03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
پنجابی میں”تینوں طلاق دےچھڑیساں اور دینداں پیاں”کہنے کا حکم
88318طلاق کے احکامصریح طلاق کابیان

سوال

اس مسئلہ کی بابت پوچھنا ہے،  جس کا تفصیلی سوال نمبر شمار درج ذیل ہے۔

 (1) مسماۃ حمیراعنبرین کے بقول میرا خاوند مسمی عامر شہزاد ولد عطا محمد پٹواری (مرحوم) نے مجھے دوران گفتگو مغلوب الغضب دھکا دے کر پنجابی میں کہا میں تينوں ( تجھے ) طلاق دیندا پیاں، میں طلاق دے چھڑ یساں ۔ یہ پورا جملہ ایک ہی دفعہ کہا۔

 (2)  نیز مسماۃ حمیراعنبرین نے دوسری مرتبہ بعنوان دیگر موجودہ ویڈیو بیان کے مطابق یہ بھی بتایا کہ میرے خاوند مسمی عامر شہزاد نے اس طرح کہا کہ میں تن طلاق دیونی ، دتی ، دیونی ہے۔ اس جیسے جملے کہے ہیں۔ کیونکہ میں تھائی رائیڈ کی مريضہ ہوں، بیماری کی وجہ سے بظاہر میں نے اسی طرح سنااور سمجھاتھا۔

3۔پھر میرے خاوند مسمی عامر شہزاد نے میرے بڑے بھائی کوبذریعہ موبائل فون کال کر کے دوران گفتگو یہ کہا کہ "میں طلاق دیندا پیا"صرف ایک دفعہ کہہ کر فون بند کر دیا۔

4۔  پھر دوبارہ بذریعہ کال موبائل میرے دوسرے بھائی کو پنجابی میں کہا اپنی بہن نوں لے ونج۔" اگر ہک گھنٹے دے وچ نہ لے گئے تا میری طرفوں فارغ" (اپنی بہن کو لے جاؤ، اگر ایک گھنٹے کے دوران نہ لے کر گے تو یہ میری طرف سے فارغ ہے۔)تاہم میرے بھائی مجھے ایک گھنٹے سے پہلے لے آئے۔

اصل موقع پر جھگڑے کے دوران خاوند مسمی عامر شہزاد کے بھائی محمد حسن ولد عطا محمد پٹواری کے بقول میرے بھائی نے صرف طلاق کی دھمکی دی، واقع کے بعد برادری کے افراد میں سے خصوصی محمد آصف ولد محمد عظیم ومحمد شبیر محمد احمد ، ان کے بقول ہم نے خاوند سمی عامر شہزاد سے پوچھا تو  خاوند نے کہا میں نے یہ الفاظ صرف وعدہ طلاق یعنی ڈرانے کے لیے کہے تھے۔ میری نیت طلاق کی نہیں تھی۔ باقی ایک گھنٹہ وقت یا آدھا گھنٹہ ۔ کی شرط جو مجھے یاد نہیں کہ کتنا ٹائم کہاں تھا؟ کیونکہ بعینہ اس وقت بھی میری نیت طلاق کی نہ تھی کہ میں طلاق دوں گا۔ فقط سمجھانے یالے جانے کی نیت تھی، اس نےیہ بیان دوران حاضرین مجلس تقریباً بارہ مرداور چھ عورتوں کے سامنے بھی قسما و حلفا بار بار دہرایا کہ میری حال و استقبال میں طلاق کی کوئی نیت نہ تھی۔اگر طلاق واقع ہو چکی ہے تو بیوی کانان و نفقہ اور بچوں کا خرچہ شرعاً و قانو ناً خاوند پر لازم ہو گا یانہیں؟

وضاحت: سائل نے بتایا کہ" دیونی، دتی اور دیونی اے" کے کلمات میں عورت کو شک ہے کہ یہی لفظ کہے یا اس طرح کچھ اور کہے۔ جبکہ شوہر کا دعوی  ہے کہ میں نے یہ الفاظ نہیں کہے، اس کے علاوہ بھی  طلاق کی نیت سے میں نے کوئی الفاظ نہیں کہے اور میں اس پر حلفیہ بیان دیتا ہوں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

صورتِ مسئولہ میں جب شوہر نے پنجابی زبان میں کہا: "میں تينوں طلاق دیندا پیا، میں طلاق دے چھڑ یساں"(میں تجھے طلاق دے رہا ہوں، میں طلاق دے دوں گا) ان میں سے پہلے جملے میں طلاق کے ارادہ اور انشاء دونوں کا احتمال ہے، لہذا اگر شوہر حلفیہ بیان دیتا ہے کہ میری طلاق دینے کی نیت نہیں تھی تو اس صورت میں اس سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی، دوسرا جملہ استقبال کا ہے، اس سے بھی کچھ نہیں ہوا۔

دوسری مرتبہ شوہر نے کہا:"میں تنوں طلاق دیونی ، دتی ، دیونی اے" (میں نے تجھے طلاق دینی ہے،دے دی، دوں گا) اس میں شوہر نے تین جملے بولے ہیں، اس میں پہلے جملے(میں نے تجھے طلاق دینی ہے) سے طلاق کے ارادے کا اظہار ہے اورتیسرا جملہ (دیونی اے یعنی دوں گا) مستقبل کا ہے، لہذا اگر شوہر نے بالفرض یہ جملے کہے بھی ہوں تو بھی ان سے کچھ واقع نہیں ہوا۔ البتہ دوسرا جملہ (دتی یعنی دے دی) ماضی کا ہے، اگرشوہر نے یہ جملہ کہا ہوتا تو اس سے ایک طلاق واقع ہو جاتی، لیکن چونکہ شوہر ان تمام کلمات کا انکار کر رہا ہے اور عورت کو بھی اس میں شک ہے کہ کون سے جملے کہے ہیں؟ اور شریعت کا اصول یہ ہے کہ شک کی بناء پر کوئی حکم ثابت نہیں ہوتا، لہذا اگر شوہر ان کلمات کے نہ کہنے پر حلف  اٹھاتا ہے، جیسا کہ سوال میں مذکور ہے تو اس لفظ سے بھی کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی۔

تيسری مرتبہ شوہر نے عورت کے بھائی سے کہا"میں طلاق دیندا پیاں" یعنی میں طلاق دے رہا ہوں، یہ حال کا جملہ ہے، اس میں بھی طلاق کے ارادہ اور انشاء دونوں کا احتمال ہے، لہذا اگر شوہر حلفیہ بیان دیتا ہے کہ ان الفاظ سے میری طلاق کی نیت نہیں تھی اور عورت کو اس کی بات پر اطمینان حاصل ہو جائے تو اس صورت میں ان الفاظ سے بھی کوئی طلاق واقع نہیں ہو گی۔

چوتھی مرتبہ شوہر نے عورت کے دوسرے بھائی سے کہا:"اپنی بہن نوں لے ونج۔ اگر ہک گھنٹے دے وچ نہ لے گئے تا میری طرفوں فارغ" (اپنی بہن کو لے جا، اگر ایک گھنٹہ کے اندر نہ لے کر گئے تو میری طرف سے فارغ ہے) اس میں شوہر نے طلاق کو شرط کے ساتھ معلق کیا ہے، اگر عورت کا بھائی ایک گھنٹے کے اندر نہ لے کر جاتا تو ایک طلاقِ بائن واقع ہو جاتی، لیکن چونکہ عورت کا بھائی ایک گھنٹے کے اندر لے گیا تھا اس لیے اس جملہ سے بھی کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی۔

خلاصہ یہ كہ پیچھے ذکر کی گئی تفصیل میں اگر خاوند نے معلّق طلاق كے علاوه کسی جملہ سے طلاق کی نیت نہیں کی، جیسا کہ اس کے حلفیہ بیان سے معلوم ہوتا ہے تو اس صورت میں عورت پر  کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی، لہذا فریقین کے درمیان بدستور نکاح قائم ہے اور شوہرکے ذمہ بیوی بچوں کا نان ونفقہ وغیرہ سب کچھ واجب ہے۔

حوالہ جات

 الهداية في شرح بداية المبتدي (1/ 237) دار احياء التراث العربي – بيروت:

" ولو قال اختاري فقالت أنا أختار نفسي فهي طالق " والقياس أن لا تطلق لأن هذا مجرد وعد أو يحتمله فصار كما إذا قال لها طلقي نفسك فقالت أنا أطلق نفسي وجه الاستحسان حديث عائشة رضي الله عنها فإنها قالت لا بل أختار الله ورسوله اعتبره النبي عليه الصلاة والسلام جوابا منها ولأن هذه الصيغة حقيقة في الحال وتجوز في الاستقبال كما في كلمة الشهادة وأداء الشاهد الشهادة بخلاف قولها أطلق نفسي لأنه تعذر حمله على الحال لأنه ليس بحكاية عن حالة قائمة ولا كذلك قولها أنا أختار نفسي لأنه حكاية عن حالة قائمة وهو اختيارها نفسها.

شرح القواعد الفقهية (ص: 79) الناشر: دار القلم، سوريا:

واليقين في اصطلاح علماء المعقول هو: الاعتقاد الجازم المطابق للواقع الثابت. فخرج بالقيد الأول، أعني الجازم، الظن وغلبة الظن، لأنه لا جزم فيهما، وخرج بالقيد الثاني ما ليس مطابقا للواقع وهو الجهل وإن كان صاحبه جازما. وخرج بالقيد الثالث اعتقاد المقلد فيما كان صوابا، لأن اعتقاده لما لم يكن عن دليل كان عرضة للزوال. فكل ذلك ليس من اليقين في شيء. لكن المناسب هنا تفسير اليقين بالمعنى الأول اللغوي، لأن الأحكام الفقهية إنما تبنى على الظاهر، فكثيرا ما يكون الأمر في نظر الشرع يقينا لا يزول بالشك في حين أن العقل يجيز أن يكون الواقع خلافه، وذلك كالأمر الثابت بالبينة الشرعية.

محمد نعمان خالد

دارالافتاء جامعۃ الرشیدکراچی

11/صفرالخیر1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب