأولادَ"، والمراد: الاستمتاع بهم، والقيام بتدبيرهم."والضَّيعات"؛ أي: الأراضي والبساتين."فنسينا كثيرًا"؛ أي: نسيانًا كثيرًا، إلى هنا بيانٌ من حنظلةَ لِمَا يتوهَّمه من نفسه من النفاق.
"فقال رسول الله صلى الله تعالى عليه وسلم: والذي نفسي بيده! لو تَدُومون على ما تكونون عندي وفي الذِّكر"، الواو بمعنى: أو، عطف على قوله: (ما تكونون)، أو على قوله: (عندي)؛ أي: لو تدومون في الذِّكر، أو على ما تكونون في الذِّكر."لَصافحتْكم الملائكةُ"؛ أي: علانيةً."على فُرُشِكم وفي طُرُقِكم"؛ أي: في حالَتي فراغِكم وشغلِكم."ولكنْ يا حنظلةُ! ساعةً فساعةً"؛ أي: تكونون ساعةً في الحضور فتؤدُّون حقوقَ ربِّكم، وساعةً في الغَيبة والفتور فتؤدُّون حقوقَ أنفسكم.
مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح (1/ 118):
وعن أبي أمامة أن رجلا سأل رسول الله صلى الله عليه وسلم: ما الإيمان؟) أي علامته، قال: (إذا سرتك حسنتك وساءتك سيئتك) أي إذا عملت حسنة وحصل لك فرح ومسرة بتوفيق الطاعة وإذا فعلت سيئة ووقع في قلبك حزن ومساءة خوفا من العقوبة (فأنت مؤمن) ؛ فإن المؤمن الكامل يميز بين الطاعة والمعصية، ويعتقد المجازاة عليهما يوم القيامة، بخلاف الكافر فإنه لا يفرق بينهما ولا يبالي بهما.
محمد اسامہ فاروق
دارالافتاء جامعۃالرشید،کراچی
2/صفر المظفر/1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد اسامہ فاروق بن محمد طاہر فاروق | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


