| 88518 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
والد صاحب کا ایک مکان ساڑھے چھ سو فٹ کے رقبہ پر ہے،ہمارے نانا کا کوٹری میں ہوٹل تھا،جب انہوں نے ہوٹل بند کیا تو والد صاحب نے نانا کے ہوٹل کا سامان اپنے ہوٹل کے لئے لے لیا اور نانا کو رہائش کے لئے یہ مکان دے دیا،بعد میں نانا حیدرآباد شفٹ ہوگئے،بڑے ماموں اپنی فیملی کے ساتھ لمبے عرصے تک اس مکان میں رہائش پذیر رہے،پھر وہ بھی کراچی شفٹ ہوگئے،چھوٹے ماموں کی رائے یہ تھی کہ اب اس مکان کو مدرسہ کے لئے استعمال کیا جائے،لیکن ہمارے ایک بھائی مولوی محمد حسین مرحوم نے اس پلاٹ پر دوسرے بھائی عبداللہ کے ساتھ مل کر پہلی تعمیر گراکر از سر نو تعمیر کروائی،اب یہ دونوں بھائی اس گھر میں رہائش پذیر ہیں،اس مکان کی تقسیم کیسے ہوگی؟مکمل مکان کی قیمت سب ورثا میں تقسیم ہوگی؟ یا پلاٹ کی رقم تقسیم ہوگی؟ کیونکہ پلاٹ پر نئی تعمیر صرف دو بھائیوں نے ذاتی ملکیت سے کی ہے۔
تنقیح:سائل نے وضاحت کی ہے کہ ہوٹل بندکرنے والا معاملہ آج سے تقریبا چالیس پینتالیس سال قبل کا ہے،نانا نے والد صاحب کو ہوٹل کا سامان بھائی بندی میں دیا تھا بغیر کسی عوض کے،البتہ جب نانا کوٹری سے ماتلی شفٹ ہوئے تو ان کے پاس رہائش کے لئے مناسب جگہ نہیں تھی،جس کی بناء پر سائل کے والد نے انہیں اپنے اس پلاٹ میں رہائش کی سہولت دی تھی،یہ مکان ہوٹل کے سامان کے عوض انہیں نہیں دیا تھا،کیونکہ ان دونوں چیزوں کا آپس میں کوئی تقابل ہی نہیں اور بعد میں نانا نے مکان چھوڑ بھی دیا تھا۔
اس معاملے کے حوالے سےسائل کے نانا کے بیٹوں کا موقف بھی یہی ہے جو ان کے ساتھ کاروبار کے معاملات دیکھا کرتے تھے کہ یہ مکان ہوٹل کے سامان کے عوض نانا کو نہیں دیا گیا تھا،بلکہ صرف رہائش کے لئے دیا گیا تھا،یہی وجہ ہے کہ جب بھائیوں نے ماموں کی اس جگہ کو مدرسہ کے لئے وقف کرنے کی رائے برعکس اسے تعمیر کرکے رہائش اختیار کرنے کا فیصلہ کیا تو ماموں کی جانب سے کو اعتراض نہیں کیا گیا۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
مذکورہ صورت میں ساڑھے چھ سو فٹ کے رقبے پر مشتمل پلاٹ تو تمام ورثا کی مشترکہ ملکیت ہے،البتہ دوبھائیوں کی جانب سے اس پر کی جانے والی تعمیر ان کی ذاتی ملکیت ہے۔
چونکہ اب تمام ورثا اس مکان کو فروخت کرکے اس کی قیمت تقسیم کرنا چاہتے ہیں تواس کا بہتر طریقہ یہ ہے کہ غیر جانبدار ماہرینِ سے بھائیوں کی جانب سے کی جانے والی تعمیرات سمیت مذکورہ جگہ کی کل قیمت بھی لگوالیں اور بھائیوں نے اس پلاٹ پر جو تعمیرات کی ہیں ان کے بغیر بھی اس جگہ کی قیمت لگوالیں،پھر اس جگہ کی کل قیمت سے دونوں قیمتوں میں جو فرق ہووہ ان بھائیوں کوجنہوں تعمیرات کی ہیں ان کی تعمیرات کے تناسب سے دے دیا جائے اور بقیہ رقم تمام ورثا میں ان کےشرعی حصوں کے تناسب سے تقسیم کردی جائے۔
حوالہ جات
"درر الحكام في شرح مجلة الأحكام "(3/ 315):
"الاحتمال الثالث : إذا عمر أحد الشريكين المال المشترك بإذن الشريك الآخر أي أن تكون التعميرات الواقعة للمعمر وملكا له فتكون التعميرات المذكورة ملكا للمعمر ويكون الشريك الآخر قد أعار حصته لشريكه. انظر المادة (831) وشرح المادة (906)".
محمد طارق
دارالافتاءجامعۃالرشید
08/ربیع الاول1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد طارق غرفی | مفتیان | محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


