03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
’مفتی ‘کسے کہتے ہیں؟آج کے دور میں مفتیان کرام کی حیثیث کیا ہے؟
88319علم کا بیانفتوی کے آداب کا بیان

سوال

 کیا آج کے دور میں سارے مفتی ناقل ہیں ؟ جو شخص درسِ نظامی کے بعد صِرف تخصص کرے تو کیا ہم اس کو مفتی کہہ سکتے ہیں ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

موجودہ زمانے میں مفتیان کرام اس معنی میں ناقل ہیں کہ وہ  حضرات فقہاء کرام  و ائمہ مجتہدین  کی تحقیقات  آگے نقل کرتے ہیں ۔  ’’مفتی‘‘ کی اصطلاح آج کل اُن علماء کرام کےلئے استعمال کی جاتی ہے جنہوں نےدرس نظامی(عالمیہ کورس) سے فراغت کے بعد کسی مستند اور ماہر مفتی کی نگرانی میں افتاء(شرعی حکم بتانے )  کی مشق کی ہو اور بعدازاں ان کی جانب سے فتوی دینے کی اجازت بھی دی گئی ہو ۔ اس لحاظ سے  ایسےکسی عالم  کو مفتی کہنا بھی جائزہے۔ اور اُس سے شرعی مسئلہ معلوم کرنےمیں  بھی حرج نہیں۔

         تاہم واضح رہے کہ سادہ متخصص عالم کوعُرفی  معنی میں ’’مفتی‘‘ کہنے میں حرج نہیں، لیکن دار الافتاؤں میں کام کرنے والےایسے متخصص ابتداء میں ’’رفیق دار الافتاء‘‘ کہلاتے ہیں اور بہت عرصے تک فتوی ٰکی تمرین اور مشق کے بعد کہیں جاکر وہ’’نائب مفتی‘‘ اور پھر مزید تجربے کے بعد’’مفتی‘‘ کے منصب پر فائز کئے جاتے ہیں،لہٰذا  ایک تو عوام کو اِس عُرفی اطلاق سے دھوکہ میں نہیں پڑنا چاہئے۔دوسرے خود فتوی ٰ کا کام کرنے والوں کے لئےخود کو   ’’مفتی‘‘ سمجھنے میں بھی  بہت احتیاط کی ضرورت ہے۔اکابرین تو اپنے بڑوں کی طرف  سے’’مفتی‘‘ کے منصب پر فائز کئے جانے کے بعد بھی ساری عمر خود کو ناقل ِفتاویٰ ہی سمجھتے تھے۔رحمہم اللہ تعالیٰ!

حوالہ جات

قال تعالي:

 {ولا تقولوا لما تصف ألسنتكم الكذب هذا حلال وهذا حرام لتفتروا على الله الكذب إن الذين يفترون على الله الكذب لا يفلحون. متاع قليل ولهم عذاب أليم}[النحل:116ـ 117}.

{فمن أظلم ممن افترى على الله كذبا ليضل الناس بغير علم إن الله لا يهدي القوم الظالمين} [الأنعام:144].

(عقود رسم المفتي، ص:(48

قال العلامۃ  ابن عابدین رحمہ اللہ:’’فلا بد أن يكون  المراد من وجوب معرفة الدليل على المفتي  ،أن يعرف حاله حتى يصح له تقليده  في ذلك  مع الجزم به، و إفتاء غيره به ، و هذا لا يتأتى إلا في المفتي المجتهد، وهو المفتي حقيقة، أما غيره فهو ناقل.‘‘

(الوجيز في أصول الفقه الإسلامي :(379/2

وقال    حفظہ اللہ أیضًا: يجب أن يكون المفتي عالمًا بالأحكام الشرعية...ويمكن اليوم أن يتوفر شرط العلم بالحصول على إجازة في الشريعة، أيفي الفقه وأصول الفقه، وما يلحق ذلك من العلوم الفقهية، كالقواعد الفقهية، والنظريات الفقهية، والفقه المقارن.

حماد الدین قریشی عفی عنہ

دارالافتاءجامعۃ الرشید، کراچی

11/صفر المظفر/1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

حماد الدین قریشی بن فہیم الدین قریشی

مفتیان

مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب