| 88389 | طلاق کے احکام | عدت کا بیان |
سوال
میرے شوہر کا انتقال ہو چکا ہے۔ میں نوکری کرتی ہوں اور میرا کوئی مالی یا معاشی سہارا نہیں ہے۔ گھر کا نظام چلانے اور بچوں کی دیکھ بھال کے لیے مجھے گھر سے نکلنا ناگزیر ہے۔ اس لیے میں عدّت کی شرعی مدت مکمل طور پر گھر میں رہ کر پوری نہیں کر سکتی۔ براہِ کرم مجھے اس سلسلے میں شرعی رہنمائی اور فتویٰ عطا فرمائیں۔
نوٹ: میری دفتری اوقات صبح 9 بجے سے شام 6 بجے تک ہیں، دفتر کلفٹن میں ہے، اور میں مغرب سے پہلے گھر واپس نہیں پہنچ سکتی۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورتِ مسئولہ میں آپ کے لیے مذکورہ اوقات میں گھر سے نکلنے کی گنجائش ہے، لیکن ملازمت کا وقت ختم ہوتے ہی فوراً گھر واپس آنا ضروری ہے۔ بلا ضرورت گھر سے باہر ٹھہرنا جائز نہیں۔
حوالہ جات
(الدر المختار:3/ 536)
(ومعتدة موت تخرج في الجديدين وتبيت) أكثر الليل (في منزلها) لأن نفقتها عليها فتحتاج للخروج، حتى لو كان عندها كفايتها صارت كالمطلقة فلا يحل لها الخروج فتح. وجوز في القنية خروجها لإصلاح ما لا بد لها منه كزراعة ولا وكيل لها.قال العلامة ابن عابدین رحمہ اللہ :"(قوله: في الجديدين) أي الليل والنهار فإنهما يتجددان دائما ط. (قوله: لأن نفقتها عليها) أي لم تسقط باختيارها، بخلاف المختلعة كما مر وهذا بيان للفرق بين معتدة الموت ومعتدة الطلاق. قال في الهداية: وأما المتوفى عنها زوجها فلأنه لا نفقة لها فتحتاج إلى الخروج نهارا لطلب المعاش وقد يمتد إلى أن يهجم الليل ولا كذلك المطلقة لأن النفقة دارة عليها من مال زوجها. اهـ.
قال في الفتح: والحاصل أن مدار حل خروجها بسبب قيام شغل المعيشة فيتقدر بقدره، فمتى انقضت حاجتها لا يحل لها بعد ذلك صرف الزمان خارج بيتها. اهـ.
محمد ادریس
دارالافتاء جامعۃ الرشید،کراچی
17 ٖصفر 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد ادریس بن محمدغیاث | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


