03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
دوسری بیوی رہائش کا مطالبہ کرے تو کیا حکم ہے؟
88371نکاح کا بیاننکاح کے جدید اور متفرق مسائل

سوال

ایک شخص جس کا فرضی نام جمیل ہے،اسکےپاس ایک طلاق یافتہ لڑکی جمیلہ(فرضی نام)آئی اورزکوۃمانگی،جمیل نےاس کوکہا:بھیک نہ مانگو،شادی کرلو،میں تمہیں ہرماہ تیس ہزارروپےدوں گا،کبھی کبھار آؤں گا،اس شرط پرشادی ہوئی،اب جمیلہ گھر دلانے کا تقاضا کر رہی  ہےاور یہ کہہ رہی ہے کہ جو آسانیاں آپ نے پہلی بیوی کو دی ہیں وہ ساری دو،کیا یہ مطالبہ جائز ہے؟ جبکہ جمیل نے اس کا خرچ 50000 ہرماہ کر دیا ہے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

مردوں کو شرعا دوسری شادی کی اجازت ہے،لیکن دوسری شادی کی صورت میں دونوں بیویوں کے درمیان برابری  کرنا،دونوں کے حقوق ادا کرنا شوہر کی ذمہ داری  ہے،لہذا بیویوں  کے درمیان رات گزارنے ، خرچہ ، نان نفقہ ااور رہائش میں برابری واجب ہے،البتہ اگر ایک بیوی مالدار  اور دوسری غریب ہوتو پھر ان کی حیثیت کے مطابق نفقفہ اور رہائش دینی ہوگی،شروع میں عورت نے اپنے حقوق کے بارے میں خاموشی اختیار کی ہویا مطالبہ نہ کرنے کا کہا ہو مگر اب دوبارہ ان حقوق کا تقاضا کررہی ہے تو شوہر کے ذمہ ان حقوق کی ادائیگی لازم ہے۔  

حوالہ جات

وفی الھندیة(4/ 355):

"وَمِمَّا يَجِبُ عَلَى الْأَزْوَاجِ لِلنِّسَاءِ الْعَدْلُ وَالتَّسْوِيَةُ بَيْنَهُنَّ فِيمَا يَمْلِكُهُ وَالْبَيْتُوتَةُ عِنْدَهَا لِلصُّحْبَةِ وَالْمُؤَانَسَةِ لَا فِيمَا لَا يَمْلِكُ وَهُوَ الْحُبُّ وَالْجِمَاعُ.وَإِنْ رَضِيَتْ إحْدَى الزَّوْجَاتِ بِتَرْكِ قَسْمِهَا لِصَاحِبَتِهَا جَازَ وَلَهَا أَنْ تَرْجِعَ فِي ذَلِكَ، كَذَا فِي الْجَوْهَرَةِ النَّيِّرَة ...وَلَوْ تَزَوَّجَ امْرَأَتَيْنِ عَلَى أَنْ يُقِيمَ عِنْدَ إحْدَاهُمَا أَكْثَرَ أَوْ أَعْطَتْ لِزَوْجِهَا مَالًا أَوْ جَعَلَتْ عَلَى نَفْسِهَا جُعْلًا عَلَى أَنْ يَزِيدَ قَسْمَهَا أَوْ حَطَّتْ مِنْ الْمَهْرِ لِكَيْ يَزِيدَ قَسْمَهَا فَالشَّرْطُ وَالْجُعْلُ بَاطِلٌ وَلَهَا أَنْ تَرْجِعَ فِي مَا لَهَا، كَذَا فِي الْخُلَاصَةِ ….

سید نوید اللہ

دارالافتاء،جامعۃ الرشید

21/ صفر 1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید نوید اللہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب