03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
میراث میں تنازعہ سے متعلق مسئلہ(میراث میں تنازعہ سے متعلق مسئلہ( اولاد کوئی چیز ہبہ/گفٹ کردی تو والد کی میراث سے محروم نہ ہوں گے))
88330میراث کے مسائلمناسخہ کے احکام

سوال

ہمارے والد صاحب نے اپنی زندگی میں ہم دونوں بہنوں (نوشین اور بختاور) کو ایک گھر تحفے میں دیا تھا، جس پر اسی وقت ہمارا قبضہ بھی ہوگیا۔ بعد میں ہمارے شوہروں نے اس گھر پر 50 لاکھ روپے خرچ کرکے تعمیر کروائی۔ کچھ عرصے بعد ہمارے اور شوہروں کے درمیان اختلافات پیدا ہوئے، جس کے نتیجے میں ہم نے یہ گھر اپنے والد صاحب کو 2 کروڑ روپے اور ایک زمین کے عوض فروخت کر دیا۔والد صاحب نے 2 کروڑ میں سے 1 کروڑ 50 لاکھ روپے ہمیں ادا کیے اور کہا کہ باقی رقم گھر خالی کرنے کے بعد دی جائے گی۔ اس وقت اس گھر اور زمین دونوں کے کاغذات ہمارے نام پر موجود تھے۔جب ہم نے گھر خالی کیا تو والد صاحب نے باقی رقم دینے سے انکار کر دیا۔ اس دوران ہمارے شوہروں نے والد صاحب سے بدتمیزی کی، جس پر والد صاحب کو شدید غصہ آیا اور انہوں نے ہمیں ایک معاہدے پر دستخط کرنے پر مجبور کیا۔ اس معاہدے میں لکھا تھا کہ ہم بقایا رقم وصول کر چکے ہیں، لیکن حقیقت میں ہم نے یہ معاہدہ نہ پڑھا اور نہ ہی سمجھا۔ ہم نے صرف اس وجہ سے دستخط کیے کہ والد صاحب نے کہا کہ اگر ہم دستخط نہیں کریں گے تو نہ باقی پیسے ملیں گے اور نہ وہ زمین جو گھر کے عوض دی گئی تھی۔بعد میں والد صاحب نے بقایا رقم بھی ادا کر دی اور اسی وقت انہوں نے عثمان بھائی سے کہا کہ اگر وہ چاہیں تو اس زمین کا بھی معاہدہ بنوا کر ہم سے دستخط لے کر اپنے نام کرا سکتے ہیں، لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا۔ کچھ عرصے بعد والد صاحب کا انتقال ہوگیا۔

اب عثمان بھائی دعویٰ کر رہے ہیں کہ والد صاحب نے ان کے سامنے کہا تھا کہ وہ زمین بھی واپس لینے کا حق رکھتے ہیں، لہٰذا وہ زمین ان کی ملکیت ہے، حالانکہ والد صاحب نے اپنی زندگی میں وہ زمین ہم سے واپس نہیں لی۔

ہمارا سوال یہ ہے کہ کیا ہم دونوں بہنوں کو والد صاحب کے ترکہ (میراث) میں سے شرعاً حصہ ملے گا یا نہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ والد اپنی جائیداد کے تنہا مالک ہوتے ہیں، اس لیے کسی وارث کے لیے والد کی حیات میں اپنے حصے کا مطالبہ کرنا شرعاً درست نہیں ہے اور نہ ہی والد اس کو حصہ دینے کے پابند ہیں، کیونکہ میراث کا تعلق انسان کی وفات کے بعد کے زمانے سے ہے۔ البتہ اگر والد اپنی خوشی اور رضامندی سے اپنی زندگی میں کسی بیٹے یا بیٹی کو جائیداد میں سے کچھ دینا چاہیں تو  اس کی شرعی حیثیت ھدیہ (       گفٹ) کی ہوتی ہے جس کے بارے میں اسلام کی تعلیم یہی ہے کہ اولاد میں انصاف کیا جائے ۔

صورتِ مسئولہ میں مذکورہ تفصیل کے مطابق والد نے اپنی زندگی میں ایک گھر آپ دونوں بہنوں کو ہبہ کیا تھا، بعد میں اسی گھر کو دوبارہ  دو کروڑ اور ایک زمین کے عوض خرید لیا اور اس کے بعد  آپ دونوں سے ایک ایگریمنٹ پر دستخط لے  کر   بقایا رقم بھی ادا کردی، جس کے نتیجے میں وہ گھر دوبارہ والد کی ملکیت میں آگیا۔ اب اس بیچے ہوئے   گھر کے بدلے میں ملنےوالی  زمین کے معاملے میں والد کا عثمان بھائی کو گواہ بنا کر یہ کہنا کہ "جب چاہوں گا یہ زمین واپس لے لوں گا" ، اس سے انہیں شرعاً   زمین واپس لینے کا حق نہیں ہے  ، کیونکہ وہ زمین اس گھر کی قیمت کا حصہ ہے، اس بناء پر والد کو  واپس لینے کا حق نہیں ہے اور اگر  وہ واپس لیتا بھی  تو اس پر واپس کرنا لازم ہوتا ۔لہٰذا وہ زمین آپ دونوں کی ملکیت ہی شمار ہوگی اور  کسی بہن یا بھائی کا اس میں حصہ کا دعویٰ شرعاً درست نہیں ہوگا۔

شرعی طور پر اگر والد اپنی زندگی میں بیٹوں یا بیٹیوں کو کوئی چیز ہبہ کر دے تو بعد میں انہیں میراث سے محروم نہیں کیا جاسکتا، لہٰذا آپ دونوں کا والد کے ترکہ میں شرعاً حق موجود ہے۔ صرف گھر کے ہبہ کرنے کی وجہ سے آپ میراث سے محروم نہیں ہوں گی۔ اسی طرح اگر والد خدمت گزاری یا تنگ دستی کی بنیاد پر کسی بچے یا بچی کو زندگی میں کچھ زیادہ دینا چاہے تو شرعاً اس کی گنجائش ہے۔لہٰذا والد مرحوم نے وفات کے وقت جو کچھ بھی اپنی ملکیت میں چھوڑا ہو،چاہے وہ منقولہ یا غیر منقولہ جائیداد ہو، سونا، چاندی، نقدی یا دیگر سامان ہو وہ سب ان کا ترکہ شمار ہوگا۔ اس میں سے:

  1. کفن و دفن کے درمیانی درجے کے اخراجات نکالے جائیں گے۔
  2. والد کے ذمے واجب الاداء قرض ادا کیا جائے گا۔
  3. کل ترکے کے ایک تہائی کی حد تک ان کی جائز وصیت پر عمل کیا جائے گا۔

اس کے بعد باقی ماندہ ترکہ والد کے وفات کے وقت زندہ  ورثاء میں شرعی اصولوں کے مطابق تقسیم کیا جائے گا۔

حوالہ جات

الدر المختار شرح تنوير الأبصار وجامع البحار» (ص562):

وفي الخانية: ‌لا ‌بأس ‌بتفضيل ‌بعض الاولاد في المحبة لانها عمل القلب، وكذا في العطايا إن لم يقصد به الاضرار، وإن قصده فسوى بينهم يعطي البنت كالابن عند الثاني، وعليه الفتوى.

الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية» (4/ 385):

‌ليس ‌له ‌حق ‌الرجوع ‌بعد ‌التسليم في ذي الرحم المحرم وفيما سوى ذلك له حق الرجوع إلا أن بعد التسليم لا ينفرد الواهب بالرجوع بل يحتاج فيه إلى القضاء أو الرضا أو قبل التسليم ينفرد الواهب.

محمد ابراہیم عبد القادر

دارالافتاءجامعۃ الرشید ،کراچی

14/صفرالمظفر /7144ھ     

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد ابراہیم بن عبدالقادر

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب