| 88392 | جائز و ناجائزامور کا بیان | جائز و ناجائز کے متفرق مسائل |
سوال
کیا شریعت اس بات کی اجازت دیتی ہے کہ مکان کی مارکیٹ ویلیو طے کرکے، ایک معاہدہ کیا جائے جس کےتحت میں تمام شرکاء کو پانچویں سال میں مکمل رقم ادا کر دوں؟اس عرصے میں کوئی قسط نہیں دی جائے گی، بلکہ آخری سال میں مکمل رقم دی جائے گی، بشرطیکہ تمام وارثین اس پر رضامند ہوں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اگر سب اس گھر کی ویلیو کے اعتبارسے ایک قیمت طے کر لیتے ہیں،اور وہ اپنے حصے آپ پر فروخت کرلیتے ہیں، پھر باہمی رضامندی سے اس کی ادائیگی کے لیے مستقبل کی کوئی متعین مدت طے کی جاتی ہے تو ایسا کرنادرست ہے،اس سے ان کے حصے ان کی ملکیت سے نکل کر آپ کی ملکیت میں آجائیں گے، ان کو وہی قیمت ملے گی جو اس وقت ان کی رضامندی سے طے ہوئی تھی، البتہ اگر آپ اس وقت ان سے حصے نہیں خریدتے ،بلکہ فقط وعدہ کرتے ہیں کہ پانچ سال میں ادائیگی کروں گا، اور وہ تیار ہوجاتے ہیں تو اگرچہ یہ بھی درست ہے ،تاہم اس صورت میں ورثہ کو بعد میں آپ کو یہ پراپرٹی دینے اور قیمت کی تعیین میں اختیار ہوگا ،لہذا بہتر یہ ہے کہ ان سے ان کے حصے خریدکر قیمت کی ادائیگی کے لیے پھر کوئی مدت متعین کریں۔
حوالہ جات
فقہ البیوع(1/520):
أما البیع الحال ،فحکمہ : أنہ متی وقع البیع ،استحق المشتری مطالبۃ تسلیم المبیع ،واستحق البائع مطالبۃ تسلیم الثمن فورا،و ان أعطی أحدھما الآخر مھلۃ لتسلیم ماعلیہ ،فانۃ تطوع ،ولیس حقا لہ۔ولذلک ان أمھلہ الی أجل غیر معلوم ،مثل :مایقول بعض التجار لبعض أھل معرفتہ: أد الثمن متی شئت ،فانہ بیع حال مھل فیہ البائع المشتری تطوعا،ولذلک یحق لہ أن یطالبہ بالثمن متی شاء۔ولو کان بیعا مؤجلا،لفسد البیع،لجھالۃ الاجل ،و لکنہ جائز علی کونہ حالا.
سید نوید اللہ
دارالافتاء،جامعۃ الرشید
21/ صفر 1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید نوید اللہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


