| 88714 | ایمان وعقائد | اسلامی فرقوں کابیان |
سوال
(بارہویں روایت پیش کرتے ہوئے کہا کہ) امام مسلم کی روایت ہے کہ لایحب علیا الا مؤمن ولایبغض علیاالا منافق اور اس (حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ) نے کثرت سے صحابہ وتابعین کا قتل کیا، تاکہ اپنی بچے کو امت پر مسلط کرسکے۔
سؤال کیا یہ واقعہ اورروایت صحیح ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
جواب سےپہلے اصل روایت ملاحظہ ہو، واضح رہے کہ سؤال میں مذکور الفاظ مسلم شریف کی روایت کے نہیں،بلکہ طبرانی کی روایت کےہیں جو راوی( مساور) کی جہالت کی وجہ سے منکر بھی ہے، اور وہ یہ ہے:
معجم الطبراني مشكولا - (ج 21 / ص 247):
حدثنا محمد بن عثمان بن أبي شيبة، ثنا واصل، ثنا ابن فضيل، عن عبد الله بن عبد الرحمن أبي نصر، عن مساور الحميري، عن أمه، عن أم سلمة، قالت: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم، يقول:لا يحب عليا إلا مؤمن، ولا يبغضه إلا منافق.
تحفة الأحوذي لمحمد المباركفوري - (ج 3 / ص 197):
قوله (هذا حديث حسن غريب) وأخرجه أحمد قال الذهبي في ترجمة المساور فيه جهالة وخبره منكر
البتہ مسلم کی روایت کے الفاظ مختلف ہیں اور وہ صحیح بھی ہے ،جو درج ذیل ہے:
صحيح مسلم للنيسابوري - (ج 1 / ص 60):
حدثنا أبو بكر بن أبى شيبة حدثنا وكيع وأبو معاوية عن الأعمش ح وحدثنا يحيى بن يحيى - واللفظ له - أخبرنا أبو معاوية عن الأعمش عن عدى بن ثابت عن زر قال قال على والذى فلق الحبة وبرأ النسمة إنه لعهد النبى الأمى -صلى الله عليه وسلم- إلى أن لا يحبنى إلا مؤمن ولا يبغضنى إلا منافق۔
لیکن اس سے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کا علی سے بغض ثابت نہیں ہوتا،بلکہ اس بات کا مدارمحض تاریخی بے سند، منگھڑت اور جھوٹی روایات پر ہے،جو قرآن مجید کے واضح اعلانرحماء بینھم کے صریح مخالف ومعارض ہونے کے علاوہ صحیح تاریخ کے بھی خلاف ہے۔
چنانچہ تکملہ فتح الملہم :ج۵،ص۱۰۴ پر البدایہ والنھایہ کے حوالے سے نقل کیا گیا ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ رونے لگے تو آپ کی زوجہ نے کہا کہ آپ زندگی میں تو ان سے لڑتے رہے اور اب رورہے ہیں تو اس پر فرمایا :تیرا ناس ہو !تجھے کچھ خبر بھی ہے کہ لوگ فضل ،فقہ اور علم سے محروم ہوگئے،نیز تاریخ طبری کے حوالے سے لکھا ہے کہ بسر بن ارطات نے حضرت معاویہ اور زید بن عمر بن خطاب کی موجودگی میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کو برا بھلا کہا تو اس پر حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے اسے ڈانٹا اور استیعاب کے حوالے سے نقل فرمایا ہے کہ اسی طرح ان کے سامنے حضرت علی رضی اللہ عنہ کا تذکرہ ہوا تو رونے لگے اور فرمانے لگے کہ اللہ تعالی ابو الحسن پر رحم فرمائے یقینا وہ ایسے ہی تھے اورایک موقع پر فرمایا کہ حضرت علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ کی وفات سے لوگ فقہ اور علم کی برکات سے محروم ہوگئے۔
باقی جو جنگ ہوئی وہ اجتہادی غلطی کی بناء پر تھی اس سے ان کے ایمان واخلاص پر انگلی نہیں اٹھائی جاسکتی، چنانچہ امام محمد نصر مروزی کی کتاب تعظیم قدر الصلاۃ کے حوالے سے حضرت علی رضی اللہ کے مختلف ومتعدد آثار مکمل سندوں کے ساتھ نقل کئے جاچکے جن میں انہوں نے حضرت معاویہ اور ان کے لشکر کے کفر اور نفاق کی واضح نفی کی ہے۔
حوالہ جات
جامع الأحاديث لعبدالرحمن السيوطي - (ج 17 / ص 47):
لا يحب عليا إلا مؤمن ولا يبغضه إلا منافق (الطبرانى عن أم سلمة)
صحيح مسلم للنيسابوري - (ج 1 / ص 60):
حدثنا أبو بكر بن أبى شيبة حدثنا وكيع وأبو معاوية عن الأعمش ح وحدثنا يحيى بن يحيى - واللفظ له - أخبرنا أبو معاوية عن الأعمش عن عدى بن ثابت عن زر قال قال على والذى فلق الحبة وبرأ النسمة إنه لعهد النبى الأمى -صلى الله عليه وسلم- إلى أن لا يحبنى إلا مؤمن ولا يبغضنى إلا منافق.
نواب الدین
دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
29/ ربیع الاول1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | نواب الدین | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


