| 88443 | نکاح کا بیان | جہیز،مہر اور گھریلو سامان کا بیان |
سوال
والد صاحب مالدار ہوں، لیکن لڑکا غریب ہو، یعنی کام کاج نہ کرتا ہو ، ابھی یونیورسٹی یا مدرسہ میں پڑھ رہا ہو، (البتہ مستقبل میں کام کے حوالے سے سنجیدہ ہو) اور شادی نہ کرنے پر گناہ میں مبتلا ہونے کا خطرہ ہو ، جبکہ والد کا موقف یہ ہے کہ میں آپ کی شادی کے اخراجات نہیں برداشت کروں گا، خصوصا مہر اور بعد میں نفقہ یا آپ کی اولاد و غیرہ کے اخراجات میں برداشت نہیں کروں گا، اگر آپ شادی کرنا چاہتے ہیں تو پڑھائی چھوڑ کر کوئی کام کرو، پھر مجھے آپ کی شادی سے کوئی مسئلہ نہیں۔ اس صورت میں کیا والد پر شادی کا نفقہ ، مہر اور دیگر ضروری اخراجات لازم ہوں گے ؟ اگر لازم نہیں تو والد شادی نہ کروانے پر گناہگار ہوں گے ؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اس سوال کا جواب بھی گزشتہ سوال کے جواب میں گزر چکا ہے وہ یہ کہ اگر بیٹا جسمانی طور پر مال کمانے پر قدرت رکھتا ہویعنی معذور نہ ہو تو اصولی طور پر بلوغت کے بعد والد کے ذمہ بیٹے کے کسی قسم کے اخراجات برداشت کرنا لازم نہیں، کیونکہ شریعت نے ہربالغ مرد کا خرچہ اسی کی ذات کے ذمہ واجب کیا ہے، البتہ بیٹے کے تعلیم حاصل کرنے کی صورت میں باپ کا اخلاقی فريضہ ہے کہ وہ بیٹے کو گناہ سے بچانے کے لیے اپنی استطاعت کی حدتک نکاح اور پھر اس کے بعد تعلیم مکمل ہونے تک اس کی بیوی کے اخراجات برداشت کرتے رہیں تو اللہ تعالیٰ ان کو بہت بڑا اجروثواب عطا فرمائیں گے۔ نیز اگر بیٹا دینی تعلیم کے حصول کے لیے کسی مدرسہ میں زیر تعلیم ہو اور اس کو مال کمانے کی فرصت نہ ہو تو ایسی صورت میں فقہائے کرام رحمہم اللہ نے بالغ بیٹے کا خرچ بھی باپ کے ذمہ واجب کیا ہے، بشرطیکہ والد میں خرچ اٹھانے کی استطاعت موجود ہو۔کیونکہ دینی علم کا حصول فرض کفایہ ہے، جس کا حصول ایک شرعی تقاضا ہے اور شریعت کے حکم کی تعمیل میں مصروف بیٹے کاخرچ والد کو اٹھانا چاہیے، لہذا ایسی صورت میں بیٹے کی شادی کے مناسب اخراجات مالدار والد کے لے برداشت کرنا بدرجہٴ اولیٰ اخلاقی فريضہ کے تحت داخل ہو گا۔
حوالہ جات
الفتاوی الهندیة: (الباب السابع عشر في النفقات، الفصل الرابع في نفقة الأولاد، ج: 1، صفحہ: 562 و563، ط: دارالفکر)
"الذكور من الأولاد إذا بلغوا حد الكسب، ولم يبلغوا في أنفسهم يدفعهم الأب إلى عمل ليكسبوا، أو يؤاجرهم وينفق عليهم من أجرتهم وكسبهم، وأما الإناث فليس للأب أن يؤاجرهن في عمل، أو خدمة كذا في الخلاصة...... وقال الإمام الحلواني: إذا كان الابن من أبناء الكرام، ولا يستأجره الناس فهو عاجز، وكذا طلبة العلم إذا كانوا عاجزين عن الكسب لا يهتدون إليه لا تسقط نفقتهم عن آبائهم إذا كانوا مشتغلين بالعلوم الشرعية لا
بالخلافيات بالعلوم الشرعية لا بالخلافيات الركيكة وهذيان الفلاسفة، ولهم رشد، وإلا لا تجب كذا في الوجيز للكردري ونفقة الإناث واجبة مطلقا على الآباء ما لم يتزوجن إذا لم يكن لهن مال كذا في الخلاصة".
المحيط البرهاني في الفقه النعماني (3/ 571) الناشر: دار الكتب العلمية، بيروت:
وأما الذكور من الأولاد إذا بلغوا أحد الكسب ولم يبلغوا في أنفسهم، فأراد الأب أن يشغلهم في عمل ليكسبواوينفق عليهم من ذلك فله ذلك. وكذلك لو أراد الأب أن يؤاجره في عمل أو حرفة فله ذلك؛ لأن فيه منفعة للصغير؛ لأن يتعلم الكسب. أما قبل أن يتعلم أو بعدما تعلم ولكنه لا يحسن العمل فنفقته على الأب؛ لأنه إذا كان لا يحسن العمل لا يستعمل في الأعمال غالبا وظاهرا، فكأنه لم يتعلم أصلا.
وأما إذاكان الولد من الإناث فليس للأب أن يؤاجرها في عمل أو حرفة لأن المستأجر لحلاوتها وذلك منهي في الشرع، ثم في الذكور إذا أشغلهم في عمل واكتسبوا أموالا فالأب يأخذ كسبهم وينفق عليهم من كسبهم؛ لأن ذلك ملكهم، ونفقة الولد في ماله إذا كان له مال وما فضل من نفقتها فالأب يحفظ ذلك عليهم إلى وقت بلوغهم كسائر أموالهم.
فإن كان الأب مبذرا لا يؤمر على ذلك، فالقاضي يخرج ذلك من يده ويجعله في يد أمين ليحفظه لهم، فإذا بلغوا سلم إليهم، وهذا لا يختص بهذا المال، بل هذا الحكم في جميع أموال الصبيان.
محمد نعمان خالد
دارالافتاء جامعۃ الرشیدکراچی
22/صفرالخیر1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد نعمان خالد | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


