03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
تاخیر قرض پر مالی جرمانہ کا حکم
88312سود اور جوے کے مسائلمختلف بینکوں اور جدید مالیاتی اداروں کے سود سے متعلق مسائل کا بیان

سوال

میرا مسئلہ یہ ہے کہ مجھے کاروبار کے لیے پیسوں کی ضرورت ہے۔ میرے پاس کچھ زیور موجود ہے۔ اگر میں یہ زیور گروی رکھ کر کسی اسلامی بینک سے قرض لوں اور واپسی کے وقت بینک اصل رقم سے زیادہ وصول کرے تو کیا یہ سود شمار ہوگا؟ سوال  یہ ہے کہ اگر  مجھے بینک سے قرض مل جائے  اور میں اس قرض کو مقرر وقت پر واپس کردو ں تو مجھے کوئی اضافی رقم ادا نہیں کرنی ہوگی، لیکن اگر میں تاخیر کر دوں اور اس تاخیر پر اضافی رقم لی جائے تو کیا وہ  ادا کرنا بھی سود کے زمرے میں آتا ہے؟  

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے ہماری معلومات کے مطابق اسلامی بینک اس قسم کا قرض نہیں دیتے ،اگر  اس طرح کا قرض دیتےبھی  ہوں ،تو واپسی کے وقت اصل رقم سے زیادہ ادا کرنا شرعاً سود شمار ہوتا ہے، اور سود کا لینا دینا حرام اور ناجائز ہے۔ شریعت میں قرض خالصتاً تبرع (احسان) کا معاملہ ہے، اس پر کسی قسم کا  مشروط نفع یا اضافہ لینا جائز نہیں۔

اسی طرح قرض کو مقرر ہ وقت پر واپس نہ کرنے پر جرمانہ لگانا  یعنی دی ہوئی رقم سے زیادہ وصول کرنایا اس کی شرط پر راضی ہونا  دونوں نا جائز ہیں،  لہذا  اگر آپ نے مذکورہ معاہدے کے مطابق قرض لیا، پھر خواہ وقت کے اندر ہی ادا کردیا تب بھی یہ سودی معاملہ اور اس پر رضامندی کے زمرے میں آئے گا۔

حوالہ جات

وفي حاشية ابن عابدين  (5/ 166):

(قوله كل قرض جر نفعا حرام) أي إذا كان مشروطا كما علم مما نقله عن البحر، وعن الخلاصة وفي الذخيرة وإن لم يكن النفع مشروطا في القرض، فعلى قول الكرخي لا بأس به .والله أعلم بالصواب!

رد المحتار ط الحلبي» (4/ 62):

والحاصل أن المذهب عدم التعزير بأخذ المال لا یجوز لأحد من المسلمین أخذ مال أحد بغیر سبب شرعي.

محمد ابراہیم عبد القادر

دارالافتاءجامعۃ الرشید ،کراچی

09/صفر المظفر /7144ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد ابراہیم بن عبدالقادر

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب