03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
کیا حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نےلعنت فرمائی ہے؟
88707ایمان وعقائداسلامی فرقوں کابیان

سوال

 (چوتھی  روایت پیش کرتے ہوئے کہا کہ )اور ایک موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  نےسازش  کےانکشاف میں فرمایا تھا  لعن اللہ الراکب والقائد والسائق امام بلاذری  فتوح البلدان  اورانساب الاشراف کےمصنف نےا لانساب میں لکھا  ہے کہ یہ حدیث صحیح ہے،  صحاح میں نقل کی گئی ،لیکن نام نقل نہیں کئے گئے۔ امام بلاذری نے ناموں کی صراحت کے ساتھ الانساب میں یہ روایت نقل کی ہےکہ یہ روایت حضرت حسن سے،حضرت براء بن عازب سے حضرت سفینہ سے حضرت عبداللہ بن عمرو سے ، اورحضرت مہاجر بن قنفذ سے منقول ہے اور سارے طرق صحیح ہیں،کہ  سوار حضرت ابو سفیان تھے اورپیچھے معاویہ اور آگے انکے بھائی عتبہ تھے،یہ صراحت انساب الاشراف  میں علامہ بلاذری نےکی ہے جو ثقہ ہیں اور اس حدیث کی تصحیح کی گئی ہے۔

 سؤال: کیا یہ روایت اور واقعہ صحیح اور ثابت ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

جواب سے پہلےکتاب ا نساب الاشراف  سےاصل روایت نقل کی جاتی ہے، تاکہ جواب سمجھنے میں آسانی ہو۔

أنساب الأشراف - (ج 2 / ص 121):

حدثنا خلف حدثنا عبد الوارث بن سعيد بن جمهان عن سفينة مولى أم سلمة أن النبي صلى الله عليه وسلم كان جالساً فمر أبو سفيان على بعير ومعه معاوية وأخ له أحدهما يوقود البعير والآخر يسوقه، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : لعن الله الحامل والمحمول والقائد والسائق "

پہلی بات تو یہ  ہےکہ اس روایت کا متداول کتب  ٍصحاح سمیت حدیث کی کسی مستند   کتاب میں کوئی وجود نہیں،یہ صرف اور صرف تاریخ  کی بعض کتابوں میں دستیاب روایت  ہے جن میں ایک تو یہی انساب الاشراف  علامہ بلاذری  متوفی ۲۷۹ھ  کی تالیف ہے جس میں یہ روایت سند کے ساتھ  مذکور ہےاور دوسری تاریخ طبری ہے  جس میں یہ روایت بغیر سند کے مذکور ہے۔

دوسری بات یہ  ہےکہ  انساب کے تمام نسخوں میں اس روایت کی سند میں عبد الوارث بن سعيد بن جمهان کا ذکر ہے، جبکہ یہ غلط ہے، اصل میں یہ عبد الوارث بن سعيد عن سعيد بن جمهان ہے۔

فتح الباب في الكنى والألقاب لابن منده - (ج 1 / ص 189):

 أبو حفص سعيد بن جمهان سمع سفينة مولى ق أ النبي {صلى الله عليه وسلم }روى عنه عبد الوارث بن سعيد۔

البتہ اس  روایت سے درج ذیل وجوہ کی بناء پر عدالت معاویہ پر اعتراض درست نہیں:

۱۔یہ ایک تاریخی روایت ہے اور تاریخی روایت کو حدیث   اور دین کے ایک ماخذکے طورپر  بیان کرنا ،سمجھنا درست نہیں۔

۲۔اس تاریخی کتاب کو لکھنے والے بھی محض ایک مؤرخ تھے،( الاعلام للزرکلی)،لہذا غیر محدث کی روایت کوروایت حدیث کا درجہ حاصل نہیں۔

۳۔ اس روایت کے متن میں بھی اضطراب ہے، چنانچہ    انساب کی روایت  میں  حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ  کے ساتھ دوسرے ان کے بھائی  کا ذکر ہے، جبکہ طبری کی روایت میں ان کے ساتھ ان کے بیٹے یزید کا ذکر ہے ۔

۴۔ طبری کی روایت معلول بھی ہے کہ اس میں  معاویہ کے ساتھ ان کے بیٹے یزید کو شامل کیا گیا ہے ،جبکہ  حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی شادی دور فاروقی میں ہوئی اور یزید کی ولادت دور عثمانی میں ہوئی ہے، لہذا عہد نبوی میں ان کا اپنے والد کے ساتھ ہونے کا کیا معنی؟

۵۔انساب اور طبری کی  کی روایت میں ایک مشترکہ علت یہ بھی ہے کہ اس میں لعن علی المعین ہے ،جبکہ یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کے بارے میں صحاح  سے ثابت آپ کے اسوہ  مبارکہ کے منافی ومعارض  ہے۔

۶۔ انساب کی روایت کی ایک اہم علت یہ بھی ہے کہ اس میں حامل سواری کے جانور پر بھی لعنت مذکور ہے، حالانکہ  سواری کے جانور پر لعن کا کوئی  جواز ہی نہیں،بلکہ آپ صلی اللہ علیہ  وسلم کے شان کریمانہ ورحیمانہ  کے قطعی منافی ہے،لہذا یہ  امربھی دلیل بین ہے کہ اس حدیث کی وضع میں روافض کی حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے بغض وعداوت اور غیظ وغضب  کارفرماہے ورنہ سواری کے لعن کا  کیا معنی؟

واضح رہے کہ انساب اور طبری کے علاوہ  کتب حدیث  میں سےمسند بزار اورطبرانی  وغیرہ میں  بھی اس کی ہم معنی بعض روایات ملتی ہیں، مثلا:

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد . محقق - (ج 1 / ص 135):

وعن سفينة أن النبي صلى الله عليه وسلم كان جالساً فمر رجل على بعير وبين يديه قائد وخلفه سائق فقال: "لعن الله القائد والسائق والراكب".رواه البزار ورجاله ثقات.

ولکن اقول قال الھیثمی :  فی مجمع الزوائد (ج 15 / ص 359):وشيخ البزار السكن بن سعيد ولم أعرفه ،

438-وعن المهاجر بن قنفذ قال: رأى رسول الله صلى الله عليه وسلم ثلاثة على بعير فقال:"الثالث ملعون".رواه الطبراني في الكبير ورجاله ثقات.

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد . محقق - (ج 5 / ص 293):

وعن نصر بن عاصم الليثي عن أبيه قال: دخلت مسجد المدينة فإذا الناس يقولون: نعوذ بالله من غضب الله وغضب رسوله قال: قلت: ماذا؟ قالوا: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يخطب على منبره فقام رجل فأخذ بيد ابنه فأخرجه من المسجد،فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم:"لعن الله القائد [والمقود. ويل لهذه يوماً] - لهذه الأمة - من فلان ذي الأستاه".رواه الطبراني ورجاله ثقات.

 لیکن  ایک تو ان میں حضرت معاویہ   رضی اللہ عنہ  وغیرہ کا ذکر نہیں  ،دوسرے ان کی  سند نہایت کمزور ہے،چنانچہ مسند بزار کی اس روایت میں شیخ بزار   سکن بن سعیدبقول علامہ ہیثمی رحمہ اللہ تعالی  غیر معروف بلکہ مجہول ہےاور  طبرانی کی بعض روایات کی سند میں انقطاع کے علاوہ   مجاہیل ، ضعفاءاور متروک الحدیث راوی موجود ہیں، (تفصیل کے لیے سل السنان ملاحظہ ہو۔)لہذا علامہ  ہیثمی رحمہ اللہ تعالی  کا رجالہ  ثقات کہنا  ان روایات کی صحیح  ہونےکی دلیل نہیں بن سکتا،لہذا اس روایت  کو صحاح کی طرف منسوب کرنا یا اس کی تصحیح کی نسبت مؤلف  انساب سمیت کسی کی طرف کرنا کھلا جھوٹ اور تلبیس ہے،بلکہ غالبا یہ ان روایات میں سے ہے جو ذم معاویہ رضی اللہ عنہ میں گھڑی گئی ہیں،جیساکہ منہاج السنہ میں علامہ ابن تیمیہ  رحمہ اللہ تعالی نے علامہ ابن جوزی  رحمہ اللہ تعالی  کے حوالے سے اس طرح نقل بھی فرمایا ہے،اسی طرح اس قسم کی روایات کو امام بخاری رحمہ اللہ تعالی نے تاریخ کبیر میں اور امام ترمذی  رحمہ اللہ تعالی نے کتاب العلل میں  غریب قرار دیا ہے۔(مزید تفصیل کےلیےکتاب: أحاديث يحتج بها الشيعة - (ج 1 / ص 392) اور سل السنان في الذب عن معاوية بن أبي سفيان - (ج 1 / ص 75) ملاحظہ ہو۔)

نیز اس جیسی غیر مستند تاریخی  روایات کو فی الجملہ ثابت مان بھی لیا جائے توان کے مقابلےایسی تاریخی  روایات  فضیلت معاویہ رضی اللہ عنہ  میں بھی موجود ہیں،جو ان روایات کے معارض  ہونے کے باعث بھی ان کو ناقابل اعتبار بناتی ہیں۔لما تقرر انہ اذا تعارضا تساقطا

چنانچہ واضح رہے کہ  علامہ بلاذری رحمہ اللہ تعالی نے درج ذیل مرفوع روایات بھی نقل فرمائی ہیں۔جو فضیلت و مدح معاویہ رضی اللہ عنہ میں نص صریح اوردیگر صحیح روایات کی تایید کی بناء پرفی الجملہ صحیح بھی ہیں،جبکہ  اسکالر موصوف نے ان سے صرف نظر کر کے علمی خیانت کا ثبوت دیا ہے۔

أنساب الأشراف - (ج 2 / ص 121):

حدثني علي بن إبراهيم السواق حدثنا علي بن حيان حدثنا محمد بن عبد العزيز بن أبان حدثنا اسماعيل بن عياش عن يحيى بن عبد الله عن أبيه عن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : أتاني جبريل فقال: يا محمد ائتمنني الله على وحيه وائتمنك وائتمن معاوية بن أبي سفيان.

وحدثني علي بن إبراهيم حدثنا علي بن حيان حدثنا إسحاق بن وهب الواسطي حدثنا عبد الملك بن يزيد الواسطي عن عبد الرحمن بن عبد الله بن دينار عن ابن عمر قال: أهدى جعفر بن أبي طالب لرسول الله صلى الله عليه وسلم أربع سفرجلات فأعطى معاوية منهن ثلاثاً وقال: القني بهن في الجنة.

حدثني علي بن إبراهيم عن علي بن حيان عن أبي داود الطيالسي عن حماد بن سلمة عن ثابت عن أبي رافع عن أبي هريرة قال: دخلت على رسول الله صلى الله عليه وسلم ومعاوية يصب على يديه الماء، فلما فرغ من وضوئه أخذ كفا من ماء فضرب به وجه معاوية ثم قال: يا بن أبي سفيان كأني بك في الجنة.

حدثني علي بن إبراهيم حدثنا داود بن عبد الله الترمذي عن حماد بن منصور المنقري عن عبد الله بن كثير عن هشام بن عروة عن أبيه عن عائشة قالت: أتيت النبي صلى الله عليه وسلم في منزل أم حبيبة في يومها، فدق معاوية الباب فأذن له فدخل وعل أذنه قلم لم يمط به، فقال النبي صلى الله عليه وسلم : ما هذا على أذنك؟ قال: قلم أعددته لله ولرسوله، فقال النبي صلى الله عليه وسلم : أما إنه جزاك الله عن نبيك خيراً، والله ما استكتبتك إلا بوحي من السماء " .

 اسکالر موصوف نے جن صحابہ کرام کی نسبت یہ روایت منقول ہونے کا دعوی کیا ہے،وہ دعوی سراسر باطل ہے، اس لیے کہ  اگریہ  روایت واقعۃ ان صحابہ کرام سے منقول ہوتی تو وہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ  دوستانہ،  محبت واحترام  والا تعلق قائم نہ رکھتے اور نہ ان کی شان میں تعریفی کلمات ادا فرماتے جبکہ حضرت حسن رضی اللہ عنہ  نے آپ سے صلح کے بعد آپ سے بیعت بھی کی اور آپ سے بڑی بڑی مالی امداد وصول فرماتے رہے،(احسن الفتاوی:۶،ص۱۳) اسی طرح حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے تھےکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد میں نے معاویہ سے بڑا  ہوشیارسردار نہیں دیکھا  ،کسی نے پوچھا، کیا  ابو بکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ بھی ایسے نہ تھے؟ انہوں  جواب میں کہا کہ بیشک وہ دونوں ان سے بہتر اور افضل ضرور تھے ،لیکن  میں نے آپ علیہ السلام کےبعد سرداری میں بڑا ماہر  ان سے کسی کو نہیں پایا ۔ اسی طرح حضرت عمرو بن عاص  رضی اللہ عنہ آپ کے لشکر میں شامل تھے اور آپ کواے امیر المؤمنین   کہہ کر پکارتےتھے۔ وغیرہ وغیرہ باقی ان حضرات سے منقول روایات کے بارے میں اجمالا اوپر ذکر کردیا گیا ہے، جبکہ ان کی روایات کی تفصیلی فنی   تجزیہ اور تحقیق کے لیے سل السنان  کتاب ملاحظہ  کی جاسکتی ہے۔

حوالہ جات

منهاج السنة النبوية في نقض كلام الشيعة والقدرية - (ج 4 / ص 216):

وأما قوله وقد روى عبد الله بن عمر قال أتيت النبي صلى الله عليه وسلم فسمعته يقول يطلع عليكم رجل يموت على غير سنتي فطلع معاوية وقام النبي صلى الله عليه وسلم خطيبا فأخذ معاوية بيد ابنه يزيد وخرج ولم يسمع الخطبة فقال النبي صلى الله عليه وسلم لعن الله القائد والمقود أي يوم يكون للأمة مع معاوية ذي الإساءة

فالجواب أن يقال أولا نحن نطالب بصحة هذا الحديث فإن الاحتجاج بالحديث لا يجوز إلا بعد ثبوته ونحن نقول هذا في مقام المناظرة وإلا فنحن نعلم قطعا أنه كذب

ويقال ثانيا هذا الحديث من الكذب الموضوع باتفاق أهل المعرفة بالحديث ولا يوجد في شيء من دواوين الحديث التي يرجع إليها في معرفة الحديث ولا له إسناد معروف وهذا المحتج به لم يذكر له إسنادا ثم من جهلہ أن يروى مثل هذا عن عبد الله بن عمر وعبد الله بن عمر كان من أبعد الناس عن ثلب الصحابة وأروى الناس لمناقبهم وقوله في مدح معاوية معروف ثابت عنه حيث يقول ما رأيت بعد رسول الله صلى الله عليه وسلم أسود من معاوية قيل له ولا أبو بكر وعمر فقال كان أبو بكر وعمر خيرامنه وما رأيت بعد رسول الله صلى الله عليه وسلم أسود من معاوية

قال أحمد بن حنبل السيد الحليم يعني معاوية وكان معاوية كريما حليما

ثم إن خطب النبي صلى الله عليه وسلم لم تكن واحدة بل كان يخطب في الجمع والأعياد والحج وغير ذلك ومعاوية وأبوه يشهدان الخطب كما يشهدها المسلمون كلهم أفتراهما في كل خطبة كانا يقومان ويمكنان من ذلك هذا قدح في النبي صلى الله عليه وسلم وفي سائر المسلمين إذ يمكنون اثنين دائما يقومات ولا يحضران الخطبة ولا الجمعه وإن كانا يشهدان كل خطبة فما بالهما يمتنعان من سماع خطبة واحدة قبل أن يتكلم بها

ثم من المعلوم من سيرة معاوية أنه كان من أحلم الناس وأصبرهم على من يؤذيه وأعظم الناس تأليفا لمن يعاديه فكيف ينفر عن رسول الله صلى الله عليه وسلم مع أنه أعظم الخلق مرتبة في الدين والدنيا وهو محتاج إليه في كل أموره فكيف لا يصبر على سماع كلامه وهو بعد الملك كان يسمع كلام من يسبه في وجهه فلماذا لا يسمع كلام النبي صلى الله عليه وسلم وكيف يتخذ النبي صلى الله عليه وسلم كاتبا من هذه حاله

وقوله إنه أخذ بيد ابنه زيدا أو يزيد فمعاوية لم يكن له ابن اسمه زيد وما يزيد ابنه الذي تولى بعده الملك وجرى في خلافته ما جرى فإنما ولد في خلافة عثمان باتفاق أهل العلم ولم يكن لمعاوية ولد عل عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم

قال الحافظ أبو الفضل ابن ناصر خطب معاوية رضي الله عنه في زمن رسول الله صلى الله عليه وسلم فلم يزوج لأنه كان فقيرا وإنما تزوج في زمن عمر رضي الله عنه وولد له يزيد في زمن عثمان بن عفان رضي الله عنه سنة سبه وعشرين من الهجرة

ثم نقول ثالثا هذا الحديث يمكن معارضته بمثله من جنسه بما يدل على فضل معاوية رضي الله عنه قال الشيخ أبو الفرج بن الجوزي في كتاب الموضوعات قد تعصب قوم ممن يدعى السنة فوضعوا في فضل معاوية رضي الله عنه أحاديث ليغيظوا الرافضة وتعصب قوم من الرافضة فوضعوا في ذمة أحاديث وكلا الفريقين على الخطأ القبيح

نواب الدین

دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی

29/ربیع الاول 1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

نواب الدین

مفتیان

مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب