| 88401 | خرید و فروخت کے احکام | بیع کی مختلف اقسام ، بیع وفا، بیع عینہ اور بیع استجرار کا بیان |
سوال
کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
ہمارا گاڑیوں کا کاروبار ہے۔ ہم جاپان سے گاڑیاں امپورٹ کر کے پاکستان میں فروخت کرتے ہیں اور اس کام کے لیے ہمیں وقتاً فوقتاً سرمایے کی ضرورت پڑتی رہتی ہے۔ دو سال قبل ہمیں چار کروڑ روپے سرمایے کی ضرورت پیش آئی تو ہمارے ایک انویسٹر (حاجی اقبال صاحب) نے یہ تجویز دی کہ میں اپنا گھر (جس کی موجودہ مالیت چار کروڑ روپے ہے) انہیں چار کروڑ روپے نقد میں فروخت کر دوں، اور پھر وہی گھر وہ مجھے کرایہ پر دے دیں، لیکن کرایہ اس انداز سے ملے کہ پانچ سال کی مدت میں حاجی اقبال صاحب کو ان کا اصل سرمایہ یعنی چار کروڑ روپے اور اس پر کچھ نفع حاصل ہو جائے۔ اس تجویز کے مطابق ہم نے معاملہ کر لیا، میں نے اپنا گھر حاجی اقبال صاحب کو فروخت کر دیا اور انہوں نے چار کروڑ روپے نقد ادا کر دیے (جس سے میری سرمایے کی ضرورت پوری ہوگئی) اور میں دو سال سے ان کو مقررہ کرایہ ادا کر رہا تھا۔
اب دو سال بعد ہمیں دوبارہ کچھ زیادہ سرمایہ درکار ہے۔ ہمارے ایک اور انویسٹر (نور خان صاحب) ہمیں کہہ رہے ہیں کہ "میں آپ کا سابقہ گھر جس میں آپ کرائے پر رہ رہے ہیں وہ حاجی اقبال سے نقد چار کروڑ میں خرید لیتا ہوں (حاجی اقبال بھی ایسا کرنے پر راضی ہے) اور آپ کو دس سال کے لیے ساڑھے چار کروڑ روپے ادھار میں بیچ دیتا ہوں، تومیں نے کہاکہ اس گھر کی بازاری قیمت تو اب آٹھ کروڑ روپے ہے۔ اس پر نور خان صاحب نے کہا کہ ایساکرلیتے ہیں کہ یہ گھر میں نقد چار کروڑ میں خرید خریدکر آپ کو پہلے دس سال کے لیے ساڑھے چار کروڑ روپے ادھار میں بیچ دیتا ہوں اور جب یہ گھر آپ کی ملکیت میں آجائے گا تو میں (یعنی نور خان صاحب) آپ سے دوبارہ یہ گھر بازاری قیمت یعنی آٹھ کروڑ روپے میں نقد خرید لوں گا۔ اور خریدنے کے بعد آپ کو دوبارہ دس سال کے لیے کرایہ پر دے دوں گا، مگر کرایہ کی شرح ایسی رکھونگا کہ اس مدت میں میرا اصل سرمایہ یعنی آٹھ کروڑ روپے اور اس پر کچھ نفع بھی مجھے حاصل ہو جائے۔ اس پورے معاملے میں آپ ہمارا فائدہ یہ ہوگا کہ ہمیں آٹھ کروڑ روپے نقد مل جائے گااوراس طرح کرنے سے ہم سود سے بھی بچ جائیں گے۔اب میرا سوال یہ ہے کہ
کیا شرعی لحاظ سے اس طرح کا معاملہ کرنا جائز ہے؟ اور کیا واقعی یہ طریقہ سود سے پاک ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
آپ کے سوال میں دو معاملات کا ذکر ہے:
پہلا معاملہ (حاجی اقبال صاحب والاہے)کہ آپ نے اپنا گھر حاجی اقبال صاحب کو چار کروڑ روپے نقد میں بیچا اور پھر وہی گھر ان سے کرایہ پردس سال کےلیے لے لیا۔ اس کا شرعی حکم یہ ہے کہ اگر یہ بیع حقیقت میں ہوئی تھی یعنی:
* گھر مکمل طور پر خریدار (حاجی اقبال صاحب) کی ملکیت اور قبضے میں چلا گیا تھا۔
* وہ مالک تمام تصرفات (بیچنا، ہبہ کرنا، استعمال کرنا وغیرہ) پر قادر ہواتھا۔
* بیع کی مجلس میں یہ شرط نہیں رکھی گئی تھی کہ حاجی صاحب لازمی کرایہ پر دیں گے۔
* اور یہ شرط بھی نہ تھی کہ کرایہ کی قسطیں ختم ہونے کے بعد گھر دوبارہ پہلے مالک کو واپس ہو جائے گا،تو یہ جائز معاملہ ہے اور اس میں کوئی حرج نہیں۔
لیکن اگر اصل مقصد صرف یہ تھا کہ حاجی اقبال صاحب آپ کو چار کروڑ روپے بطور قرض دیں اور اس پر کرایہ کے نام سے نفع لیں، جبکہ گھر کی خرید و فروخت محض کاغذی اور ظاہری تھی، نہ گھر حاجی صاحب کی ملکیت میں گیا اور نہ ہی ان کو کوئی مالکانہ تصرف حاصل ہوا، یا بیع کے عقد میں ہی یہ شرط رکھی گئی کہ گھرکرایہ پردیاجائےگا اور قسطوں کے ختم ہونے پر گھر دوبارہ ہبہ کے طور پر پہلے مالک کو لوٹا دیا جائے گا، تو پھر یہ معاملہ جائز نہیں ہے۔کیونکہ حقیقت میں یہ قرض پر نفع حاصل کرنے کا سودی معاملہ ہے جس کے لیے "بیع، اجارہ اور ہبہ" کو صرف ایک حیلہ بنایا گیا ہے۔
آپ کے سوال میں جودوسرا معاملہ ہےجونور خان صاحب کا تجویز کردہ ہے۔اس میں کئی مراحل ہیں:
1. پہلےنور خان صاحب گھر کو حاجی اقبال سے نقد چار کروڑ میں خریدتے ہیں۔
2. پھروہی گھر وہ آپ کو ساڑھے چار کروڑ میں ادھار (دس سال کے لیے) بیچتے ہیں۔
3. پھر شرط لگائی جاتی ہے کہ جب آپ کے نام گھر منتقل ہو جائے تو آپ دوبارہ وہ گھرآٹھ کروڑ روپے میں نقد انہیں بیچ دیں گے۔
4. اس کے بعد وہ آپ کو دوبارہ گھر کرایہ پر دیں گے، مگر کرایہ اتنا رکھیں گے کہ ان کو اصل سرمایہ (آٹھ کروڑ) اور نفع بھی واپس ہو جائےاوراس کے بعدقسطوں کی اختیام پر گھر واپس آپ کا ہوجائے۔
اس معاملے کا شرعی حکم یہ ہےکہ یہ پورا ڈھانچہ حقیقت میں سود کے ایک چکر پر مبنی ہے۔یہاں ’’بیع‘‘،’’اجارہ‘‘ وغیرہ محض نام کے ہیں، اصل حقیقت یہ ہے کہ سرمایہ کار آپ کو سرمایہ دے کر اس پر نفع (Interest) لینا چاہتا ہے۔شریعت میں ایسی بیع جس میں بیچنے اور خریدنے کی شرطیں پہلے سے طے ہوں (کہ دوبارہ اسی شخص کواتنی زیادہ قیمت میں بیچا جائےگا) اسے "عکس عِینہ"کہاجاتاہے اوریہ سود کا ایک حیلہ اورناجائزمعاملہ ہوتاہے۔نیز اس معاملے میں ایک معاملے میں دوسرے کو شرط کیا گیاہے اوریہ بھی شریعت میں ممنوع ہے۔لہٰذا اس دوسرے معاملے میں سود سے بچاؤ نہیں بلکہ سود ہی کو ایک نئے انداز سے ادا کیا جا رہا ہے،لہذا یہ معاملہ شرعا جائز نہیں ہے،اس سے بچنالازم ہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ سوال میں ذکر کردہ دوسری صورت فقہاء کی اصطلاح میں عکس عینہ(شراء ما باع باکثر مما باع) کہلاتی ہے،جوکہ عینہ کی طرح ناجائز ہے،اس لیے کہ مذکورہ صورت میں حقیقی خریدوفروخت مقصود نہیں بلکہ قرض کا لین دین مقصود ہے اور اس قرض پر اضافی رقم یعنی سود کے لیے یہ صورت اختیار کی جارہی ہے،لہٰذا سوال میں ذکرکردہ معاملہ ناجائز ہے،اس سے اجتناب ضروری ہے۔
شرعی متبادل:
اس کا درست اورشرعی متبادل "مرابحہ مؤجلہ" ہوسکتاہے۔ یعنی سرمایہ کار (نور خان صاحب) آپ کے لیے گاڑیاں اپنے نام سے نقد پر خریدیں،خودخریدے یابذریعہ وکیل اورقبضہ لیکر پھر وہی گاڑیاں آپ کو نفع شامل کر کے ادھار پر بیچ دیں (مثلاً آٹھ کروڑ کی گاڑیاں نو کروڑ میں، جو قسطوں میں ادا ہوں)۔ شرط یہ ہے کہ:
1. یہ بیع حقیقت میں ہو۔
2. گاڑیاں پہلے سرمایہ کار کی ملکیت اور قبضے میں آئیں، پھر آپ کے نام باقاعدہ عقد کے ذریعے منتقل ہوں۔
3. پہلا اور دوسرا معاملہ بالکل الگ الگ ہوں یعنی دوسرا معاملہ پہلے میں شرط نہ ۔
4. قسطوں کے لیے باقاعدہ وقت مقررہواورکسی قسط کی تاخیرپرکوئی اضافی رقم وصول نہ کی جائے۔
حوالہ جات
الشرح الكبير لابن قدامة (4/ 46)
فان باع سلعة بنقد ثم اشتراها بأكثر منه نسيئة فقال أحمد في رواية حرب لا يجوز إلا أن تتغير السلعة لان ذلك يتخذ وسيلة إلى الربا فهي كمسألة العينة، فان اشتراها بسلعة أخرى أو بأقل من ثمنها أو بمثله نسيئة جاز لما ذكرنا في مسألة العينة، وان اشتراها بنقد آخر بأكثر من ثمنهافهو كمسألة العينة على ما ذكرنا من الخلاف، قال شيخنا ويحتمل أن يكون له شراؤها بجنس الثمن بأكثر منه إذ لم يكن ذلك عن مواطأة ولا حيلة بل وقع اتفاقا من غير قصد لان الاصل حل البيع وانما حرم في مسألة العينة للاثر الوارد فيه وليس هذا في معناه لان التوسل بذلك أكثر فلا يلحق به ما دونه.
شرح بلوغ المرام لعطية سالم (200/ 7، بترقيم الشاملة آليا)
حرمة الحيلة على الربا
ما هو عكس العينة؟ إنسان احتاج إلى نقد وما وجد أحداً يعطيه، فبحث عمن يبيعه أرزاً إلى آخر السنة بثمن مؤجل فما وجد أحداً يعطيه، هو غير معروف في السوق أو غير مؤتمن أو مماطل، المهم ما أحد بايعه، فذهب إلى البيت وقال لزوجته المسكينة: اعملي معروفاً، هات المصاغ الذي عندك، وأنا أبغى كذا، وأبغى أتصرف، وأفعل لك وأفعل، حيل كثيرة تحصل، فقالت: لا مانع يا ابن الحلال! تفضل، فأخذ المصاغ من المرأة، وذهب إلى الصائغ وقال: أنا عندي هذا الحلي وأريد أن أبيعه، قال: ما عندي مانع، فوزنه وقال: والله! هذا قيمته ألف ريال، فقال: بعت، أعطني الألف، الصائغ أخذ الحلي، والرجل أخذ الألف، ووضعها في جيبه، ثم قال للصائغ: يا شيخ! والله! أنا آسف، هذا حق امرأتي، وأنا قلت لها: سآتي لك به، وأخاف أن تقع مشكلة ونزاع وكذا وكذا، اعمل معي معروفاً، خلصني من هذه المشكلة، قال: ماذا تريد؟ قال: أنا أشتريه منك بثمن مؤجل بألف ومائتين.قال له: لا مانع، اكتب لي سنداً بألف ومائتين ثمن حلي وزنه كذا، تفضل خذ الحلي، فرجع إلى بيته بحلي المرأة، وبألف ريال، وعلى ظهره للصائغ ألف ومائتان ريال، فهذا حكمه حكم بيع العينة، فالحلي دليل على الطريق، والعملية انتهت على ألف ريال نقداً، بألف ومائتين بعد سنة، وهذا عكس العينة؛ لأن المبيع ملك المشتري، بخلاف الأولى، وكلاهما مآله إلى الربا.
ما موقف العلماء من هذا العقد؟ الأئمة الثلاثة: أبو حنيفة ، مالك ، أحمد رحمهم الله على فساد البيع والتحريم.والشافعي يقول: إن كان البائع والمشتري لأكياس الأرز مثلاً متفقان بنظرات العيون، وبقسمات الوجوه، ويعرفان بحالة الواقع، وكلاهما يعرف ماذا عند صاحبه، فكأنهما متفقان لفظاً، وكما قيل: الموجود عرفاً كالموجود حقيقة، فإذا جاء إلى رجل معروف أنه قعد في دكانه، ولا يبيع أرزاً ولا سكراً، عنده عشرون أو ثلاثون كيساً على طول السنة وهي موجودة، ويبيعها في اليوم عشرين مرة! ويسترجعها، إذاً: الذي يأتي إليه عادة هل يريد أن يشتري أو من أجل العينة؟ من أجل العينة؛ لأنه معروف بهذا، يقول الشافعي رحمه الله: إذا وقع العقد على غير اتفاق بين الطرفين فلا مانع.والجمهور يقولون: لا يجوز أبداً، ما دامت السلعة سترجع إلى بائعها؛ فسداً للباب تمنع، و مالك خاصة عنده سد الذرائع مقدم، وهو أصل من أصول مذهبه، وسد الذرائع هو: ترك ما لا بأس به مخافة مما به بأس.إذاً: حكم بيع العينة عند الأئمة رحمهم الله أنها ممنوعة وباطلة عند الأئمة الثلاثة، وفيها تفصيل عند الشافعي ، وأجاب عليه الجمهور، وبالله تعالى التوفيق.
المعاملات المالية أصالة ومعاصرةلأبو عمر دُبْيَانِ بن محمد الدُّبْيَانِ(11/ 390)
الصورة الثالثة:عكس العينة: وهو أن يبيع سلعة بنقد، ثم يشتريها بأكثر منه نسيئة (1)
وقد نص أحمد في رواية حرب على أن هذه الصورة لا تجوز إلا أن تتغير السلعة، فهي كمسألة العينة سواء وهي عكسها صورةً، وفي الصورتين قد ترتب في ذمته دراهم مؤجلة بأقل منها نقداً، لكن في إحدى الصورتين البائع هو الذي اشتغلت ذمته، وفي الصورة الأخرى: المشتري هو الذي اشتغلت ذمته، قال ابن القيم: لا فرق بينهما ... وليس في النص ما يدل على اختصاص العينة بالصورة الأولى حتى تتقيد به نصوص مطلقة على تحريم العينة
المعاییر الشرعیۃ(رقم:۵۸، إعادۃ الشراء،ص:۱۳۶۰)
٣/٥/١۔ من الصور الممنوعة في حال وجود مواطأة أو عرف:
٣/٥/١/۲۔ بيع العين نقدًا ثم شراؤها بثمن أكثر مؤجل.
مستند تحريم المواطأة على إعادة الشراء بثمن مؤجل يزيد عن الثمن المعجل أن ذلك من العينة المحرمة شرعًا. (المعاییر الشرعیۃ،رقم:۵۸، إعادۃ الشراء،ص:۱۳۷۵)
"المبدع في شرح المقنع "(4/ 49):
"فرع: إذا باع سلعة بنقد، ثم اشتراها بأكثر منه نسيئة فهي عكس العينة، وهي مثلها نقله حرب إلا أن تتغير صفتها".
المبسوط للسرخسي (14/ 36):
وإنما يحل ذلك عند عدم الشرط؛ إذا لم يكن فيه عرف ظاهر أما إذا كان يعرف أنه فعل ذلك لأجل القرض فالتحرز عنه أولى؛ لأن المعروف كالمشروط ... وذكر عن الشعبي أنه كان يكره أن يقول الرجل للرجل: أقرضني فيقول: لا حتى أبيعك وإنما أراد بهذا إثبات كراهة.
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع، فصل:فی الشرط الذی یرجع الی المعقود علیہ (5/ 146)
(ومنها) أن يكون مملوكا.لأن البيع تمليك فلا ينعقد فيما ليس بمملوك.
(فقہ البیوع،ج۱ص۳۷۵)
المعیار الشرعی رقم (۸)،المرابحۃ:
۳/۱/۳-الأصل أن تشتري المؤسسة السلعة بنفسها مباشرة من البائع،ويجوز لها ذلك عن طريق وكيل غير الآمر بالشــراء، ولا تلجألتوكيــل العميل (الآمــربالشــراء)إلا عند الحاجــة الملحة.
ولا يتولى الوكيل البيع لنفســه، بل تبيعه المؤسسة بعد تملكهاالعين، وحينئذ يراعى ما جاء في البند.۳/١/۵
۳/۲-قبض المؤسسة السلعة قبل بيعها مرابحة:
۳/۲/۱-يجب التحقق من قبض المؤسســة للســلعة ً قبضــا حقيقيا أو حكميا قبل بيعها لعميلها بالمرابحة.
۳/۲/۵-الأصل أن تتسلم المؤسسة السلعة بنفسها من مخازن البائع أومن المكان المحدد في شروط التسليم، وتنتقل مسؤولية ضمان المبيع إلى المؤسسة بتحقق حيازتها للسلعة، ويجوز للمؤسسةتوكيل غيرها للقيام بذلك نيابة عنها.
سیدحکیم شاہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید
22/2/1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید حکیم شاہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


