| 88113 | اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائل | کرایہ داری کے متفرق احکام |
سوال
بعض اوقات گیسٹ کسی ایجنٹ کے ذریعے آتاہے اور ایڈوانس بکنگ ہوتے ہی ایجنٹ کو اس کا کمیشن ادا کردیاجاتاہے ۔ اگر بعد میں گیسٹ اپنی بکنگ کینسل کردے تو ایسی صورت میں ایجنٹ کی لی گئی کمیشن کا کیا حکم ہوگا ؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
ایجنٹ کی کمیشن کی صورت میں اگر ایجنٹ نے اپنا کام مکمل کر دیا (مثلاً گیسٹ کو ہوٹل کے بارے میں متعارف کروایا اور بکنگ کروائی) اور اسی پر کمیشن طے ہوا تھاتو ایجنٹ کا کمیشن لینا جائز ہوگا، خواہ بعد میں گیسٹ آئے یا نہ آئے۔ اگر معاہدہ کمیشن کا مشروط تھا کہ گیسٹ آئے گا تب کمیشن ملے گاورنہ نہیں ملے گا تو گیسٹ کے نہ آنے پر ایجنٹ سے کمیشن واپس لینا جائز ہے۔
حوالہ جات
«مطلب في أجرة الدلال [تتمة]
قال في التتارخانية: وفي الدلال والسمسار يجب أجر المثل، وما تواضعوا عليه أن في كل عشرة دنانير كذا فذاك حرام عليهم. وفي الحاوي: سئل محمد بن سلمة عن أجرة السمسار، فقال: أرجو أنه لا بأس به وإن كان في الأصل فاسدا لكثرة التعامل وكثير من هذا غير جائز، فجوزوه لحاجة الناس إليه كدخول الحمام وعنه قال: رأيت ابن شجاع يقاطع نساجا ينسج له ثيابا في كل سنة.
«المبسوط» للسرخسي (15/ 115):
«وإن قال بع المتاع ولك الدرهم، أو اشتر لي هذا المتاع ولك الدرهم ففعل فله أجر مثله ولا يجاوز به ما سمى؛ لأنه استأجره للعمل الذي سماه بدرهم، فإن جواب الأمر بحرف الواو كجواب الشرط بحرف الفاء.ولو قال: إن بعت هذا المتاع لي فلك درهم كان استئجارا، فكذلك إذا قال: بعه ولك درهم، ثم قد استوفى المعقود عليه بحكم إجارة فاسدة فيلزمه أجر مثله والله أعلم بالصواب.
محمد ابراہیم عبد القادر
دارالافتاءجامعۃالرشید ،کراچی
16/محرم الحرام /7144ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد ابراہیم بن عبدالقادر | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


