| 88486 | جائز و ناجائزامور کا بیان | جائز و ناجائز کے متفرق مسائل |
سوال
سی پی فنڈ میں ہم سے مثلاً 5000 روپے کٹتے ہیں اور 10000 روپے ملتے ہیں، یہ درست ہے یا نہیں؟بعض بینک مثلاً نیشنل بینک،الائیڈ بینک وغیرہ والے یہ کہہ رہے ہیں کہ یہ سی پی فنڈ کی رقم ہمیں ٹرانسفر کردیں، ہم اسلامی شرح کے مطابق اس کو کاروبار میں لگائیں گے، پھر یہ ہوگا کہ جو رقم سی پی فنڈ کی ملے گی، وہ نیشنل بینک میں جائے گی۔سی پی فنڈ اور اس کے متعلق فتوی مطلوب ہے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
سب سے پہلے سی پی فنڈ کا ضروری تعارف اورمذکورہ فنڈ سے متعلق پالیسی کی چند شقیں ملاحظہ فرمائیں؛
سی پی فنڈ (Contributory Provident/Pension Fund)
خیبر پختون خواہ کنٹریبیوٹری پراویڈنٹ فنڈ رولز 2022 (The Khyber Pakhtunkhwa Contributory Provident Fund Rules, 2022) کے مطابق؛
" کنٹری بیوٹری پروویڈنٹ فنڈ (Contributory Provident/Pension Fund) سے مراد وہ متعین حصہ پر مبنی پنشن اسکیم ہے،جو یا تو روایتی (conventional) پنشن فنڈ کے طور پرہو یا شریعت کے مطابق (Shariah compliant) فنڈکے طور پر ہو"، جیسا کہ ان سے متعلق قواعد میں متعین کیا گیا ہے۔
"اس اسکیم میں آجر (employer) اور ملازم (employee) دونوں، پہلے شیڈول (First Schedule) [دس فیصد ملازم کی تنخواہ میں سے اور بارہ فیصد ادارے کی طرف سے]کے مطابق پنشن اکاؤنٹ میں حصہ ڈالتے ہیں۔ یہ جمع شدہ رقم ملازم کی ریٹائرمنٹ تک سرمایہ کاری میں لگی رہتی ہے، اور ریٹائرمنٹ کے وقت پنشن اکاؤنٹ میں موجود مجموعی رقم یا تو مکمل طور پر نکلوالی جاتی ہے یا مزید سرمایہ کاری کی جاتی ہے تاکہ ریٹائرمنٹ کے بعدبھی ماہانہ آمدن حاصل کی جا سکے"۔
ایک ملازم:
(الف) لازمی کنٹریبیوٹری پراویڈنٹ فنڈ کے مطابق اپنا حصہ (contribution) ادا کرے گا؛
(ب) اگر وہ لازمی حصے کے علاوہ اختیاری حصہ بھی دینا چاہے، تو اپنی اختیاری شرحِ شرکت (optional contribution rate) متعلقہ اکاؤنٹ آفس کے ذریعے پنشن آفس/سیل کو مطلع کرے گا، جیسا کہ فرسٹ شیڈیول میں درج ہے؛
(ج) کنٹریبیوٹری پراویڈنٹ فنڈ کے لیے اہل قرار پانے کی تاریخ سے اپنے پنشن اکاؤنٹ کے بیلنس کا حق دار ہوگا، ان قواعد کے مطابق، سوائے اُن صورتوں کے جو والنٹری پنشن سسٹم رولز 2005 اور ان قواعد میں مستثنیٰ کی گئی ہوں۔
(د) جیسے ہی ممکن ہو، اپنی پسند کے پنشن فنڈ مینیجر کے ساتھ ایک پنشن اکاؤنٹ کھولے گا، اور پنشن آفس/سیل کو اس مقصد کے لیے متعین کردہ فارم پر ضروری معلومات فراہم کرے گا، جن میں شامل ہوں گے:
(i) روایتی فنڈ (Conventional Fund) یا شریعت کے مطابق فنڈ (Shariah Compliant Fund) میں سے کسی ایک کا انتخاب؛ اور
(ii) کنٹریبیوٹری پروویڈنٹ فنڈ کے ذیلی فنڈز میں اپنی پنشن اکاؤنٹ میں کی جانے والی رقم کی تقسیم (allocation) کے لیے اپنی تقسیم کی پالیسی (allocation policy)، بشرطیکہ یہ دوسری، شیڈیول میں دی گئی، حد بندیوں کے مطابق ہو؛………..
(ہ) روایتی فنڈ سے شریعت کے مطابق فنڈ یا اس کے برعکس تبدیلی کا، نیز ایک پنشن فنڈ مینیجر سے دوسرے پنشن فنڈ مینیجر میں منتقل ہونے کا اختیار رکھے گا، جیسا کہ والنٹری پنشن سسٹم رولز، 2005 میں درج ہے……
پالیسی میں ذکر کردہ درج بالا تفصیل کی روشنی میں چند باتیں واضح ہوئیں؛
(1)ملازم کی تنخواہ میں سے سی پی فنڈ میں شامل کی جانے والی رقم کی کٹوتی جبراً ہے،یعنی تنخواہ میں سےیہ کٹوتی نہ کروانے کا ملازم کو اختیار نہیں ہے،البتہ جبری کٹوتی کے علاوہ مزید اختیاری کٹوتی کااختیار بھی حاصل ہے۔
(2)دوسری بات یہ معلوم ہوئی کہ ملازم کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ اپنی مرضی سے اس رقم کی سرمایہ کاری کے لیے فنڈ متعین کرسکتا ہے،یعنی یہ اختیار ملازم کا ہے کہ وہ چاہے تو شریعہ کمپلائنٹ فنڈ میں سرمایہ کاری کا انتخاب کرے اور چاہے تو کنوینشنل یعنی مروجہ غیر شرعی فنڈ میں سرمایہ کاری کرے۔
(3) تیسری بات یہ معلوم ہوئی کہ بالفرض اگر وہ کنوینشنل یعنی مروجہ غیر شرعی فنڈ کا انتخاب کرچکاہے تب بھی وہ اپنا انتخاب بدلتے ہوئے کنوینشنل کے بجائےشریعہ کمپلائنٹ فنڈ کا انتخاب کرسکتا ہے وغیرہ
مذکورہ تفصیل کی روشنی میں آپ کے سوال کا تفصیلی جواب یہ ہے کہ؛
(1)چونکہ ملازم کو سرمایہ کاری کے لیے فنڈ کے انتخاب کا اختیار دیا گیا ہے ،لہٰذا اپنے اختیار سے کنوینشنل یعنی مروجہ غیر شرعی فنڈ کا انتخاب کرنا ملازم کے لیے جائز نہیں ہے۔
(2)ملازم اگر کنوینشنل یعنی مروجہ غیر شرعی فنڈ کا انتخاب کرچکا ہے تو اسے تبدیل کرواکر شریعہ کمپلائنٹ فنڈ کا انتخاب کرنا ضروری ہے۔
(3)ملازم کی تنخواہ میں سے کی جانے والی کٹوتی کے بقدر رقم اور حکومت کے متعلقہ ادارے کی طرف سے شامل کی جانے والی رقم کے مجموعے کے بقدر لینا،ملازم کے لیے بلاشبہ جائز ہے،اس میں کوئی حرج نہیں۔
(4)ملازم کی تنخواہ میں سے کی جانے والی کٹوتی اور ادارے کی طرف سے شامل کی جانے والی رقم کے علاوہ اضافی رقم کا حکم یہ ہے کہ اگر مذکورہ دونوں رقم کے مجموعے کو شریعہ کمپلائنٹ فنڈ میں رکھا گیا تھا تو اس پر ملنے والا اضافہ وصول کرنا بھی بلاشبہ جائز ہے۔مثلاً دس ہزار روپے کی کٹوتی ملازم کی تنخواہ میں سے کی گئی اور بارہ ہزار روپے ادارے نے اپنی طرف سے جمع کروائے تھے،پھر اس کل رقم یعنی بائیس ہزار روپے پر آٹھ ہزار کا نفع جمع کرکے تیس ہزار روپے ملازم کو دیے گئے تو یہ تیس ہزار مکمل وصول کرنا ملازم کے لیےبلاشبہ جائز ہے،بشرطیکہ یہ رقم شریعہ کمپلائنٹ فنڈ میں رکھوائی گئی ہو۔
(5)رہی بات اس صورت کی کہ اگر مذکورہ دونوں رقم کے مجموعے کو کنوینشنل یعنی مروجہ غیر شرعی فنڈ میں رکھوایا جائے اور پھر جمع شدہ رقم کے علاوہ اضافے کے ساتھ ملازم کو دیا جائے تو اس کا حکم کیا ہوگا؟اس حوالے سے اصولی جواب یہ ہے کہ ادارے کی طرف سے ملازمین کے لیے سی پی فنڈ کی جو سہولت فراہم کی جاتی ہے ، جس میں ملازمین کی تنخواہ سےجبراًرقم کاٹ کر اسے کسی فنڈ میں انویسٹ کیا جاتا ہے،اس رقم کو مروجہ غیر شرعی فنڈ میں انویسٹ کرنا جائز نہیں ہے،البتہ اگر غفلت کی وجہ سے ایسا کرلیا توسال کے بعد یا ملازمت ختم ہونے کے بعد کٹوتی کی گئی رقم اور ادارے کی طرف سے ملائی گئی رقم کے علاوہ،جو اضافی رقم ساتھ دی جاتی ہے،وہ اضافی رقم سود نہیں ہے ،(کیوں کہ احسن الفتاوی کے مطابق کل اضافات اصل تنخواہ میں شمار ہوکر سب کا مجموعہ ابتداء عقد ہی سے بدل عمل ہے)لہٰذااس اضافےکو لینا اور استعمال میں لانا جائز ہے۔
(6)البتہ ملازم اگر اپنے اختیار سے کٹوتی کروائےتو ایسی صورت میں اختیاری طور پر کٹوتی کی گئی رقم اور ادارے کی طرف سے ملائی گئی رقم کے علاوہ، جو اضافی رقم دی جاتی ہے،اس اضافی رقم سے اجتناب کرے، کیوں کہ اس میں تشبہ بالربا بھی ہے اور سودخوری کا ذریعہ بنا لینے کا خطرہ بھی،لہٰذا اس اضافے کو وصول ہی نہ کرے یا وصول کرکے صدقہ کردے ۔
نوٹ:ادارہ کوشش کرے کہ نان شریعہ کمپلائنٹ فنڈ کا اختیار ختم کردے اور صرف شریعہ کملائنٹ فنڈ ہی میں انویسٹ کرے،اگر ادارہ ایسا نہیں کرتا تو چونکہ ملازمین کے پاس شریعہ کمپلائنٹ فنڈ کومنتخب کرنے کا اختیار حاصل ہے،لہٰذا ملازمین شریعہ کمپلائنٹ فنڈ ہی کا انتخاب کریں۔
حوالہ جات
صحیح فقہ السنۃ وأدلتہ و توضیح مذاھب الأئمۃ (4/304)
لیس کل زیادۃ ربا فی الشرع، ولیس کل زیادۃ فی بیع ربا.
وفی البحر الرائق، دارالكتاب الاسلامي (7/ 300)
(قوله بل بالتعجيل أو بشرطه أو بالاستيفاء أوبالتمكن) يعني لا يملك الأجرة إلابواحد من هذه الأربعة والمراد أنه لا يستحقها المؤجر إلا بذلك كما أشار إليه القدوري في مختصره. لأنها لو كانت دينا لا يقال أنه ملكه المؤجر قبل قبضه وإذا استحقها المؤجر قبل قبضها فله المطالبة بها وحبس المستأجر عليها وحبس العين عنه وله حق الفسخ إن لم يعجل له المستأجر كذا في المحيط لكن ليس له بيعها قبل قبضها.
وفی الفتاوى الهندية (4/ 413)
ثم الأجرة تستحق بأحد معان ثلاثة إما بشرط التعجيل أو بالتعجيل أو باستيفاء المعقود عليه فإذا وجد أحد هذه الأشياء الثلاثة فإنه يملكها، كذا في شرح الطحاوي. وكما يجب الأجر باستيفاء المنافع يجب بالتمكن من استيفاء المنافع إذا كانت الإجارة صحيحة حتى إن المستأجر دارا أو حانوتا مدة معلومة ولم يسكن فيها في تلك المدة مع تمكنه من ذلك تجب الأجرة، كذا في المحيط.
محمد حمزہ سلیمان
دارالافتا ء،جامعۃالرشید ،کراچی
05.ربیع الاول1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد حمزہ سلیمان بن محمد سلیمان | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


