03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مدرسہ كی انتظامیہ کا چھوٹ بچوں سے کھانا اور وطیفہ جمع کروانے کا حکم
91789وقف کے مسائلمدارس کے احکام

سوال

ایک مدرسہ میں تقریباً ایک سو بیس (120) طلبہ درسِ نظامی اور تیس تا چالیس (30–40) طلبہ حفظِ قرآن کے زیرِ تعلیم ہیں،  ہمارے پختون معاشرے میں مدارس کے لیے کھانا اور وظیفہ جمع کرنے کا ایک رائج نظام ہے، جس کے تحت بعض حفاظ اور چھوٹے طلبہ قرب و جوار کے محلوں سے اپنے ساتھی طلبہ اور درسِ نظامی کے طلبہ کے لیے کھانا یا وظیفہ جمع کرتے ہیں۔

صورتِ حال یہ ہے کہ مدرسے کے طلبہ کے شعبے الگ الگ ہیں؛ بعض طلبہ حفظِ قرآن کے شعبے میں ہیں اور بعض درسِ نظامی کے شعبے میں۔ جن طلبہ کے لیے یہ چھوٹے بچے کھانا یا وظیفہ جمع کرتے ہیں، ان میں بعض بالغ اور خودکفیل طلبہ بھی شامل ہیں، جو اپنی ضروریات پوری کرنے کی استطاعت رکھتے ہیں، اس کے باوجود بعض کم عمر طلبہ کو ان بالغ اور خودکفیل طلبہ کے لیے بھی قرب و جوار سے کھانا یا وظیفہ جمع کرنے کے لیے بھیجا جاتا ہے۔ بعض بچے روزانہ چار، پانچ بلکہ بعض اوقات چھ گھنٹے تک اس کام میں مصروف رہتے ہیں، جس کی وجہ سے ان کا تعلیمی وقت، سبق کی تیاری، آرام اور دیگر ضروری امور متاثر ہوتے ہیں۔ کیا اس قدر وقت اس کام میں صرف کرنا شرعاً ضیاعِ وقت کے زمرے میں شمار ہوگا؟

مزید یہ کہ مدرسہ انتظامیہ نے ان طلبہ کے والدین یا سرپرستوں کے ساتھ اس سلسلے میں کوئی باقاعدہ معاہدہ یا پیشگی رضامندی بھی نہیں کی کہ بچے مدرسے کے لیے اتنے گھنٹے کھانا یا وظیفہ جمع کریں گے، بعض اوقات اگر کوئی طالب علم اپنی استطاعت یا مقررہ معیار کے مطابق کم کھانا یا وظیفہ لے کر آتا ہے تو مدرسہ کے بعض منتظمین یا متعلقہ عملہ اسے تنبیہ کرتے ہیں، اور بعض صورتوں میں جسمانی سزا بھی دی جاتی ہے کہ تم نے مقررہ مقدار کیوں پوری نہیں کی۔

مزید یہ کہ بعض بڑے اور بالغ طلبہ بھی ان کم عمر بچوں پر اپنی طرف سے دباؤ، زبردستی اور سختی کرتے ہیں اور بعض اوقات ان کے ساتھ زیادتی بھی کی جاتی ہے، حالانکہ یہ بچے ان بڑے طلبہ کے خادم یا ذاتی ملازم نہیں ہیں۔

لہٰذا درج ذیل امور کے بارے میں شرعی رہنمائی مطلوب ہے:

کیا مدرسہ انتظامیہ کو شرعاً یہ حق حاصل ہے کہ وہ طلبہ، خصوصاً نابالغ بچوں کو، قرب و جوار سے کھانا یا وظیفہ جمع کرنے کا پابند کرے؟

اگر یہ کام شرعاً جائز ہے تو کیا نابالغ بچوں سے اس نوعیت کی خدمت لینا شرعاً درست ہے، خصوصاً جبکہ ان کے والدین یا سرپرستوں کے ساتھ اس بارے میں کوئی معاہدہ یا پیشگی رضامندی موجود نہ ہو؟

جبکہ مدرسے کے شعبہ جات الگ الگ ہیں اور جن بالغ طلبہ کے لیے یہ بچے کھانا یا وظیفہ جمع کرتے ہیں، ان میں بعض بالغ، خودکفیل اور اپنی ضروریات پوری کرنے کی استطاعت رکھنے والے بھی ہیں، تو کیا ان کے لیے نابالغ بچوں سے اس طرح خدمت لینا شرعاً جائز ہے؟

کیا ایسے بالغ اور خودکفیل طلبہ کے لیے یہ مناسب ہے کہ وہ اپنے کھانے یا وظیفے کے حصول کے لیے نابالغ بچوں کو چار، پانچ یا چھ گھنٹے تک مشقت میں ڈالیں، جبکہ اس سے بچوں کی تعلیم اور تربیت متاثر ہو رہی ہو؟

اگر طلبہ کو اس کام کا پابند کرنا جائز ہےتو اس کی شرعی حدود و قیود کیا ہیں؟ اور کیا روزانہ اتنا طویل وقت اس کام میں لگانا، جس سے ان کی تعلیم، سبق اور آرام متاثر ہو، شرعاً درست ہے؟

اگر کوئی طالب علم اپنی استطاعت کے مطابق کم کھانا یا كم وظیفہ لے کر آئے تو کیا اسے اس کمی پر ڈانٹنا، دباؤ ڈالنا، زبردستی کرنا یا جسمانی سزا دینا شرعاً جائز ہے؟

کیا بڑے اور بالغ طلبہ کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ چھوٹے یا نابالغ طلبہ پر زبردستی، دباؤ یا سختی کریں یا انہیں اپنے لیے کھانا اور وظیفہ لانے پر مجبور کریں؟ اگر ایسا کرنا شرعاً جائز نہیں تو اس ظلم و زیادتی کا سدِّباب کیسے کیا جائے؟

اگر کوئی نابالغ طالب علم اس کام کی وجہ سے ذہنی یا جسمانی اذیت محسوس کرے تو کیا اسے اس کام سے انکار کرنے کا حق حاصل ہے؟اگریہ نظام شرعاً جائز نہیں، یا اس میں مذکورہ صورت کے مطابق کوئی قباحت پائی جاتی ہے، تو مدرسہ انتظامیہ کے لیے اس کا شرعی، منصفانہ اور مناسب متبادل نظام کیا ہونا چاہیے؟

بالخصوص اگر کسی نابالغ طالب علم کے والدین یا سرپرستوں نے مدرسے میں داخل کرتے وقت ایسی کسی خدمت کی اجازت یا معاہدہ نہ کیا ہو تو کیا مدرسہ انتظامیہ اسے اس خدمت کا پابند کر سکتی ہے؟ اور اگر نہیں تو کیا والدین کےليےاپنے بچے کو اس کام سے روکنے یا اسے مدرسے سے واپس لے جانے کا شرعاً حق حاصل ہوگا؟

نیز ایسے مدارس میں جہاں طلبہ کے مختلف شعبہ جات ہوں، انتظامیہ کے لیے ایسا کون سا شرعی ضابطۂ کار ہونا چاہیے جس سے نہ کسی طالب علم کا تعلیمی حق متاثر ہو، نہ نابالغ بچوں پر ظلم و زبردستی ہو، اور نہ بالغ و خودکفیل طلبہ کی ضروریات کا بوجھ کم عمر بچوں پر ڈالا جائے؟

براہِ کرم قرآن و سنت، فقہِ حنفی اور معتبر فقہی اصول و فتاویٰ کی روشنی میں ان تمام امور کا مدلل، واضح اور قابلِ عمل شرعی حل بیان فرمائیں، تاکہ مدرسہ انتظامیہ، اساتذہ، بڑے طلبہ، چھوٹے طلبہ اور ان کے سرپرست سب شرعی حدود کے مطابق عمل کر سکیں اور کسی طالب علم پر ظلم یا زیادتی نہ ہو۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

جاننا چاہیے کہ عام حالات میں بغیرمجبوری اور ضرورت کےشریعت میں سوال کرنے کی سخت مذمت بیان کی گئی ہے،  اس لیے بلاضرورتِ شدید کسی بھی شخص کے لیے سوال کرنا شرعاً جائز نہیں ہے، خواہ سوال کرنے والا مدرسہ کا طالب ہو یا کوئی اور۔ جہاں تک مدرسہ کے طلباء کا گھروں سے کھانا اکٹھا کرنے کا تعلق ہے تو اس کی درج ذیل دو صورتیں ہیں:

پہلی صورت: مدرسہ کے پاس اتنے وسائل موجود ہوں کہ وہ طلباء کا کھانا اور دیگر اخراجات بآسانی پورے کر سکتے ہوں یا یہ کہ اہل علاقہ صاحب ثروت ہوں کہ ان کے زیرتعلیم بچوں سے فیس لے کر ان کے اخراجات کا انتظام کیا جا سکتا ہو تو ان دونوں صورتوں میں مدرسہ کی انتظامیہ کے لیے طلباء کو گھر گھر کھانا اکٹھا کرنے کے لیے بھیجنا جائز نہیں، خصوصا جبکہ اس میں بچوں کا تعلیمی حرج ہو اور ان کی تربیت پر منفی اثرات مرتب ہوں۔  

دوسری صورت:  مدرسہ کے پاس اخراجات کے لیے اتنے وسائل نہ ہوں اور زیرتعلیم طلباء غریب گھرانوں سے تعلق رکھتے ہوں جو فیس ادا کرنے کی استطاعت نہ رکھتے ہوں تو اس صورت میں بچوں کو قرآن کی تعلیم دینے اور اسلام کے ضروری احکام سکھانے کےلیے درج ذیل شرائط کے ساتھ زیرتعلیم طلباء کو کھانا جمع کرنے کے بھیجا جا سکتا ہے:

  1. جن بچوں کے والدین اخراجات ادا کرنےکی استطاعت رکھتے ہوں ان کے والدین سے رابطہ کر کے ان سے باقاعدہ فیس لی جائے اور ان کے لیے کھانا گھروں سے نہ منگوایا جائے۔
  2. کھانا لانے کے لیے صرف نابالغ بچوں کی ذمہ داری نہ لگائی جائے، بلکہ ترتیب کے ساتھ بالغ اور نابالغ دونوں قسم کے بچوں کی باری لگائی جائے۔
  3. کھانا لانے کے لیے ایک مخصوص اور محدود وقت طے کیا جائے اور اسی وقت میں طلباء کو کھانے کے لیے بھیجا جائے اور وقت پر واپس آنے کی تاکید اور تاخیر کرنے پر تنبیہ کی جائے۔
  4. اہلِ علاقہ سے رابطہ کر کے صرف خوشی سے کھانا دینے والے حضرات سے کھانا قبول کیا جائے، بادل نخواستہ کسی کو کھانا دینے پر مجبور نہ کیا جائے، نیز خوشی سے دینے والوں کو وقت کا پابند کیا جائے کہ اتنے بجے ہمارا طالب علم آئے گا تو اس کو فورا کھانا دے دیا جائے، تاکہ اس کا وقت ضائع نہ ہو۔
  5. کھانا کم ملے یا زیادہ انتظامیہ، استاذ یا کسی بھی طالب علم کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ کھانا لانے والے طالبِ علم کو ڈانتے یا سرزنش کرے، یہ بالکل ناجائز  اور گناہ ہے،خصوصاً ایسی صورت میں بچے کو جسمانی سزا دینا تو حرام اور کبیرہ گناہ ہے،  جس سے بچنا از حد ضروری ہے۔
  6. جن طلباء کے والدین داخلہ کے وقت یا بعد میں کھانا لانے سے منع کریں تو ان سے کھانے کی مد میں فیس وصول کی جائے یا اس کا گھر قریب ہونے کی صورت میں اس کو اپنے گھرکھانا کھانے کا پابند کیا جائے، اگرایسا ممکن نہ ہو تو مجبوری کی صورت میں انتظامیہ کو داخلہ نہ دینے کےسلسلہ میں اس طالب علم کے والدین سے معذرت کرنے کا اختیار حاصل ہے۔   
حوالہ جات

صحيح مسلم (2/ 722) الناشر: دار إحياء التراث العربي – بيروت:

عن قبيصة بن مخارق الهلالي، قال: تحملت حمالة، فأتيت رسول الله صلى الله عليه وسلم أسأله فيها، فقال: أقم حتى تأتينا الصدقة، فنأمر لك بها، قال: ثم قال: " يا قبيصة إن المسألة لا تحل إلا لأحد ثلاثة رجل، تحمل حمالة، فحلت له المسألة حتى يصيبها، ثم يمسك، ورجل أصابته جائحة اجتاحت ماله، فحلت له المسألة حتى يصيب قواما من عيش - أو قال سدادا من عيش - ورجل أصابته فاقة حتى يقوم ثلاثة من ذوي الحجا من قومه: لقد أصابت فلانا فاقة، فحلت له المسألة حتى يصيب قواما من عيش - أو قال سدادا من عيش - فما سواهن من المسألة يا قبيصة سحتا يأكلها صاحبها سحتا .

شرح النووي على مسلم (7/ 133) الناشر: دار إحياء التراث العربي – بيروت:

(عن هارون بن رياب) هو بكسر الراء وبمثناة تحت ثم ألف موحدة قوله (تحملت حمالة) هي بفتح الحاء وهي المال الذي يتحمله الإنسان أي يستدينه ويدفعه في إصلاح ذات البين كالإصلاح بين قبيلتين ونحو ذلك وإنما تحل له المسألة ويعطى من الزكاة بشرط أن يستدين لغير معصية قوله صلى الله عليه وسلم (حتى تصيب قواما من عيش) أو قال سدادا من عيش القوام والسداد بكسر القاف والسين وهما بمعنى واحد وهو ما يغني من الشيء وما تسد به الحاجة وكل شيء سددت به شيئا فهو سداد بالكسر ومنه سداد الثغر والقارورة وقولهم سداد من عوز قوله صلى الله عليه وسلم (حتى يقوم ثلاثة من ذوي الحجى من قومه لقد أصابت فلانا فاقة) هكذا هو في جميع النسخ يقوم ثلاثة وهو صحيح أي يقومون بهذا الأمر فيقولون لقد أصابته فاقة والحجى مقصور وهو العقل وإنما قال صلى الله عليه وسلم من قومه لأنهم من أهل الخبرة بباطنه والمال مما يخفى في العادة فلا يعلمه إلا من كان خبيرا بصاحبه وانما شرط الحجى تنبيها على أنه يشترط في الشاهد التيقظ فلا تقبل من مغفل.

فيض الباري على صحيح البخاري (3/ 146)

أن السؤال حرام على من كان عنده قوت يوم وليلة. وراجع أقسام الغني من «البحر». وقد اختلفت الروايات فيه عند الطحاوي. والفصل عندي أنه يختلف باختلاف الأحوال والأشخاص، وليست فيه ضابطة كلية، وبهذا يحصل الجمع في جملة الروايات في ذلك.

محمد نعمان خالد

دارالافتاء جامعۃ الرشیدکراچی

2/ربیع الاول 1448ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب